80.3 F
Pakistan
Wednesday, June 10, 2026
HomeCrimeایرانی حملے میں گرائے گئے ہیلی کاپٹر کے عملے کو بچانے والا...

ایرانی حملے میں گرائے گئے ہیلی کاپٹر کے عملے کو بچانے والا ‘سمندری ڈرون’ کیا ہے؟

مشرقِ وسطیٰ کے سمندر میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا ہے جس نے فوجی ٹیکنالوجی کے استعمال میں ایک نئی مثال قائم کر دی ہے۔ حال ہی میں جب ایک امریکی فوجی ہیلی کاپٹر کو مار گرایا گیا، تو اس کے عملے کے دو ارکان کی جان بچانے کے لیے کسی روایتی بحری جہاز یا انسانی ریسکیو ٹیم کو نہیں بلکہ ایک بغیر پائلٹ کے چلنے والے جدید سمندری ڈرون کو استعمال کیا گیا۔ یہ تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ امریکی فوج نے سمندر میں پھنسے ہوئے اپنے اہلکاروں کو نکالنے کے لیے کسی خودکار بحری ڈرون کا استعمال کیا ہے۔ امریکی بحریہ نے بتایا کہ ریسکیو کے لیے استعمال ہونے والے اس ڈرون کا نام ”سارونک کورسیئر“ ہے، یہ تقریباً 24 فٹ لمبا خودکار سمندری جہاز ہے جو بغیر کسی عملے کے دور سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ اس کا مقصد ایسے علاقوں میں کام کرنا ہے جہاں انسانی جانوں کو خطرہ زیادہ ہو۔ امریکا گزشتہ چند برسوں سے روایتی جنگی جہازوں کے ساتھ ساتھ بغیر عملے کے چلنے والی جدید ٹیکنالوجی کو بھی اپنی دفاعی حکمت عملی کا حصہ بنا رہا ہے۔ اسی منصوبے کے تحت بحریہ کا ایک خاص یونٹ کام کر رہا ہے جسے ٹاسک فورس 59 کہا جاتا ہے۔ یہ یونٹ سال 2021 میں قائم کیا گیا تھا اور اس کا مرکز بحرین میں ہے، جہاں یہ جدید خودکار نظاموں پر کام کر رہا ہے۔ ان ڈرونز کو رواں سال مارچ کے آخر میں مشرق وسطیٰ کے پانیوں میں پہلی بار اتارا گیا تھا۔ یہ سمندری ڈرون صرف پانی کی سطح پر ہی نہیں بلکہ پانی کے اندر بھی کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے فوجی کمانڈروں کو حالات کے مطابق فیصلے کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ ان میں سے کئی خفیہ سسٹم پانی کے نیچے رہ کر کام کرتے ہیں جن کا مقصد امریکی افواج کے لیے خطرات کو کم سے کم کرنا ہے۔ یہ نگرانی، بارودی سرنگوں کی نشاندہی، دشمن کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے اور حساس علاقوں میں معلومات جمع کرنے جیسے کام انجام دیتے ہیں۔ بعض ڈرونز کو مستقبل میں براہِ راست جنگی کارروائیوں کے لیے بھی تیار کیا جا رہا ہے۔ اس قسم کی ٹیکنالوجی کو اپنانے کی بڑی وجہ اس کی کم لاگت اور تیز رفتاری ہے۔ روایتی بحری جہازوں کے مقابلے میں ان پر خرچ کم آتا ہے اور یہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بہت تیزی سے ردعمل دے سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی بحریہ مستقبل میں ایسے سینکڑوں اور ہزاروں ڈرونز کو سمندروں میں تعینات کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، حالانکہ یہ ٹیکنالوجی ابھی ارتقائی مراحل میں ہے اور اسے کچھ تکنیکی اور آپریشنل چیلنجز کا سامنا بھی ہے۔ اگرچہ یہ امریکی نظام نہیں تھا، لیکن یوکرین نے بھی روس کے خلاف جنگ میں سمندری ڈرونز کا بھرپور استعمال کر کے دنیا کو ان کی طاقت کا اندازہ کروایا ہے۔ وہاں ان ڈرونز نے نہ صرف بڑے جنگی جہازوں کو نشانہ بنایا بلکہ ایک ہیلی کاپٹر کو بھی گرایا، جس نے دنیا بھر کے عسکری ماہرین کو حیران کر دیا۔ اب مشرق وسطیٰ میں پیش آنے والے اس تازہ واقعے نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی نہ صرف جنگ لڑنے بلکہ مشکل وقت میں انسانی جانیں بچانے کے لیے بھی ایک اہم اور موثر ذریعہ بن چکی ہے۔

Read full story on Aaj

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments