کشمیر تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا ہے۔ 1947 سے لیکر آج تک پاکستان کا واضح مو¿قف رہا ہے کہ کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے اس کا مستقل حل استصوابِ رائے ہے اور اس حوالے سے اقوامِ متحدہ کی قرارداد موجود ہے۔ تاہم بھارت اس حوالے سے ہٹ دھرمی سے کام لیتا رہا اور بالآخر 5 اگست 2019 کو آئین میں ترمیم کر کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کر دیا اور یوں کشمیر کی خود مختاری ہمیشہ کیلئے ختم کر کے بھارت میں شامل کر لیا۔ ظلم و جبر اور انسانیت سوز واقعات، انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور کشمیری مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا اور پھر آبادی کے تناسب کو غیر فطری طریقے سے خراب کرنے کیلیے بھارت سے ہندوو¿ں کو کشمیر میں آباد کیا گیا یوں مقامی کشمیری آبادی اور ان کا مطالبہ آزادی کمزور ہو گیا۔ آج بھی حق آزادی کا نعرہ لگانے والوں کو ظلم و جبر کا سامنا ہے، کشمیری نوجوانوں کو سر عام قتل کیا جا رہا ہے۔ 2019 میں پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت تھی اس وقت کے بزدل وزیراعظم عمران خان نے اس گھناو¿نی سازش اور کشمیریوں کے بنیادی حقوق کو سلب کرنے پر فقط بعد نمازِ جمعہ 5 منٹ کی خاموشی اختیار کونے کو کافی جانا اور یوں کشمیریوں کی امنگوں پر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے پانی پھر گیا۔ پاکستان ہی کشمیریوں کی واحد امید تھی عمران خان نیازی نے بزدلانہ کردار ادا کر کے کشمیریوں کو دنیا میں تنہا کر دیا۔ بھارت نے کشمیریوں پر ان کی اپنی زمین تنگ کر دی ہے جبکہ دوسری طرف آزاد کشمیر میں پاکستان اپنے بھائیوں کا بہترین خیال رکھ رہا ہے۔ تمام بنیادی سہولیات میسر ہیں۔ پاکستان کے دیگر علاقوں میں لاکھوں کی تعداد میں کشمیری آزادی کے ساتھ اپنے کاروبار اور ملازمت کر رہے ہیں۔ ان کو پاکستان کے شہری کے برابر حقوق حاصل ہیں۔ جبکہ کوہالہ پل کے اس پار کشمیری عوام کو وہ سہولیات بھی حاصل ہیں جو پاکستان کے شہریوں کا خواب ہیں۔ بجلی 3 روپے فی یونٹ جبکہ کوہالہ پل کے اِس پار 60 روپے فی یونٹ، کشمیر میں آٹا 2000 روپے من جبکہ پاکستان کے عوام کو 4000 سے زائد قمیت پر فی من آٹا ملتا ہے۔ کشمیری عوام پر ٹیکس کی بھی تقریباً مکمل ہی چھوٹ ہے جبکہ پاکستانی عوام کو ماسوائے سانس لینے کے ہر چیز پر ٹیکس دینا پڑتا ہے۔ کشمیر حکومت کی آمدن لگ بھگ 50 ارب ہے تاہم حکومت پاکستان اپنے کشمیری بھائیوں کو 130 ارب سے زائد فنڈز دیتی ہے۔ یوں میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ کشمیری بھائیوں کو پاکستان کے عوام اپنا خون پسینہ دے کر نازوں سے پال رہے ہیں۔ کشمیریوں کا وفاق اور صوبوں میں باقاعدہ کوٹہ موجود ہے۔ سرکاری ملازمت کی بات کی جائے تو لاکھوں کشمیری پاکستانی اداروں میں تقریباً تمام گریڈز میں موجود ہیں۔ کسی بھی طرح کشمیری بھائیوں کو پاکستانی عوام سے کم حقوق حاصل نہیں ہیں بلکہ ہر لحاظ سے یہ پاکستانی عوام سے اوپر ہی ہیں۔ پاکستان نے آزاد کشمیر کو ہمیشہ اپنی پلکوں پہ سجایا اور لاڈلے بچے کی طرح ہر جائز نا جائز بات مانی۔ کشمیر ہمارے دل کے بہت قریب ہے۔ میں اور سینئر صحافی و اینکر پرسن فرخ شہباز وڑائچ غالباً 2015 میں کیل آزاد کشمیر کے ایک نجی دورے پر گئے تھے ہم نے وہاں کافی دن گذارے اور مقامی لوگوں میں گھل مل گئے تاہم ہم نے آج سے 10 سال قبل کچھ شر پسند عناصر بھی دیکھے تھے جو پاکستان کے شدید خلاف بیانیہ بنا رہے تھے ہماری بحث و تکرار بھی ہوئی مگر ان کی تعداد اتنی نہیں تھی پاکستان سے محبت کرنے والے لوگ زیادہ تھے۔ اسی طرح کچھ علاقوں میں وال چاکنگ بھی دیکھی جو پاکستان کے خلاف ایک تحریک پیدا کرنے کی کوشش تھی پھر 2024 میں اچانک جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی صورت کچھ مانوس چہرے اس بیانیہ کی تصویر بن کر سامنے آ گئے۔ یوں پُر امن، پُر سکون، معاشی طور پر مستحکم کشمیر کو شر پسندی سے دنیا کے سامنے ایک متنازع بیانیہ کے ذریعے ایسا کشمیر پیش کرنے کی کوشش کی گئی جس سے یہ تاثر جائے کہ خدا نخواستہ آزاد کشمیر میں تو پاکستان ظلم و جبر کی داستانیں رقم کر رہا ہے۔ پاکستان کی حکومت نے انتہائی بردباری، تحمل اور برداشت کے ساتھ مٹھی بھر مفاد پرستوں کے تقریباً تمام مطالبات تسلیم کیے کیونکہ پاکستان کشمیر کے معاملے کی حساسیت سے بخوبی واقف ہے۔ اس کے بعد اس غیر سیاسی اور عوامی حمایت سے محروم چند مفاد پرستوں کے ٹولے جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے حکومت پاکستان کو باقاعدہ بلیک میل کرنا شروع کر دیا اور سوشل میڈیا پر پاکستان کے خلاف ایک منتظم تحریک پیدا کر دی۔ جب پاکستان کے اداروں نے اس معاملے کی چھان بین کی تو اس کی باگ ڈور بھارت کے خفیہ ادارے را، دبئی اور برطانیہ میں بیٹھے کچھ ایسے عناصر سے تانے بانے ملے جو پاکستان کے خلاف تھے اور را سمیت بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کے ساتھ باقاعدہ رابطے میں تھے۔ حالیہ ناجائز مطالبات کی صورت جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے جب ایک مرتبہ پھر کشمیر کو بند کرنے کی دھمکی دی حالانکہ 38 میں سے 35 مطالبات کو جیسے تیسے تسلیم بھی کر لیا گیا تھا تاہم ایک مطالبہ ایسا تھا جس کی شدت اور خواہش نے ہر ذی شعور اور محب وطن پاکستانی اور کشمیری کو سوچنے پر مجبور کر دیا کہ مہاجرین کی 12نشستوں کو بیک جنبشِ قلم ختم کر دیا جائے کیونکہ ان کے نزدیک یہ کشمیری عوام کے حق پر ڈاکہ ہے۔ ان کو کون سمجھائے کہ یہ 12 نشستیں ان کشمیریوں سے وابستہ ہیں جنہوں نے حقیقت میں قربانی دی، جن کے خاندان لٹے، جن کی عزتیں تار تار ہوئیں جنہوں نے مقبوضہ کشمیر میں اپنا سب کچھ بھارت کے ظلم و ستم کے بعد چھوڑا اور پاکستان کا رخ کیا۔ ان کشمیریوں کی قربانی کو کیسے فراموش کیا جا سکتا ہے۔ یہ 12 نشستیں کشمیر کے معاملے میں انتہائی اہم ہیں۔ یہ کشمیریوں کا حق ہے شر پسند جوائنٹ ایکشن کمیٹی کیسے یہ حق چھین سکتی ہے۔ ان 12 نشستوں کو انتظامی آرڈر کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا یہ ان شر پسند عناصر کو سمجھایا گیا مگر وہ بدستور مطالبہ کر رہے ہیں ان کو کہا گیا کہ الیکشن لڑیں اکثریت حاصل کریں اور آئین میں ترمیم کر دیں نشستیں کم کر لیں یا کوئی بھی ایسا حل تلاش کریں جو آئینی ہو۔ مگر جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے مظفرآباد بند کرنے اور کشمیر کو زمینی راستے سے پاکستان سے کاٹنے کا اعلان کیا۔ اب یہاں ایک ایسا موڑ آتا ہے جس نے واضح کر دیا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی براہ راست بھارت را اور برطانیہ میں موجود موساد سے ڈکٹیشن، فنڈز اور ہدایات لے رہی ہے۔ بھارت نے اپنے میڈیا اور سوشل میڈیا پر جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو براہ راست کوریج دینا شروع کر دی، خصوصی ٹرانسمیشن چلائی جا رہی ہے اور پاکستان کے خلاف باقاعدہ طور پر ایک تحریک شروع ہو گئی ہے۔ بھارت نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور اس کی قیادت کا بھرپور دفاع کیا اور اسے اپنی کامیابی قرار دے رہا ہے۔ واضح رہے کہ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کو بھارت براہ راست تسلیم نہیں کرتا تاہم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو بھارت میں تسلیم کیا جا رہا ہے۔ حکومت پاکستان نے بروقت کشمیری عوام کو اعتماد میں لیا، آل پارٹیز کانفرنس بلائی گئی تمام سیاسی جماعتوں نے شر پسندوں کو مسترد کیا اور ان کے مطالبات کو کشمیری عوام کی اکثریت نے مسترد کر دیا۔ 12 سیٹوں کے معاملے پر کشمیری سیاسی قیادت ایک طرف جبکہ مٹھی بھر شر پسند ایک طرف ہو گئے۔ کشمیری عوام کو جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے محاصرے سے بچانے کیلیے عملی اقدامات کیے، ان کی شر انگیزی کو دیکھتے ہوئے حکومت نے کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کی رائے سے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ اب ان کے خلاف ہر قانونی آپشن کو استعمال کرتے ہوئے کارروائی ہو گی۔ بھارت براہ راست اعلانیہ کہہ چکا ہے کہ وہ پاکستان کو بی ایل اے، ٹی ٹی پی اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی جیسی قیادت کے ذریعے کمزور کرے گا اور اندر سے ٹوڑے گا۔ اس حوالے سے راج ناتھ کا بیان موجود ہے۔ کشمیری عوام پاکستان سے محبت کرتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان نے صرف اور صرف کشمیر کے تنازع کی وجہ سے کتنی قربانیاں دیں، جنگیں لڑیں اور ثابت کیا کہ کشمیر کے فیصلے تک ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ بلوچستان کے عوام بھی بی ایل اے کے بیانیہ سے بخوبی واقف ہے اور ماہ رنگ بلوچ جیسی غدار کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن گئی ہے۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں ٹی ٹی پی کو عوام الناس نے مسترد کر دیا ہے۔ بھارت اپنی ان پراکسی کے ذریعے پاکستان میں نفاق پیدا کر کے اسے توڑنا چاہتا ہے۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اپنے اندرونی دشمن کو پہچانیں اور اسے ناکام بنائیں۔ کشمیری عوام مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم کی داستانیں پڑھیں، مہاجرین سے سنیں اور سجدہ شکر ادا کریں کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کی صورت آزاد ملک عطا کیا ہے جہاں ہماری عزتیں، مال و دولت سب محفوظ ہیں۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی، بی ایل اے، ٹی ٹی پی اور ”را“
RELATED ARTICLES



