83.8 F
Pakistan
Monday, June 8, 2026
HomeBreaking Newsتعلیمی بجٹ : پاکستان کب سیکھے گا؟

تعلیمی بجٹ : پاکستان کب سیکھے گا؟

پاکستان میں بجٹ کی آمد آمد ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بجٹ کی تیاری میں مصروف ہیں ۔ چند دن کے بعد بجٹ عوام کے سامنے ہو گا۔ عوام الناس منتظر ہیں کہ حکومتی بجٹ میں ان کے لئے تعلیم ، صحت، فلاح عامہ وغیرہ کی مد میں کتنا بجٹ اور وسائل مختص کئے جاتے ہیں۔عمومی طور پر بجٹ کو اعداد و شمار کا گورکھ دھندا کہا جاتا ہے۔ےہ پیچیدہ اعداد و شمار عام آدمی کی سمجھ سے بالاتر ہوتے ہیں۔ وہ فقط دعا کر سکتا ہے کہ آنے والے مالیاتی گوشواروں میں اس کے لئے ریلیف کی کوئی صورت نکلے۔ آج میرے کالم کا موضوع تعلیمی بجٹ ہے۔ اسے بدقسمتی ہی کہنا چاہیے کہ پاکستان میں شعبہ تعلیم ہمیشہ حکومتی ترجیحات کی فہرست میں بہت نیچے آتا ہے۔ حالانکہ دنیا بھر میں یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ دنیا کے جن ممالک نے تیزی سے ترقی کی منازل طے کیں ، انہوں نے تعلیم کو ترجیح بنا یا اور اس پر سرمایہ کاری کی ۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ کسی فرد ، خاندان یا قوم کی ترقی کا دارومدار تعلیم، تحقیق اور ہنر مندی میں پوشیدہ ہے۔ آج سائنس و ٹیکنالوجی کی دنیا میں یہ بات مزید اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ ادھر پاکستان میں ہمارا حال یہ ہے کہ برسوں سے ہم پرائمری تعلیم کا ہدف حاصل کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔ مختلف قسم کے تعلیمی پروگرام کا آغاز کرتے ہیں۔ کچھ نہ کچھ بہتری آتی بھی ہے تاہم اہداف وہیں کے وہیں رہتے ہیں۔ اسے المیہ ہی کہنا چاہیے کہ آج بھی ہمارے کم و بیش اڑھائی کروڑ بچے اسکول جانے سے محروم ہیں۔ ان میں بڑی تعداد بچیوں کی ہے۔ اس تصویر کا دورا رخ یہ ہے کہ جو بچے اسکول جاتے ہیں انہیں بھی ناقص معیار تعلیم اور ناقص انفراسٹرکچر کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ صورتحال صرف سکول کی سطح تک محدود نہیں ہے بلکہ سرکاری کالجوں اور جامعات میں بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ یہ بات ہمیں بچپن سے ازبر ہے کہ اقوام متحدہ تجویز کرتا ہے کہ اگر کسی ملک نے ترقی کرنی ہے تو اسے اپنے جی۔ ڈی۔ پی کا کم از کم 4 سے 6 فیصد تعلیم کیلئے مختص کرنا چاہیے۔ جبکہ پاکستان تعلیم پر اپنے مجموعی اخراجات یعنی جی۔ڈی۔پی کا زیادہ سے زیادہ 2 فیصد تک خرچ کرتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان ایک کمزور معیشت کا حامل ملک ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جب ہم دوسرے شعبوں پر خرچ کر سکتے ہیں تو تعلیم پر کیوں نہیں؟آخر کاریہ ہماری نوجوان نسل اور ہمارے ملک کے مستقبل کا معاملہ ہے۔ اس پر تو ہمیں دوسرے شعبوں کے بجٹ کی کٹوتی کر کے بھی خرچ کرنا چاہیے۔ بالکل ایسے جیسے ہم نے اپنے دفاع اور اپنے ایٹمی پروگرام پر خرچ کیا ۔ ہر حکومت اس پروگرام کو آگے ہی آگے بڑھاتی گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ برسوں کے بعد ہم ایٹمی قوت بن گئے او ر اس کے برسوں بعد بھارت کے رافیل گرا کر اسے وہ دھول چٹوائی کہ ساری دنیا نے ہماری طاقت کا مظاہرہ دیکھا۔ تعلیم میں بھی اس تسلسل سے سرمایہ کاری کی جاتی تو اس کا نتیجہ بھی بالکل ایٹمی پروگرام کی طرز پر ہمارے سامنے آتا۔ اگر ہم سبق لینا چاہیں تو بہت سے ترقی یافتہ ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ ان ممالک نے تعلیم کو قومی ترقی کا زینہ بنایا۔اس ضمن میں ہم اکثر ملائشیا کی مثال دیتے ہیں۔ ڈاکٹر مہاتیر محمد نے اپنے دور میں بجٹ کا بڑا حصہ ) غالبا 25 فیصد( تعلیم پر صرف کیا ۔ آج اس بجٹ کا نتیجہ ملائشیا کی ترقی کی شکل میں ہمارے سامنے ہے۔ اس کا معیاری نظام تعلیم ملائشین نوجوانوں کیساتھ ساتھ دنیا کے بیشتر ممالک کے نوجوانوں کو بھی تعلیم کی فراہمی میں مصروف ہے۔اپنے معیار تعلیم کی وجہ سے ملائشیازر مبادلہ بھی کماتا ہے۔ کوریا ، جاپان، فن لینڈ جیسے ممالک نے بھی تعلیم پر مسلسل سرمایہ لگایا ۔ اس سرمایہ کاری کے ذریعے تحقیق اور ٹیکنالوجی کے میدان میں خوب ترقی کی اور اپنی معیشت کو بھی بہتر بنایا۔ کیسے سبق آموز قصے ہیں کہ جاپان اور جنوبی کوریا کسی زمانے میں جنگوں، غربت اور معاشی زوال بلکہ تباہی کا شکار تھے۔ جاپان تو ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر ایٹمی حملوں کے بعد تباہ و برباد ہو چکا تھا۔جاپانی قیادت نے تعلیم، ٹیکنالوجی اور صنعت کی طرف توجہ دی۔ آج جاپان میں شرح خواندگی سو فیصد ہے۔جاپان کے بارے میں یہ کہاوت معروف ہے کہ جاپان نے ثابت کیا کہ قدرتی وسائل سے زیادہ اہم تعلیم یافتہ انسانی وسائل ہیں۔ یہی حال جنوبی کوریا کا تھا۔ 1950 تک اس کا شمار دنیا کے غریب ترین ممالک میں ہوتا تھا۔ لیکن اس نے تعلیم پر مبنی ترقی کا ماڈل اپنایا۔ تعلیم پر مسلسل سرمایہ کاری کی۔ آج اس کی شرح خواندگی بھی بلند ترین سطح پر ہے۔مختصر یہ کہ ان دونوں نے تعلیم اور ہنر مندی کو قومی ترجیح بنایا۔ اس حکمت عملی کی وجہ سے انہوں نے معاشی ترقی کی ۔ آج یہ صنعت اور ٹیکنالوجی کے میدان میں بڑی طاقتیں ہیں۔جبکہ ہماری بدقسمتی دیکھئے کہ ہم نے کبھی طویل المدت منصوبہ بندی نہیں کی۔ ہم نے بھی جاپان اور جنوبی کوریا جیسا طرز عمل اختیار کیا ہوتا تو آج ہمارے ہاں تعلیمی انقلاب بپا ہوتا۔ آج ہم جن معاشی اور سماجی مسائل کا شکار ہیں، وہ ہمیں درپیش نا ہوتے۔ افسوس کہ آج بھی ہماری حکومتیں تعلیم کے حوالے سے طویل المدت منصوبہ بندی کرنے سے قاصر ہیں۔ کاش ہم بھی جاپان اور نوبی کوریا کی مثالوں سے کوئی سبق سیکھیں۔ تعلیم کو ترجیح اول بنائیں۔اس شعبے میں طویل المدت منصوبہ بندی کریں اور کوئی ٹھوس حکمت عملی وضع کریں۔فی الحال بجٹ سازی کے مرحلے میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ تعلیم کیلئے زیادہ سے زیادہ فنڈز مختص کریں۔ اس امر کی تفہیم کرئے کہ یہ اخراجات نہیں بلکہ سرمایہ کاری ہے جو نفع سمیت واپس ملتی ہے۔ سرکاری تعلیمی اداروں کی بحالی، مالی خود مختاری، اساتذہ کی تربیت، ڈیجیٹلائزیشن ، تحقیقی منصوبوں ، آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور دیگر ضروریات کو پورا کرنے کیلئے فنڈز کی ضرورت ہوتی ہے۔ لازم ہے کہ تمام حکومتیں شعبہ تعلیم کے لئے مناسب بجٹ مختص کریں تاکہ یہ تمام ضروریات پوری ہو سکیں۔

Read full story on Nai Baat

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments