81.5 F
Pakistan
Saturday, June 6, 2026
HomeSportsایرانی فٹ بال ٹیم کی ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے راتوں...

ایرانی فٹ بال ٹیم کی ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے راتوں رات امریکی ویزے جاری

ایران کی فٹبال ورلڈ کپ ٹیم کے کھلاڑیوں کو امریکا میں داخلے کے لیے ویزے جاری کر دیے گئے ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اور جاری تنازع کے باعث ٹیم کی امریکا آمد غیر یقینی دکھائی دے رہی تھی۔ ایران کا پہلا میچ 15 جون کو لاس اینجلس میں کھیلا جانا ہے۔ برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ ایرانی کھلاڑیوں کو راتوں رات ویزے جاری کر دیے گئے۔ اس سے ایک روز قبل میکسیکو میں تعینات ایرانی سفیرابوالفضل پسندیدہ نے بتایا تھا کہ ٹیم کو ابھی تک امریکی ویزے موصول نہیں ہوئے تھے۔ اگرچہ کھلاڑیوں کے ویزے جاری ہو چکے ہیں، تاہم ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق قومی ٹیم کے بعض تکنیکی اور انتظامی عملے کے ارکان کو اب تک امریکی ویزے نہیں مل سکے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ امریکی سفارت خانے نے ان افراد کو ویزے جاری کرنے سے انکار کیا ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی سرکاری ذریعہ یا مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ ایرانی فٹبال فیڈریشن کے ترجمان سے اس معاملے پر فوری طور پر رابطہ نہیں ہو سکا، اس لیے ان کا مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔ موجودہ سیاسی اور فوجی کشیدگی کے باعث اس بار فٹبال ورلڈ کپ کو صرف ایک کھیلوں کا مقابلہ نہیں بلکہ ایک سفارتی اور سیاسی امتحان بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ 1930 میں ورلڈ کپ کے آغاز کے بعد یہ پہلا موقع بتایا جا رہا ہے کہ میزبان ملک ایک ایسے ملک کی ٹیم کی میزبانی کر رہا ہے جس کے ساتھ اس کا جنگی تنازع موجود ہے۔ ویزا مسائل اور ایران میں بڑھتے ہوئے اس احساس کے باعث کہ ٹیم کی امریکا میں موجودگی کو کم سے کم رکھا جائے، تہران نے آخری وقت میں ٹیم کا بیس کیمپ امریکی ریاست ایریزونا کے بجائے میکسیکو کے شہر تیخوانا منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔ ٹیم اتوار کی صبح تیخوانا پہنچے گی۔ ایران گروپ جی میں اپنا پہلا میچ 15 جون کو لاس اینجلس میں نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلے گا۔ اس کے بعد اسی شہر میں اس کا مقابلہ بیلجیئم سے ہوگا، جبکہ تیسرا گروپ میچ سیئٹل میں مصر کے خلاف شیڈول ہے۔ میکسیکو میں ایران کے سفیر ابوالفضل پسندیدہ کا کہنا تھا کہ امریکا نے باضابطہ طور پر کبھی یہ نہیں کہا کہ وہ ایرانی ٹیم کو اپنی سرزمین پر نہیں دیکھنا چاہتا۔ تاہم امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے چند روز قبل قانون سازوں کو بتایا تھا کہ ورلڈ کپ وفد میں ایسے افراد کو امریکا آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جن کا تعلق اسلامی انقلابی گارڈز سے ہو۔ اسی تناظر میں ایران فٹبال فیڈریشن کے صدر مہدی تاج کو دسمبر واشنگٹن میں ہونے والی ورلڈ کپ قرعہ اندازی کی تقریب میں شرکت کے لیے امریکا میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی تھی کیونکہ وہ وہ پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر ہیں۔ ایران کے سفیر نے کہا کہ تمام اختلافات کے باوجود ورلڈ کپ میں ایران کی شرکت اس بات کا اشارہ ہے کہ ملک تنازع کا پرامن حل چاہتا ہے۔ ان کے مطابق، ایسے ملک کی سرزمین پر کھیلنے کا فیصلہ جسے ایران اپنا مخالف سمجھتا ہے، اس بات کی علامت ہے کہ ایران امن کی راہ اختیار کرنا چاہتا ہے۔ دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان امن مذاکرات کی رفتار سست بتائی جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق دونوں ممالک ایک عبوری معاہدے کی جانب آہستہ آہستہ پیش رفت کر رہے ہیں، تاہم اس کے ساتھ ساتھ فوجی کارروائیاں بھی جاری ہیں، جس سے خطے کی صورتحال بدستور پیچیدہ بنی ہوئی ہے۔

Read full story on Aaj

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments