یہ تذکرہ ہے ایک ‘مجنوں’ کا جو اردو زبان و ادب پر فریفتہ ہوا اور اپنا نام بطور نقّاد، شاعر، افسانہ نگار اور مترجم تاریخِ ادب میں رقم کروایا۔ مجنوں کی تصانیف نہ صرف ہمارے ادبی ذوق تسکین کرتی ہیں، بلکہ ان کا مطالعہ ترقی پسند ادب کو سمجھنے اور ایک عہد کو تنقیدی بصیرت



