رکن قومی اسمبلی جمال رئیسانی نے بلوچستان میں جاری بدامنی کے حوالے سے انتہائی چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے خلاف ایک ایسی خاموش مگر خطرناک جنگ لڑی جا رہی ہے جو اب پہاڑوں کے بجائے موبائل فونز کے اندر منتقل ہو چکی ہے۔ اس نئی جنگ میں گولیوں اور بارود سے زیادہ خطرناک پروپیگنڈے اور بیانیے کا استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ بندوق چلانے سے پہلے لوگوں کے ذہنوں پر قبضہ کیا جا سکے۔ جمال رئیسانی نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان طویل عرصے سے بیرونی مداخلت اور پراکسی وار کا شکار رہا ہے، لیکن اب دشمن نے اپنے طریقے بدل لیے ہیں۔ اب بم دھماکوں کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کی خفیہ انکرپٹڈ ایپس کو ہتھیار بنایا جا رہا ہے تاکہ عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان دوریاں پیدا کی جا سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق دہشت گردی کا پورا نظام اب ڈیجیٹل دنیا میں شفٹ ہو چکا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے اہم کمانڈر بشیر زیب کا ذکر کیا، جس پر حکومت نے بھاری انعام مقرر کر رکھا ہے۔ جمال رئیسانی نے بتایا کہ بشیر زیب کوئی عام دہشتگرد نہیں ہے بلکہ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے اور طلبہ سیاست کا حصہ رہا ہے، اسی لیے وہ جدید دور کی نفسیاتی جنگ کے طریقوں کو اچھی طرح جانتا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ کراچی میں حال ہی میں سی ٹی ڈی نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے بھاری مقدار میں دھماکہ خیز مواد پکڑا تھا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ ایک بہت بڑے نیٹ ورک کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ اس نیٹ ورک میں جنید نامی شخص کو بشیر زیب کا انتہائی قریبی ساتھی اور شہروں میں رابطے قائم کرنے والا اہم کردار سمجھا جا رہا ہے۔ جمال رئیسانی نے انکشاف کیا کہ اس ڈیجیٹل جنگ کے لیے زنگی، سگنل، ڈیلٹا چیٹ اور ٹیلی گرام جیسی موبائل ایپس کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان ایپس کی خاص بات یہ ہے کہ ان پر ہونے والی گفتگو کو ٹریس کرنا اور کالز کی نگرانی کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سگنل ایپ پر پیغامات خود بخود مٹ جاتے ہیں جبکہ ڈیلٹا چیٹ بظاہر ای میل کی طرح کام کرتی ہے مگر اس کے اندر خفیہ چیٹ کی سہولت ہوتی ہے، جس کی وجہ سے یہ عناصر سیکیورٹی اداروں کی نظروں سے بچے رہتے ہیں۔ پریس کانفرنس میں یہ تشویشناک بات بھی سامنے لائی گئی کہ یونیورسٹیوں اور سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ جمال رئیسانی کے مطابق دشمن اب صرف گولی نہیں چلاتا بلکہ وہ انٹرنیٹ پر ٹرینڈ چلاتا ہے اور جذباتی ویڈیوز کے ذریعے نوجوانوں کے ذہن بدلنے کی کوشش کرتا ہے۔ انہوں نے عوام کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ پرامن سیاسی اختلاف اور آئینی جدوجہد ہر شہری کا حق ہے اور انسانی حقوق کا احترام ریاست کی ذمہ داری ہے، لیکن اگر کوئی بھی پلیٹ فارم یا نیٹ ورک دہشت گردی اور نفرت پھیلانے کے لیے استعمال ہوگا تو قانون حرکت میں آئے گا۔ انہوں نے اصرار کیا کہ اس پریس کانفرنس کا مقصد خوف پھیلانا نہیں بلکہ قوم کو حقیقت سے آگاہ کرنا ہے تاکہ بلوچستان کے نوجوانوں کو کسی بیرونی ایجنڈے کا ایندھن بننے سے بچایا جا سکے۔
بلوچستان میں ڈیجیٹل دہشتگردی: سوشل میڈیا اور موبائل ایپس کے ذریعے ذہنوں پر قبضے کا انکشاف
RELATED ARTICLES



