74.5 F
Pakistan
Wednesday, June 3, 2026
HomeBreaking Newsآئین کے بعد بجٹ دستاویز ایک اہم ڈاکومنٹ ہے

آئین کے بعد بجٹ دستاویز ایک اہم ڈاکومنٹ ہے

بجٹ 2026-27ءآیا ہی چاہتا ہے۔ جون کے دوسرے ہفتے میں قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس منعقد ہونے جا رہا ہے جس میں آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کیا جائے گا پھر اس کے بعد چھوٹے چھوٹے وقفوں کے ساتھ صوبائی اسمبلیوں کے اجلاسوں میں صوبائی بجٹ پیش کئے جائیں گے۔ ایک زمانہ تھا کہ بجٹ کا انتظار کیا جاتا تھا، اس سے عوام کی، کاروباری طبقات کی، مزدوروں و کسانوں کی توقعات وابستہ ہوتی تھیں۔ بجٹ کچھ طبقات کے لئے خوشخبریاں اور کچھ کے لئے بری خبریں لایا کرتا تھا پھر آہستہ آہستہ بجٹ دستاویز کا تقدس ایسے ہی ختم ہوتا چلا گیا جیسے ہم نے آئین کے تقدس کو پامال ہوتے دیکھا۔ 1956ءکا آئین دو سال ہی چل سکا۔ 1958ءمیں اسے میجر جنرل سکندر مرزا اور پھر ایوبی مارشل لاءنے پامال کرنے کی ابتداءکی پھر 62ءکا آئین خود اس کے بنانے والے فیلڈ مارشل ایوب خان نے 1969ءمیں چلتا کیا۔ 62ءکے آئین کے مطابق صدر مملکت کے بعد اقتدار کی باگ ڈور اسمبلی سپیکر نے سنبھالنا تھی لیکن فیلڈ مارشل اقتدار جنرل یحییٰ خان کے حوالے کر کے ایوان اقتدار سے رخصت ہوئے تھے۔ کچھ ماہرین اور واقفانِ احوال کے مطابق جنرل یحییٰ خود ہی اقتدار پر قابض ہو گئے تھے پھر کچھ اسی قسم کا جنرل ضیاءالحق نے 1973ءکے دستور کے ساتھ کیا، ویسے انہوں نے دستور کو منسوخ نہیں بلکہ معطل کیا پھر من مرضی کی تبدیلیوں کے ساتھ بحال کر دیا گیا، اس کے بعد ہر حکمران نے 73ءکے دستور کے ساتھ ایسا ہی کچھ کیا۔ آج 73ءکا دستور تو موجود ہے لیکن اس کی روح کہیں گم ہو چکی ہے۔ سیاستدان حکمران، کیا آئینی طریقے سے اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے۔ ایوان اقتدار میں براجمان ہیں۔ کیا دستور میں تبدیلیاں ،دستور کی روح کے منافی نہیں ہیں۔ بہرحال بات ہو رہی تھی بجٹ 2027ءکی۔ آئین کے بعد بجٹ دستاویز ایک مقدس شے قرار دی جاتی ہے۔ بجٹ آمدن و خرچ کا تخمینہ ہی نہیں ہوتا ہے بلکہ کسی حکومت کااپنے عوام کے ساتھ ایک مقدس عہد ہوتا ہے، جسے عوام کی تائید حاصل ہوتی ہے۔ حکومت قوم سے وسائل اکٹھے کرتی ہے اور انہیں ان کی فلاح و بہبود کے لئے خرچ کرتی ہے۔ کار سرکار، حکومتی و ریاستی مشینری چلانے کے لئے عوام سے ٹیکس اکٹھا کرتی ہے اور پھر انہی کی منظوری سے مشینری انہی کے مفادات کے تحفظ کے لئے بروئے کار لاتی ہے۔ بجٹ منظوری عوامی تائید کا مظہر اور حکومت پر اعتماد کا اعلان تصور کیا جاتا ہے لیکن اب تو ہفتہ وار پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تبدیلی کے ذریعے میزانیہ، سالانہ کی بجائے روزانہ و ہفت روزہ ہو جاتا ہے۔ تیل کی عالمی منڈی سے منسلک پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل سے پیداواری مصارف تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ اشیاءصرف کی قیمتوں میں ہمہ وقت تبدیلی نے نچلی سطح تک کرپشن کے فروغ میں سہولت کاری کی ہے۔ ریڑھی بان سے لے کر دکاندار، جنرل سٹور مالک، ریٹیلر اور ہول سیلر تک من مانیاں کرنے میں آزاد ہو چکے ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کے بجلی وگیس کے نرخوں پر بھی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ حکومت کو تبدیلیوں کی آڑ میں اپنا کھیل کھیلنے کے مواقع ملتے ہیں۔ ٹیکس وصولیوں کے اہداف پورے ہوتے نظر نہیں آتے تو وہ پٹرولیم لیوی میں چپ کر کے ردوبدل کر دیتے ہیں۔ بجلی و گیس کے بلوں میں غیرمانوس قسم کے ٹیکس لگا دیئے جاتے ہیں تاکہ وصولیوں کا حجم پورا کیا جا سکے۔ ماہرین کہہ چکے ہیں ہمیں بھی معلوم ہے کہ توانائی بشمول پٹرولیم، بجلی و گیس کی قیمتوں میں پائے جانے والے عدم توازن کو درست کئے بغیر نہ مہنگائی پر قابو پایا جا سکتا ہے اور نہ ہی پیداواری عمل میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ گویا معاشی ترقی کے منصوبے کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتے ہیں۔ ہماری افزائش آبادی کی شرح اور معاشی نمو کی شرح تقریباً ملتی جلتی ہیں۔ جتنی ترقی ہوتی ہے، بڑھتی ہوئی آبادی اسے ہڑپ کر جاتی ہے۔ نتیجہ غربت بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ خط ِغربت سے نیچے زندگیاں گزارنے والوں کی تعداد دن بدن بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایسے افراد آبادی کا 28. 8فیصد ہیں یعنی سات کروڑ افراد خط ِغربت سے نیچے زندگیاں گزار رہے ہیں۔ عالمی معاشی آؤٹ لک کے مطابق ایسے افراد آبادی کا 43. 5فیصد ہیں گویا 10 کروڑ پچاس لاکھ افراد خط ِغربت سے نیچے زندگیاں گزار رہے ہیں اور ان کی تعداد مسلسل بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ افزائش آبادی کی شرح 1. 6فیصد سالانہ ہے۔ یہ مناسب شرح نمو ہے لیکن نفوس کی مجموعی تعداد کے بڑھتے چلے جانے سے عالمی سطح پر پاکستان جو اب پانچواں بڑا ملک ہے، 2040ءتک آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چوتھا بڑا ملک بن جائے گا۔ آبادی میں جوان افراد کی تعداد کے لحاظ سے پاکستان دنیا کا پہلا ملک ہے۔ یہ ایک اعزاز کی بات ہے اور تعمیر و ترقی کے اعتبار سے اس عامل کو انتہائی اہم قرار دیا جاتا ہے لیکن ہم اس عامل کو قومی تعمیر و ترقی میں بروئے کار لانے میں سردست ناکام نظر آرہے ہیں۔ بے روزگار افراد کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ 2024ءمیں بے روزگاری کی شرح 5. 50 فیصد تھی جو 2025ءمیں گھٹ کر 5. 40 فیصد ہو گئی۔ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے مطابق یہ شرح 2026ءمیں بڑھ کر 6. 9فیصد ہو جائے گی، اس کی بڑی وجہ مارکیٹ کے مطابق مہارتوں کی کمی بتائی جاتی ہے۔ ہمارے نوجوان، جاب مارکیٹ میں درکار مہارتوں سے لیس نہیں ہیں۔ ایک عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سالانہ 80ہزار آئی ٹی گرجوایٹس تیار کئے جاتے ہیں۔ ان میں سے صرف 7500 ایسے ہوتے ہیں جو جاب مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ماہر سمجھے جا سکتے ہیں ایک طرف ہماری معاشی نمو مطلوبہ روزگار کے مواقع فراہم کرنے سے قاصر نظر آتی ہے تو دوسری طرف جو مواقع مہیا ہیںہمارے نوجوان مطلوبہ قابلیت نہ رکھنے کے باعث ان سے فائدہ اٹھانے سے قاصر نظر آتے ہیں۔سیاسی نظام کی کمزوریوں اور پالیسیوں کے عدم استقرار نے صورتحال کو مزید گمبھیر کر رکھا ہے۔ نوجوان اپنے حال سے مایوس نظر آتا ہے، اسے اپنا مستقبل بالکل تاریک لگتا ہے، آبادی میں جوانوں کی بلند شرح جو ایک نعمت سمجھی جاتی ہے ہمارے لئے پریشانی کا باعث بنتی نظر آرہی ہے۔ مایوسی کے بڑھتے سائے، تاریک مستقبل کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں بجٹ 2026-27ءکیا نوید مسرت لے کر آتا ہے۔

Read full story on Nai Baat

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments