83.7 F
Pakistan
Monday, May 11, 2026
HomeEntertainmentمیاں بیوی میں شکر رنجی شروع ہوگئی، بات بڑھتے بڑھتے طلاق تک...

میاں بیوی میں شکر رنجی شروع ہوگئی، بات بڑھتے بڑھتے طلاق تک آگئی، دوسری شادی کی تیاریاں ہونے لگیں، ماموں کو کہلا بھیجا اپنی بیٹی کو لے جائیں

مصنف: ع۔غ۔ جانبازقسط: 143وہ لوگوں کی امداد کے کاموں کو ”Tonic“ کہتے تھے ان سے انسان کی مجموعی صحت پر بڑا مثبت اثر پڑتا ہے۔ اس سلسلے میں اُن کے چند امدادی کاموں کا ذکر ہوجائے۔ ایک شخص کی ٹانگ کٹ گئی کام کاج کے قابل نہ رہا۔ اُس کی ایک لڑکی تھی جس کی عمر صرف 6 سال تھی۔ اُس نے کہا میں تو اس کو پال پوس نہیں سکتا یہ آپ کے حوالے۔ لڑکی کو پڑھایا اُس کی شادی کی. .. .. . اور بعد میں وہ اپنی لڑکیوں کی طرح اُن کے گھر آتی رہی۔ جیسا سلوک اپنی لڑکیوں سے کرتا تھا ویسا سلوک اُس سے کرتا تھا۔ ایک محلے دار لڑکے کی شادی اپنے ماموں کے ہاں ہوئی۔ پانچ سال کا عرصہ گزر گیا اور اُن کے ہاں کوئی اولاد نہ ہوئی۔ میاں بیوی میں شکر رنجی شروع ہوگئی۔ بات بڑھتے بڑھتے طلاق تک نوبت آگئی اور دوسری شادی کرنے کی تیاریاں ہونے لگیں۔ اور لڑکے نے اپنے ماموں کو کہلا بھیجا کہ وہ آکر اپنی بیٹی کو لے جائیں۔ اس ساری صورتِ حال کا مجھے پتہ چلا تو میں نے لڑکے کو سمجھایا کہ اس میں اِس بیچاری کا کیا قصور ہے؟ یہ سب اللہ کی دین ہے کسی کو دے اور کسی کو نہ دے. .. .. . اور پھر دینے پہ آئے تو جھولی بھر دے۔ چنانچہ میں نے سمجھا بجھا کر اُسے گھر چھوڑ کر دوسری جگہ چلے جانے پر راضی کرلیا۔ تاکہ ماموں آئیں تو خالی ہاتھ واپس ہوجائیں۔ دوسری جگہ وہ میاں بیوی پھر سے خوشی خوشی رہنے لگے اور اللہ کا کرنا ایسا ہوا۔ اُن کے ہاں 2 سال بعد لڑکا پیدا ہوا۔ سارا گھرانہ خوشی سے پھُولے نہ سمایا۔ اِس دوران ماموں بھی آتا جاتا رہا تھا۔ یہ خبر ملتے ہی ماموں بڑے اہتمام سے لڑکے کے لیے گفٹ لے کر آیا۔ اپنے ہاتھ سے محلہ میں مٹھائی تقسیم کی۔ بقول اُن کے 12سال تک سرکاری جیپ اُن کے پاس رہی، جو چونگیوں کی چیکنگ کے لیے کام آتی تھی۔ الہٰی نام کا ایک شخص جو بطور ڈرائیور کام کرتا تھا ہر وقت ساتھ ہوتا تھا۔ ایک دوست بابو ضیاء فوت ہوگیا۔ اُس کے گھر ہفتہ میں 2 دفعہ چکّر لگاتے۔ ساتھ کھانے پینے کی چیزیں لے جاتے۔ پورے 4 سال یہ کام جاری رکھّا۔گِل صاحب حنیف رامے (لیڈر پیپلز پارٹی) کے بہنوئی کی دکان پر اکثر بیٹھا کرتا تھے۔ ایک ”چھابے والے“ جس کا نام لطیف تھا۔ اُن سے کہا کہ وہ سارا دن چکّر لگاتا رہتا ہے۔ تھک جاتا ہے اور حاصل بھی اتنا نہیں ہوتا مجھے کوئی دوکان لے دو۔ چنانچہ وہی دوکان (بہنوئی والی) جو وہ بھی بیچنا چاہتا تھا لطیف چھابے والے کو لے دی۔2 سال بعد لطیف کہنے لگا۔ 2دکانیں بک رہی ہیں وہ لے دو۔ چنانچہ گلشنِ راوی میں اپنے لکھ پتی دوست کے پاس گلِ صاحب گئے۔ چوکیدار نے اندر جا کر بتایا کہ چوہدری صاحب آئے ہیں۔ چنانچہ اندر بلا لیا۔ بڑے تپاک سے ملے۔ 6500/- روپے میں 2د کانیں لے دیں۔ چنانچہ اُس کا کاروبار اچھا چلتا رہا اور اُس نے اپنی کمائی سے 6 لڑکیوں کی شادیاں کیں۔ گِل صاحب کہا کرتے تھے کہ ”اگر کسی کا بھلا کرو گے تو اللہ تمہارا بھلا کرے گا۔ جو بوؤ گے وہ کاٹو گے۔“ نشہ پلا کے گرانا تو سب کو آتا ہے مزا تو تب ہے گِرتوں کو تھام لے ساقی ایک دوست تھا پریس میں کام کرتا تھا۔ اس کے2بیٹے تھے لیکن مڈل سے آگے تعلیم حاصل نہ کرسکے اور آوارہ گرد ہوگئے۔ میں پنشن لینے گیا تو ایک کو ساتھ لے گیا۔ وہاں پتہ کیا کہ اُس کو کسی جگہ پر رکھ لیں۔ لیکن کوئی اسامی نہ تھی۔ ایک ملازم 6 ماہ کی چھٹی پر گیا ہوا تھا۔ چنانچہ عارضی طور پر اُسے 6 ماہ کے لیے چپڑاسی بھرتی کروا دیا۔ پھر شعر سنایا۔ (جاری ہے)نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ معرکہ حق میں ہماری فضائیہ نے دشمن کے 8 طیارے مار گرائے، صدر مملکت آصف علی زرداری کا معر کہ حق کی مرکزی تقریب سے خطاب

Read full story on Daily Pakistan

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments