مصنف: ع۔غ۔ جانبازقسط: 140ملک آگے جانے کی بجائے معاشی بدحالی کا منظر پیش کر رہا ہے۔ ہمارے لیڈر خلفائے راشدینؓ کے طرز عمل کو اپنا کر اور دنیوی شان و شوکت کو ترک کرکے عوام کی صحیح معنوں میں خدمت کر کے ملک کو موجودہ بحران سے نکال سکتے ہیں اور اپنے اللہ کو بھی راضی کر سکتے ہیں۔ ”بابا جی“ ایک بزرگ دوست باباجی. .. .. . شاہ عالمی لاہور کا باشندہ تھا پھر وہاں سے بھاٹی آئے۔ نام: سراج الدین گِل عُرف چوہدری جائے پیدائش: شیش محل (اونچی گلی 14 سیڑھیاں چڑھ کر اندرون بھاٹی گیٹ)تاریخ پیدائش: یکم جنوری 1918ء تعلیم: میٹرک دیال سنگھ ہائی سکول ہیرا منڈی ملازمت: لاہور کارپوریشن میں بطور کلرک حال مقیم: کوٹھی نمبر J-92 بلاک، فیز 1، ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی لاہور کینٹ (1980ء میں گھر بنایا)اولاد: 3 لڑکے4 لڑکیاں (2 شادیاں کیں)مرحوم کے دوست شفقت تنویر مرزا (مرحوم) نے بھی 1980ء میں یہاں گھر بنایا۔ چند سال پہلے دوسری بیوی بھی انتقال کر گئیں۔ افسردہ کرگئیں۔ بابا جی کا معمول تھا کہ نماز فجر سے کافی پہلے تقریباً 2 بجے بیدار ہو کر روزانہ نہاتے۔ ذکر و اذکار اور نماز کی ادائیگی کے بعد خود چائے بناتے اور پیتے۔ایک کپ چائے بیگم کو بھی دیتے۔ پھر سیر کے لیے نکلتے ہیں۔ کہنے لگے میری پوتی اپنی امّی یعنی میری بہو سے پوچھتی ہے کہ دادا جان کس سے باتیں کرتے ہیں۔ وہ کہتی کہ تمہارے دادا اللہ سے باتیں کرتے ہیں۔ میرے ساتھ تو اس وقت رابطہ ہوا جب واک کرتے تھے۔ پھر جیسے جیسے ماہ و سال گزرتے گئے اُن کی اِس سٹریٹ واک میں بھی انحطاط پذیری نے قدم رنجہ فرمایا اور جنوری 2010ء کے قریب آپ صرف گلی کے ایک چکّر تک محدود ہوگئے۔ اس میں میری مکمل موجودگی بھی ضروری ہوتی گئی۔ اور پھر 2010ء کے درمیان ایک چکّر میں بھی گر پڑنے کے پیش نظر اس سٹریٹ واک کو بھی چھوڑ دیا۔ پھر معمول یہ تھا کہ خود ہی اپنے صبح آنے کا وقت بتا دیتے اور میں وہاں آپ کا اُن کے مین گیٹ پر محو انتظار ہوتا۔ آپ اندرونی دروازہ کھول کر میری موجودگی چیک کر کے باہر آتے اور السلام علیکم کہہ کر ہاتھ ملاتے اور ساتھ ہی دو تین شعر آپ کی زبان پر آجاتے۔ جن میں زیادہ تر اشعار علامہ اقبال کے ہوتے۔ کبھی کبھی کسی شعر کی تشریح بھی کر دیتے۔ پھر آپ کی زبان سے میرے لیے دعائیہ کلمات کا اخراج شروع ہوتا ہے جو کچھ یوں ہوتے تھے۔ ”خدا آپ کو چلتا پھرتا رکھّے، خدا آپ کی صحت و تندرستی سے نوازے“ چند دن پہلے مزید جسمانی کمزوری کا ذکر کرتے ہوئے کہنے لگے ”میرا جنازہ اسی گھر سے نکلے“ مجھے یہ تاکید کر رہے تھے۔ جوانی آپ کو شروع میں پڑھے لکھے لوگوں کا ماحول مل گیا اس لیے اُردو ادب کی طرف رجحان بڑھ گیا۔ علامہ اقبال کے بڑے مدّاح تھے۔ اقبال کے اشعار کو قرآنی تشریح کے طور پر لیتے تھے۔ سن 2011ء تک یادداست کمال کو چھوتی رہی تھی۔ بے شمار شعر یاد تھے۔ اُن کے سنائے ہوئے چند شعر ملاحظہ فرمائیں۔ (جاری ہے)نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ معرکۂ حق کا ایک سال مکمل، ملکی دفاع، سالمیت اور استحکام پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا: ایوان بالا
ہمارے لیڈر دنیوی شان و شوکت ترک کرکے عوام کی صحیح معنوں میں خدمت کر کے ملک کو بحران سے نکال سکتے ہیں اور اپنے اللہ کو بھی راضی کر سکتے ہیں
RELATED ARTICLES



