82.1 F
Pakistan
Thursday, May 7, 2026
HomeEntertainmentصبر نام کی چیز کہیں نظر نہیں آتی، شاید ہم دنیا میں...

صبر نام کی چیز کہیں نظر نہیں آتی، شاید ہم دنیا میں سب سے زیادہ چھٹیاں کرنے اور کام چوری کے سب سے زیادہ عذر تلاش کرنے والی قوم ہیں

مصنف: ع۔غ۔ جانبازقسط: 139جنرل ایوب خان کو اس وقت اقتدار قومی اسمبلی کے سپیکر کے حوالے کرنا چاہیے تھا۔ جنرل یحییٰ خان نے جنرل الیکشن تو شفاف کرائے لیکن اس کے نتیجہ میں ملک دو لخت ہوگیا۔ مشرقی پاکستان کا علیٰحدہ ہونا بھی ذاتی مفاد اور کرسی کی ہوس کا نتیجہ تھا۔ اگر اقتدار جیتنے والی پارٹی کو دے دیا جاتا تو شاید ملک دو لخت نہ ہوتا۔ ذوالفقار علی بھٹو کا دور بھی نشیب و فراز کا دور کہلاتا ہے۔ وہ ایک سچا پاکستانی اور ملک کو آگے لے جانے والا لیڈر تھا۔ اُس کا سب سے بڑا کارنامہ غریبوں اور متوسط طبقے کو جگانا اور اُن کو حقوق کا شعور دلانا تھا۔ روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگا کر وہ غریب طبقے کا ہر دلعزیز لیڈر کہلایا لیکن شاید وہ بیرونی اور اندرونی دشمنوں کا اندازہ نہ لگا سکا۔ بھٹو پاکستان کے نیو کلیئر بم کا بانی اور ہیرو ہے جس نے پاکستان کو ہر طرح کی بیرونی جارحیت سے تحفظ فراہم کیا۔ ذ والفقار علی بھٹو کا یہ کارنامہ رہتی دنیا تک پاکستانی قوم یاد رکھے گی۔ پہلی اور آخری مرتبہ پاکستان اپنی زمین پر اسلامی ملکوں کی کانفرنس کرانے میں کامیاب ہوگیا۔ جس میں تمام مسلمان ممالک شریک ہوئے۔ یہ اسلامی پلیٹ فارم اور بھٹو جیسا لیڈر شاید دنیا کے نام نہاد چوہدریوں کو منظور نہ تھا۔ اسی لیے انہوں نے پہلے شاہ فیصل خادم حرمین شریفین کو قتل کرایا اور بعد میں بھٹو کو بھی پھانسی کی بھینٹ چڑھا دیا۔ اس وقت شاید ہم دنیا میں سب سے زیادہ چھٹیاں کرنے اور کام چوری کے سب سے زیادہ عذر تلاش کرنے والی قوم ہیں۔ ہمارے میں صبر نام کی چیز کہیں نظر نہیں آتی۔ اس کی سب سے بڑی مثال ٹریفک قوانین کی دھجیاں بکھیرنا ہے۔ لال بتی پر نہ رکنا معمول بن چکا ہے اور اگر آپ رکے ہوئے ہیں تو جونہی لال بتی بجھتی ہے تو پچھلی گاڑی والے ہارن بجا کر آپ کو خود بخود ہی مطلع کرتے ہیں کہ جلدی کرود شاید انہوں نے کسی جہاد پر جانا ہے یا ہر وقت ایمرجنسی میں رہتے ہیں۔ حالات کیسے ٹھیک ہونگے اور پاک سر زمین کس طرح امن حاصل کر کے ترقی کی راہ پر گامزن ہوگی۔ اس کی وجہ صرف اور صرف قناعت کا فقدان اور اللہ تعالیٰ کی ناشکری ہے اور جو اللہ تعالیٰ کی ناشکری کرتا ہے وہ کیسے مطمئن ہوسکتا ہے۔ دراصل ہمارے لیڈروں کا ضمیر اور زبان ایک نہیں ہے۔ ضمیر ملامت کرتا ہے اور زبان پر جھوٹ ہے۔ ان لوگوں کی گنتی چند گھرانوں تک محدود ہے لیکن مراعات یافتہ اشرافیہ نے کرپشن اور بددیانتی سے کمائے ہوئے مال کی وجہ سے ملک کے کروڑوں انسانوں کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔ حقیت میں اُن کو نہ خوف خدا ہے اور نہ قانون کا خوف اور سب سے بڑھ کر قبر جو آخری منزل ہے، اُس کو بھی یاد نہیں رکھتے۔ لیڈر ہی ملک کی تقدیریں بدلتے ہیں۔ قائداعظم محمد علی جناح نے صرف اور صرف اعلیٰ اقدار اور صحیح مسلمان حکمران کی روایات کو اپنا کر ہمارے لیے ایک پاک سر زمین کا ایک انمول خطہ جو اللہ تعالیٰ کی بے بہا نعمتوں سے مالا مال ہے حاصل کیا۔ اُن کے اعلیٰ لیڈر ہونے کا اندازہ آپ اس بات سے لگائیں کہ پاکستان بننے کے بعد بطور گورنر جنرل پاکستان صرف ٹوکن کے طور پر ایک روپیہ تنخواہ لیتے تھے اور علاج کیلئے باہر جانے سے بھی انکار کردیا اور اپنی جائیداد بھی نیک کاموں او ر ملک کیلئے وقف کردی۔ قائداعظم کی دیانتداری ملاحظہ کیں کہ اپنے سٹاف آفیسر کو آفس کیلئے 2کرسیاں خریدنے کے لیے کہا. .. .. . وہ 2 کی بجائے 3 کرسیاں لے آیا۔ آپ نے اُس سے پوچھا یہ تیسری کرسی کیوں لائے ہو؟ اُس نے عرض کیا آپ نے قائد کے اے ڈی سی نے چائے کے لیے پوچھا تو آپ نے اُس کو منع کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے گھر سے چائے پی کر آئیں گے۔ حکمرانوں سے پوچھتا ہوں کیا وفات کے بعد بانیٔ پاکستان کے بنک بیلنس نکلے یا انہوں نے اولاد کے لیے بڑے بڑے محل بنائے لیکن اُن کا نام، کام اور احترام رہتی دنیا تک زندہ رہے گا۔ موجودہ حکمران ٹولہ اور اپوزیشن کے تمام قائدین کس منہ سے پاکستانی قوم کے خادم اور لیڈر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں جبکہ انہوں نے یہاں سے پیسہ لوٹ کر بیرون ملک ڈالروں کی شکل میں جمع کروایا ہوا ہے۔ باہر جائیدادیں بنائی ہوئی ہیں اور ان کی اولاد اس لوٹ مار کے مال سے مزے لوٹ رہی ہے۔ عام سی بیماری کیلئے بھی علاج بیرون ملک کرواتے ہیں۔ (جاری ہے)نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ ’آپ فیصلہ کرنے والے کون ہو‘ اسامہ میر محمد رضوان کے بیان پر برس پڑے

Read full story on Daily Pakistan

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments