مصنف: مہر غلام فرید کاٹھیا قسط: 10”کوئی ہے۔ کوئی ہے“بختاور نے کمروں کی طرف منہ کرکے زور زور سے آواز دی۔ حویلی کے کونے والے اندرونی حصہ کے ایک کمرے سے وہی شخص برآمد ہوا جس نے حویلی کا اندرونی دروازہ کھولا تھا۔”پانی لاؤ پانی۔ جلدی کرو“بختاور نے پکارا۔ وہ شخص ڈھیلی چال چلتا ہوا واپس گیا اور کچھ دیر بعد پانی کا ایک گلاس لے آیا۔ تب تک کھانسی کا دورہ گزر چکاتھا۔”چاچا کی دوائی لاؤ۔ کہاں ہے دوائی؟“بختاور نے اس شخص سے پوچھا تو اس نے جواب دیا۔ ”دوائی والی بوتل تو بالے کے پاس ہے۔ وہ آتا ہے تو دے دیتا ہے۔“اس شخص نے لاپرواہی سے جواب دیا اور جدھر سے آیا تھا ادھر ہی چلا گیا۔ میاں اللہ دتہ اب پرسکون ہوچکا تھا اور چارپائی پر لیٹے لیٹے بختاور سے مرید کے کے حالات دھیمی دھیمی آواز سے پوچھتا رہا اور وہ اسے وہاں کے حالات و واقعات سے آگاہ کرتا رہا جو زیادہ تر ان کے اپنے کنبے سے متعلق تھے۔ اب رات ہوچکی تھی۔ اندھیرا چھا گیا تھا۔ صحن کے ایک کونے میں بجلی کا ایک چھوٹی پاور کا بلب ٹمٹما رہا تھا۔ بختاور کو دروازے کی طرف سے کھٹکے کی آواز آئی تو اس نے دروازے کی طرف توجہ کی۔ اسے بلب کی دھیمی سے روشنی میں ایک شخص اپنی طرف آتا دکھائی دیا۔ وہ بالاتھا۔ بختاور نے اسے پہچان لیا تھا۔ بالے نے آکر بختاور کو سلام کیا تو بختاور نے اُس سے میاں اللہ دتہ کی دوائی کے متعلق پوچھا۔ ”جی ہے“ اور وہ نزدیکی کمرے سے ایک دوائی کی شیشی اٹھا لایا۔ یہ دوائی کیا تھی؟ ایک سادہ سا ”کف سیرپ“ تھا۔ بختاور نے دریافت کیا۔ ”بس یہی۔“بالے نے جواب میں بتایا کہ لال خاں صاحب پچھلے ہفتے پنڈی سے آئے تھے اور واپس جاتی دفعہ یہی دوائی لے کر دے گئے تھے۔ اب یہ بھی ختم ہونے والی ہے۔ بالے کی بات سن کر بختاور کو بہت تکلیف ہوئی اور چچا کی طرف غور سے دیکھا۔”لالہ تجھے کسی اچھے ڈاکٹر کے پاس کیوں لیکر نہیں جاتا۔ چچا آپ کتنے کمزور ہوگئے ہو۔“بختاور نے چچا کی خستہ حالت کو تشویش کی نظر سے دیکھتے ہوئے سوال کیا۔ ”نہیں بیٹا ایسا نہیں ہے۔ لال مجھے ہارون آباد اچھے ڈاکٹر کے پاس لے کر جاتا ہے۔ اسی کا علاج ہورہا ہے۔“ چچا نے کھانستے ہوئے جواب دیا۔ اگلے دن صبح صبح ہی بختاور نے میاں اللہ دتہ کو نہلا کر صاف ستھرے کپڑے پہنوائے اور کرایے کا ٹانگہ منگوا کر ہارون آباد کے لئے ان کو لے کر روانہ ہوگیا۔ ”میاں صاحب تندرست ہونے کا ارادہ نہیں ہے کیا؟“ڈاکٹر صاحب نے میاں اللہ دتہ کو چیک کرتے ہوئے پوچھا۔”کیوں نہیں۔ڈاکٹر صاحب تندرستی کسے نہیں چاہیے“۔میاں اللہ دتہ نے مسکرانے کی کوشش کرتے ہوئے جواب دیا۔ (جاری ہے)نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ حکومت پنجاب ملازمین کی کم ازکم اجرت 40ہزار روپے کو ریگولیٹ کرنے کیلئے پر عزم
کمروں کی طرف منہ کرکے زور زور سے آواز دی،حویلی کے کونے والے اندرونی حصہ سے وہی شخص برآمد ہوا جس نے حویلی کا اندرونی دروازہ کھولا تھا
RELATED ARTICLES



