77.3 F
Pakistan
Tuesday, May 5, 2026
HomeEntertainmentابھی اُڑان بھرنے کی سکت نہیں پا رہے، بہرحال یہ خاندان اپنی...

ابھی اُڑان بھرنے کی سکت نہیں پا رہے، بہرحال یہ خاندان اپنی خوش الحانی سے صبح کے وقت ساتھ بستے باسیوں کو اپنی خوش الحانی سے سرور پہنچا رہے ہیں

مصنف: ع۔غ۔ جانبازقسط: 137میرے گھر کو بنے چند ہی ماہ ہوئے ہوں گے کہ گھر کی پچھلی گلی میں واقع روشندان کے چھبجّے پر جنگلی کبوتروں کے ایک جوڑے نے رہائش اختیار کرلی۔ یہ جوڑا بھی کسی دُور دراز علاقے سے ہی نقل مکانی کر کے اِس پوش علاقے میں آیا۔ اس چھجّے کے موجودہ مکین تیسری چوتھی پشت سے ہیں۔ 2 چھوٹے نومولود بھی ہیں جو شیڈ پر بیٹھے رہتے ہیں۔ ابھی اُڑان بھرنے کی سکت نہیں پا رہے۔ بہرحال یہ خاندان اپنی خوش الحانی سے صبح کے وقت ساتھ بستے باسیوں کو اپنی خوش الحانی سے سرور پہنچا رہے ہیں۔ان بلّیوں کی بھی اپنی ہی ایک دنیا ہے۔ پارک میں اکثر دیکھتا ہوں گھات لگائے بیٹھی ہیں اور کسی حشرات الارض کی ذرا سی حرکت کی منتظر۔ بس فوراً جھپٹ کر دبوچ لیں گی۔ صبح صبح گھروں کے باہر کوڑے دانوں پر سوار نظر آئیں گی۔ خوب تلاشی لیں گی۔ کچھ مل گیا تو پیٹ کی نظر نہ ملا تو صبر شکر۔ لیکن یہ بات میری سمجھ سے باہر ہی رہی ہے کہ نر کے پیار و محبت کے سندیسے پر جو ناراضگی اور خفگی اِن مادہ بلیّوں کو ہوتی ہے اور جو اندوہناک چیخ و پکار ہوتی ہے کہ خدا کی پناہ! معلوم ہوتا ہے کہ کوئی محاذ جنگ ہے دشمن فوج کے خوف سے جان کے لالے پڑے ہیں اور چیخ و پکار جا ری ہے کوئی ہے جو اِن کو سمجھا سکے؟گھر میں زبردستی آکر قبضہ جماتی یہ ”کِرلی“ کونسا کرایہ دیتی ہے۔ بچّے دے دے تو آٹھ دس سے کیا کم ہوں گے۔ آج کل بڑی ہی آزادانہ گھر کی دیوروں پر سیر سپاٹے کر رہی ہے۔ ان سب کی دیکھا دیکھی پچھلے دنوں ایک موٹا تازہ چوہا ساتھ والے گاؤں سے نقل مکانی کر کے اس پوش علاقے میں آدھمکا۔ ایک دن دیکھا تو یوں آزدانہ پھر رہا تھا جیسے ابھی ابھی کرایہ ادا کر کے گھر کرایہ پر لیا ہو اور جائزہ لے رہا ہو۔ میں نے جو ااک عدد پنجرے کا انتظام کیا تاکہ اُسے اِس دخل اندازی کا مزہ چکھاؤں تو پتہ چلا کہ چوہا کافی پڑھا لکھا ہے۔ پنجرے کو دیکھتے ہی پھر وہ اِدھر نظر نہیں آیا۔میں اپنے روز مرہ دن میں کئی بار ملنے ملانے والے ہمسائیوں کا ذ کر تو کر چکا ہوں اب اگر کوئی دُور سے آکر آپ کی وقتی ہمسائیگی کا ڈول ڈال جائے اور آپ کی طبیعت ہشاّش بشاش کر جائے تو اُس کا ذکر بھی نہ کرنا زیادتی ہوگی۔ یہ جو ”کبوتر باز“ گھر کی چھتوں پر بانس کے بنے چھجّے پالتو کبوتروں کے لیے بنا کر اپنا شوق پورا کرتے ہیں اور اُن کو اپنا شوق پورا کرنے کے لیے اُڑانیں بھرنے کے لیے کھلا چھوڑ دیتے ہیں۔ بتائیں مجھ جیسے سرور و کیف کے متلاشی کو اپنی اُڑانوں سے مجھے اپنی زندگی میں اِسی طرح کی پُر جوش اُڑان بھرنے کا سندیسہ دے جاتے ہیں۔ میں پارک میں بیٹھا اُن کی روح پرور اُڑانوں کے انتظار میں بھی حظ اٹھا رہا ہوتا ہوں۔لیکن اگر ہمسائیگی میں کوئی ماورائے عقل چیز در آئے تو حق تو بنتا ہے کہ ِاس کی تہہ تک پہنچا جائے۔ آپ ماشاء اللہ بڑے ذہین اور معاملہ فہم نظر آتے ہیں۔ آپ کا بھی مُرغ صبح آگاہی سے تو واسطہ ہر روز پڑتا ہوگا۔ صبح اذان فجر کے ساتھ ہی یہ حضرات بھی اپنا فرض منصبی ادا کرنے لگ جاتے ہیں، اور اپنا حق ادا کرتے کرتے پَو پھٹنے تک لے جاتے ہیں جس کی چنداں ضرورت نہیں ہوتی۔ بہرحال ہر کام میں تھوڑی بہت ڈھیل کی گنجائش ہوتی ہے۔ (جاری ہے)نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ پاسداران انقلاب گارڈز نے آبنائے ہرمز سے 2 بحری جہاز گزرنے کا امریکی دعویٰ مسترد کر دیا

Read full story on Daily Pakistan

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments