مصنف: ع۔غ۔ جانبازقسط: 136اور پھر دل کے اتنے بڑے ہیں کہ اچھی جگہ پہ قبضہ پا کر خود غرض نہیں بنے۔ جب کبھی پرانی یاد آتی اور اُدھر آبائی گاؤں کی طرف جاتے ہیں تو وہاں بیٹھی نحیف و نزار چڑیوں، فاختاؤں، شارکوں کو بھی مدعو کرآتے ہیں۔ اِس طرح ڈی ایچ اے کے ہرے بھرے، کچھ پھولوں سے لدے درختوں پر دن بدن آبادی بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ اُوپر اُڑتی جہازی سائز کی2 چیلیں آپ کو اُڑانیں بھرتی بڑی ہی مسرور سی لگتی ہیں۔ ان کے بھی دادا یا پڑدادا نے پہلی دفعہ جو یہاں سرسبز و شادابی دیکھی تو دل دے بیٹھا اور نقل مکانی کر کے ہی دم لیا۔ سیانا تھا یہاں پارک میں سب سے بڑے ”Oranamental Tree“پر تقریباً 5-4 فٹ کا ایک مضبوط آشیانہ بنا دیا جو نسلوں چلے۔ اب اُن کی یہ تیسری یا چوتھی پشت ہوگی جو مجھے دن بھر اُڑانیں بھرتی نظر آتی ہیں۔ 2بڑے نر مادہ ہیں 2 اُن کے پچھلے دنوں انڈوں سے نکالے بچّے ہیں۔ جو صرف ایک درخت پر ہی یا ایک درخت سے دوسرے درخت تک اُڑ کر جاسکتے ہیں۔ دانہ دُنکا اُن کے بڑوں کی ابھی ذمہ داری ہے وہ لائیں اور اُن کو کھلائیں۔ لیکن یہ کوّے جو درجن بھر سے بھی زیادہ اسی بڑے درخت پر بسیرا کیے ہوئے ہیں، جونہی اُن کو چیلوں کے انڈے دینے کی نوید ہوئی تو تاک جھانک میں لگ جاتے ہیں کہ جیسے ہی نر اور مادہ چیلیں دونوں ہی اُڑان بھر جائیں تو فوراً انڈوں پر پل پڑتے ہیں۔ خدا جانے! جسامت میں اتنا چھوٹا اور جرأت اتنی وافر کہ آپ سے کئی گنا بڑے پرندے کے گھر ڈاکہ ڈال دیں اور خوف نہ کھائیں۔ اس سال اندرونی کہانی کا تو علم نہیں کیونکہ میں نے خود درخت پر چڑھ کر ساری صورتِ حال سے خبردار ہونے کا نہ سوچا تھا۔ بہرحال 2 انڈوں سے 2 بچّے نکل آئے اور آج کل سارا دن پارک میں بیٹھے اِن دونوں نومولودوں کو پہلے گھونسلے میں ہی مقیم اور اب اُسی درخت کی شاخوں پر یا پھر نزدیکی درختوں تک اُڑانیں بھرتے دیکھتا ہوں۔ جسامت میں کافی بڑے اِن چیل کے پرندوں کو کوّے اب بھی اُڑانوں کے دوران حملہ آور ہوتے ہیں اور اس کوشش میں کہ اُن کو گرا کر زخمی کردیں اور پھر اُن کو لقمہئ اجل بنا کر اپنے پیٹ کی آگ بجھائیں۔انڈے تو کوّے بھی اسی سیزن میں دیتے ہیں لیکن اِن کی اپنے انڈوں کی نگرانی اتنی سخت ہوتی ہے کہ جتنی 2ملکوں کے درمیان بارڈر کی نگرانی۔ مجال ہے جو کوئی اور پرندہ اور انسان اُن تک رسائی حاصل کرسکے۔ وہ بچّے نکال کر ہی دم لیتے ہیں۔ اگر آپ پر بھی کووّں کو شک پڑ جائے کہ آپ اُن کے انڈوں یا بچّوں کو نقصان پہچانے کے درپے ہیں تو جب آپ اُن کے گھونسلے کے پاس سے گذریں گے تو بڑی ہی سرعت سے آپ کے سر پر ایک زبردست ٹھونگ مار کر اُڑان بھر جائیں گے اور دوبارہ پیچھا کرنے سے بھی نہیں رکیں گے۔ میرے گھر کے مغرب میں واقع گھر کے شیڈ پر اِن دنوں 2نومولود کوّے کھلی چونچوں کے ساتھ بیٹھے وقفہ وقفہ سے کائیں کائیں کرتے ہیں۔ لمبی اُڑان ابھی نہیں بھر سکتے کبھی کبھی سامنے والے گھر تک اُڑان ہوجاتی ہے اور بس۔ یہ شارک بھی کیا شریف الطبع پرندہ ہے۔ بس اپنے کام سے کام! پارک میں میرے پاس آکر بس چھوٹے کیڑے مکوڑوں یا صبح صبح گھاس کی کونپلوں پر ٹھہری شبنم سے اپنی پیاس بجھاتی ہیں۔ لیکن آواز میں شیرینی نہیں تلخی ہے۔ یہ میرے سامنے میرے ساتھ جو چڑیاں پارک کے وسیع و سر سبز و شاداب لان میں نظر آتی ہیں۔ اِن میں ٹھہراؤ نام کی کوئی شے نہیں۔ آئیں پھُرتی سے یہاں سے دانہ دُنکا لیا اور اور پھر فوراً اُڑان بھر گئیں جیسے سارا شہر اُن کے پیچھے لگا اُن کی تاک میں ہی ہے۔ لیکن یہ نر چڑے نا جانے کس حکیم سے کُشتہ کھائے ہوئے ہیں، وقفہ بہت ضروری ہے، سے بالکل نابلد لگتے ہیں۔ (جاری ہے)نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ امریکہ نے ایران کی تجاویز کا جواب دے دیا، اسماعیل بقائی کی تصدیق
دل کے اتنے بڑے ہیں کہ اچھی جگہ پہ قبضہ پا کر خود غرض نہیں بنے،دادا یا پڑدادا نے سرسبز و شادابی دیکھی تو دل دے بیٹھا اور نقل مکانی کر کے ہی دم لیا
RELATED ARTICLES



