83.6 F
Pakistan
Sunday, May 3, 2026
HomeEntertainmentبچّوں کیساتھ دعوت کی کہ ملتے ملاتے رہیں گے، وہ دن اور...

بچّوں کیساتھ دعوت کی کہ ملتے ملاتے رہیں گے، وہ دن اور آج کا دن کبھی کبھی گھر سے گاڑی میں سوار ہوتے ہاتھ ہلا کر ہیلو ہائے ہوتی ہے

مصنف: ع۔غ۔ جانبازقسط: 135اُن میں سرفہرست غلام حسین صاحب ہیں۔ ائیرفورس سے ریٹائر ہیں۔ میرے آنے سے پہلے وہ یہاں آباد ہوچکے تھے۔ بھلے لوگ ہیں عیدین اور جمعۃ المبارک کے دن مسجد میں دُعا سلام ہوجاتی ہے۔ وہاب صاحب سے کبھی کبھار اپنے بیٹے کے ہمراہ پارک میں آئیں تو دعا سلام ہوجاتی ہے۔ شاہد صاحب آرکیٹکٹ ہیں۔ بیگم صاحبہ بھی کسی اعلیٰ عہدے پر براجمان ہے۔ کبھی کبھار سیر کرتے نظر پڑتے ہیں۔ سوئی گیس کے محکمے سے ریٹائر ہیں۔ بس جمعۃ المبارک کے دن ہی کبھی کبھی چہرہ شناسائی ہوتی ہے۔ شاہد صاحب سے میرے اور اُن کے گھر کی دیوار سانجھی ہے۔ چند سال پہلے یہ گھر خرید کر آئے تو بچّوں کے ساتھ دعوت کی کہ ملتے ملاتے رہیں گے۔ وہ دن اور آج کا دن کبھی کبھی اپنے گھر سے گاڑی میں سوار ہوتے ہوئے دس پندرہ فٹ کے فاصلے سے ہاتھ ہلا کر ہیلو ہائے ہوتی ہے۔ میرے گھر کے بالکل سامنے گلی کے اُس پار حنیف صاحب رہائش پذیر ہیں۔ بینک میں اچھّے عہدے سے ریٹائر ہیں۔ ابھی تک افسری شان جلوہ گر ہے۔ اگر کبھی کسی مجبوری کی وجہ سے آپ کو اُن کی ہم نشینی کا ڈول ڈالنا بھی پڑ جائے تو آپ کو اپنے پرانے قصّے دہراتے جائیں گے اور زبردستی باور کرائیں گے کہ اُن جیسا دیانتدار شخص سارے پاکستان میں ڈھونڈنے سے نہ ملے گا۔ لیکن اپنے ہاں نرینہ اولاد کی کمی کو یہ کہہ کر ختم کر دیتے ہیں کہ نرینہ اولاد کے بغیر انسانی زندگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ایک گھر چھوڑ کر سعید صاحب ہیں واجبی قد سلم سے ہیں۔ چند برس ہوئے گھر خرید کر ایک خوبصورت ماڈل گھر بنایا ہے۔ مل جائیں تو ایک مسکراہٹ سے استقبال کرتے ہیں۔ اُن کے ساتھ والے مولانا صاحب مسجد سے آتے جاتے دُور سے ضرور سلام دعا کرتے ہیں۔ اور اُن کے ساتھ بٹ صاحب کاروباری آدمی ہیں۔ کام پہ جاتے گاڑی میں کبھی کبھی ہیلو ہائے ہو جاتی ہے۔. .. .. .. .. .. . جج صاحب بڑے آدمی ہیں۔ سرِ راہ مل جائیں تو خندہ پیشانی سے ملتے ہیں اُن کی بیگم کی بہرحال میری بیگم سے شناسائی ہے۔ وہ بیمار پرسی کے لیے آئی بھی ہیں۔ ہر سال عید پر ہمسائیوں کی یاد آتی ہے اور گلے مل لیتے تھے۔ لیکن کمبخت ”کورونا“ نے اس سال یہ سالانہ میل ملاپ بھی چھین لیا۔ اب میں اپنے اُن ہمسائیوں کا ذکر کرنے جا رہا ہوں، جن سے صبح و شام تو اچھی خاصی ملاقات کا اہتمام گھر کے سامنے پارک میں ہوتا ہے۔ اِس کے علاوہ دن کے باقی ماندہ حصوں میں بھی ہم باہم ملتے ملاتے رتے ہیں۔ اب میں باری باری آپ کو اِن ہمسائیوں سے ملانے جا رہا ہوں جن کی بدولت میرے شب و روز روشن ہیں۔ سب سے پہلے اکثریت میں ہونے کی وجہ سے کووّں کا حق بنتا ہے۔ یہ سب مل ملا کے پچاس کے قریب ہوں گے۔ ماشاء اللہ بڑے ہی صحت مند و توانا ہیں۔ سارا دن درختوں اور بجلی کی تاروں پر بیٹھے ”کائیں کائیں“ کرتے ہیں۔ اور کبھی کبھار جو ڈھیلی پڑی دو تاروں کے درمیان بیٹھ جائیں تو ٹرانسفارمر کی”D“ کو ہی اُڑا کر خود بھی وہیں ڈھیر ہوجاتے ہیں۔ اِس سانحے کے بعد اپنے ساتھی کی موت پر جو ایک واویلا شروع کرتے ہیں تو دیکھنے والوں کا بھی دل پسیج جاتا ہے۔ اِن کے پڑدادا یہاں سے کچھ میل دور چھوٹے سے گاؤں کے باہر سوکھی سڑی کیکڑوں، بیریوں اور ٹنڈ منڈ درختوں پر بسیرا ڈالے ہوئے تھے اور تنگی و ترشی سے گزارہ کرتے تھے۔ جب ڈی ایچ اے آباد ہوا اور طرح طرح کے ”Ornamental Trees“ کی بہار اُن کو بھا گئی اور ڈی ایچ اے انتظامیہ سے رابطہ کیے بغیر یہاں نقل مکانی کر کے آگئے۔ اُس وقت کے نحیف و نزار کوے اب موٹے تازے صحت مند کوے اڑانیں بھرتے نہیں تھکتے اور یہاں کے مکینوں کو بھی خوب جینے کا سندیسہ دیتے ہیں اور مزید یہ دوسرے پرندوں سے بھی روزانہ کی بنیاد پر رسم و راہ رکھتے ہیں۔ (جاری ہے)نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ وائٹ بال کرکٹ میں موقع نہیں ملے گا تو کس طرح اوپر آؤں گا؟ سپنر ساجد خان

Read full story on Daily Pakistan

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments