72.6 F
Pakistan
Wednesday, April 22, 2026
HomeLifestyle’خلیجی سکرین کی ملکہ‘ کہلوانے والی کویت کی اداکارہ حیات الفہد سپرد...

’خلیجی سکرین کی ملکہ‘ کہلوانے والی کویت کی اداکارہ حیات الفہد سپرد خاک

’خلیجی سکرین کی ملکہ‘ کہلوائے جانے والی کویت کی نامور اور عہد ساز اداکارہ حیات الفہد کو گذشتہ روز سپرد خاک کر دیا گیا ہے۔ اٹھتر سالہ اداکارہ طویل علالت اور حالیہ شدید صحت ی خرابی کے بعد انتقال کر گئی تھیں۔ ان کے انتقال کی تصدیق الفہد ادارۂ فنون و پروڈکشن نے کی۔ خلیجی اخبارات کے مطابق حیات الفہد کی صحت گذشتہ ایک سال کے دوران نمایاں طور پر بگڑتی رہی۔ انہیں پہلی بار جولائی میں شدید طبی عارضے کے بعد ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان پر کیتھیٹر کا عمل کیا گیا۔ بعد ازاں پیچیدگیوں، جن میں فالج بھی شامل تھا، کے باعث ان کی حالت مزید خراب ہو گئی اور صحت میں تیزی سے تنزلی آئی۔ کومے میں چلے جانے کے بعد انہیں انتہائی نگہداشت میں منتقل کر دیا گیا، جہاں وہ مسلسل سخت طبی نگرانی میں رہیں۔ حالت کو سنبھالنے کی کوشش میں وہ مزید علاج کے لیے لندن بھی گئیں، جہاں ان کا ایک نہایت نازک آپریشن کیا گیا۔ تاہم ان کی صحت میں بہتری نہ آ سکی اور معالجین نے علاج جاری رکھنے کے لیے انہیں دوبارہ کویت واپس آنے کا مشورہ دیا۔ حیات الفہد کے سرکاری ویب پیج نے منگل کو ان کے 78 برس کی عمر میں انتقال کی تصدیق کی۔ ان کے ادارے کی جانب سے انسٹاگرام پر جاری بیان میں اہل خانہ نے طویل علالت کے بعد ان کی وفات کا اعلان کرتے ہوئے انہیں ‘خلیجی ڈرامے کی ایک علامت’ قرار دیا، اور کہا کہ ان کا ورثہ نسلوں تک باقی رہے گا۔ کویتی اداکارہ حیات الفہد (بائیں) دبئی انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں 8 اپریل 2010 کو کے چیئرمین عبدالحمید جمعہ سے گفتگو کر رہی ہیں جو 8 اپریل 2010 کو دبئی (کریم صاحب / اے ایف پی) بیان میں کہا گیا: ‘خدا کے حکم اور تقدیر پر کامل یقین رکھنے والے دلوں کے ساتھ ہم عظیم فنکارہ حیات الفہد کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہیں، جو بیماری سے طویل جدوجہد کے بعد اس جہان سے رخصت ہوئیں۔ انہوں نے ایک ایسا فنی سفر طے کیا جو تخلیقی اور انسانی خدمات سے بھرپور تھا۔’ ان کے انتقال کے بعد پورے خطے سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اماراتی گلوکارہ احلام الشمسی نے ایک جذباتی پیغام میں مرحومہ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں ‘ماں، بہن، دوست اور ہمارے دلوں کا ایک حصہ’ قرار دیا، اور خلیجی ناظرین پر ان کے دیرپا اثرات کو اجاگر کیا۔ مداحوں نے بھی سماجی رابطوں کے ذرائع پر شدید صدمے اور غم کا اظہار کیا۔ بہت سے افراد نے انہیں ان کرداروں اور ناموں سے یاد کیا جنہوں نے خلیجی ٹیلی وژن کی کئی نسلوں کی یادداشتوں میں مستقل جگہ بنائی۔ خلیجی ٹیلی وژن کو نئی جہت دینے والا سفر حیات الفہد کو اکثر ’خلیجی سکرین کی ملکہ‘ کہا جاتا تھا، اور وہ خلیجی ڈرامے کی مؤثر ترین شخصیات میں شمار ہوتی تھیں۔ انہوں نے اپنے فنی سفر کا آغاز 1960 کی دہائی میں کیا اور بعد ازاں بے شمار ٹیلی وژن کی سیریز میں اداکاری کے ساتھ ساتھ تحریر بھی کی، جو بالخصوص رمضان کے موسم میں عرب گھروں کا لازمی حصہ بن گئیں۔ ان کے فن کی نمایاں خصوصیت سماجی مسائل، خاندانی رشتوں اور معاشرے میں خواتین کے کردار جیسے موضوعات کو مؤثر انداز میں پیش کرنا تھا، جس کے باعث انہیں ناقدین کی تحسین اور عوامی مقبولیت دونوں حاصل ہوئیں۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) ان کے نمایاں فن پاروں میں ‘رقیہ و سبیکہ’، ‘خالتی قماشا’، ‘الدار الکبیرة’، ‘الہیفہ’ اور ‘البیت الکبیر’ شامل ہیں۔ ان ہی کرداروں کے ذریعے وہ خلیجی کہانی گوئی کی ایک فیصلہ کن آواز بن گئیں، اور ان کی اداکاری نے کئی نسلوں پر گہرا اثر چھوڑا۔ پردے سے آگے کا ورثہ اداکاری کے علاوہ حیات الفہد نے بطور مصنفہ اور پروڈیوسر بھی اہم کردار ادا کیا، اور خلیجی ٹیلی وژنی ڈرامے کی سمت متعین کرنے میں مدد دی۔ ان کا اثر صرف تفریح تک محدود نہیں تھا، بلکہ انہیں ایک ایسی ثقافتی شخصیت سمجھا جاتا تھا جو خلیجی معاشرے کی حقیقتوں اور تبدیلیوں کی عکاسی کرتی تھیں۔ ان کا انتقال علاقائی ٹیلی وژن کے ایک دور کے اختتام کے مترادف ہے، تاہم ان کا فن ان کہانیوں کے ذریعے ہمیشہ زندہ رہے گا جنہیں انہوں نے زندگی بخشی۔ کورونا وائرس کے دوران ہنگامہ اے ایف پی کے مطابق حیات الفہد ماضی میں ایک شدید تنازعے کا بھی مرکز بنی تھیں، جب انہوں نے کورونا وائرس کے دوران تیل سے مالا مال کویت سے تارکین وطن کو نکالنے کا مطالبہ کیا تھا تاکہ مقامی شہریوں کو بیماری کی صورت میں ہسپتال میں بستر میسر آ سکے۔ اداکارہ نے ایک مقامی ٹیلی وژن چینل سے گفتگو میں کہا تھا کہ صحت کے بحران کے دوران ملک میں موجود غیر ملکیوں کو نکال دینا چاہیے۔ انہوں نے ٹیلیفون پر گفتگو میں کہا تھا: ‘ہم تنگ آ چکے ہیں۔ اگر ہم بیمار ہو جائیں تو ہمارے لیے ہسپتال نہیں ہیں۔’ انہوں نے مزید کہا تھا: ‘اگر ان کے اپنے ملک انہیں نہیں چاہتے تو پھر ہم ان کا بوجھ کیوں اٹھائیں؟ کیا بحران کے دوران لوگوں کو واپس نہیں چلے جانا چاہیے؟’ ایک اور موقع پر ان کا کہنا تھا: ‘ہمیں انہیں باہر بھیج دینا چاہیے، صحرا میں رکھ دینا چاہیے۔ میں انسانیت کے خلاف نہیں ہوں، لیکن ہم اس مرحلے پر پہنچ چکے ہیں جہاں ہم بری طرح تنگ آ چکے ہیں۔’ ان بیانات پر سماجی رابطوں کے ذرائع پر شدید ردعمل سامنے آیا۔ ایک ٹوئٹر صارف نے ان کے خیالات کو ‘بالکل ناقابل قبول’ قرار دیا، جبکہ ایک اور شخص نے لکھا: ‘اس وقت کتنے کویتی شہری کویت سے باہر موجود ہیں؟ کیا پھر ان کے بارے میں بھی یہی منطق لاگو ہونی چاہیے؟’ اُس وقت کویت میں کویڈ 19 کے 317 متاثرہ مریض سامنے آئے تھے، جبکہ کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں تھی، اور نہ ہی یہ شواہد موجود تھے کہ طبی نظام پر بوجھ اپنی گنجائش سے بڑھ چکا ہے۔ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کویت نے خلیجی خطے میں سخت ترین اقدامات نافذ کیے تھے اور ملک کو بڑی حد تک بند کر دیا تھا۔ کویت نے یہ بھی اعلان کیا تھا کہ وہ کوِیڈ-19 کے تمام مریضوں کا مفت علاج کرے گا، جن میں غیر کویتی باشندے بھی شامل ہیں، اور یہ طبقہ ملک کی آبادی کا تقریباً 70 فیصد بنتا ہے۔ کویت اداکارہ کووڈ 19 ان کے انتقال کے بعد پورے خطے سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اماراتی گلوکارہ احلام الشمسی نے ایک جذباتی پیغام میں مرحومہ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں ’ماں، بہن، دوست اور ہمارے دلوں کا ایک حصہ‘ قرار دیا انڈپینڈنٹ اردو بدھ, اپریل 22, 2026 – 10: 00 Main image:

حیات الفہد کو اکثر ’خلیجی سکرین کی ملکہ‘ کہا جاتا تھا، اور وہ خلیجی ڈرامے کی مؤثر ترین شخصیات میں شمار ہوتی تھیں (فائل فوٹو/ روئٹرز)

خواتین type: news related nodes: کویت سے پتھر کے زمانے کے ’خلائی مخلوق نما‘ مجسمے دریافت کویت کا حزب اللہ سے منسلک گروہ گرفتار کرنے کا دعویٰ انڈین وزیر اعظم مودی کے لیے کویت کا اعلیٰ ترین شاہی اعزاز فرانس میں 46 جینیاتی تبدیلیوں والا نیا کویڈ ویرینٹ دریافت SEO Title: ’خلیجی سکرین کی ملکہ‘ کہلوانے والی کویت کی اداکارہ حیات الفہد سپرد خاک copyright: show related homepage: Hide from Homepage

Read full story on Independent Urdu

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments