ٹک ٹاک اپنے امریکی صارفین کو چینی ساختہ الیکٹرک گاڑیوں کی بے تحاشا ویڈیوز دکھا رہا ہے، جس سے ایسی کاروں کی مانگ بڑھ رہی ہے جو امریکہ میں فروخت کے لیے دستیاب ہی نہیں۔ چینی کار برانڈز جیسے بی وائی ڈی، شاؤمی اور زیکر امریکی صارفین کو ایسی الیکٹرک گاڑیوں کی طرف راغب کر رہے ہیں جو بیک وقت لگژری اور سستی محسوس ہوتی ہیں۔ تاہم بھاری ٹیرف اور سخت ضوابط کے باعث امریکی شہری فی الحال ان چینی گاڑیوں تک رسائی حاصل نہیں کر سکتے۔ الیکزینڈرا کوزاک نے ٹک ٹاک پر 2023 کی بی وائی ڈیسی گل ہیچ بیک کی تعریف کی جس کی قیمت صرف 13 ہزار ڈالر ہے۔ انہوں نے گاڑی کے 10 انچ کے گھومنے والی ٹچ سکرین، ایمزون میوزک سپورٹ، وائرلیس چارجر اور چار ایئربیگ سسٹم کا ذکر کیا۔ انہوں نے جنوری 2025 میں پوسٹ کی گئی ویڈیو میں کہا ’یہ ایک بہترین قیمت ہے، جو لوگوں کو یہاں ملنی چاہیے، نہ کہ ایسی گاڑیاں جو 30 ہزار ڈالر سے شروع ہوتی ہیں۔‘ کار انفلوئنسر فورسٹ جونز، جن کے ٹک ٹاک پر 8. 2 ملین فالوورز ہیں، کئی چینی گاڑیوں کو دکھا چکے ہیں، جن میں زیکر 9 ایکس بھی شامل ہے، جسے انہوں نے ’دنیا کی سب سے طاقتور‘ ایس یو وی قرار دیا۔ زیکر 9 ایکس میں مساج کرنے والی نشستیں، مسافر اور ڈرائیور دونوں کے لیے ٹچ سکرین اور پینورامک روف شامل ہیں۔ جونز نے یہ بھی دکھایا کہ پچھلی نشستیں مزید آرام کے لیے پیچھے کی طرف جھکائی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو میں کہا ’اب میں مکمل طور پر ری کلائن ہو سکتا ہوں، میرے پاس گرم لیگ ریسٹ ہے، فٹ ریسٹ ہے، ایک کولر ہے جو میرے مشروبات کو ٹھنڈا رکھتا ہے اور ایک ٹیبلٹ بھی ہے۔‘ اگرچہ زیکر 9 ایکس ایک لگژری گاڑی ہے لیکن جونز کے مطابق اس کی قیمت 83, 000 ڈالر تک پہنچتی ہے۔ 2024 میں اس وقت کے صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے چینی الیکٹرک گاڑیوں پر 100 فیصد ٹیرف عائد کر دیا تھا۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) بعد ازاں بائیڈن انتظامیہ نے مخالف ممالک کے گاڑیوں کے سافٹ ویئر اور ہارڈویئر پر پابندی لگا کر امریکی سڑکوں پر چینی گاڑیوں کے امکانات کو تقریباً ختم کر دیا۔ بائیڈن نے عہدہ چھوڑنے سے قبل ایک قانون پر بھی دستخط کیے جس کے تحت قومی سلامتی کے خدشات کے پیش نظر چینی کمپنی بائٹ ڈانس پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ ٹک ٹاک کے امریکی آپریشنز فروخت کرے۔ چینی کار ساز کمپنیوں نے عندیہ نہیں دیا کہ وہ جلد امریکی مارکیٹ میں داخل ہونے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ زیکر کی پیرنٹ کمپنی گیلی نےبلوم برگ کو بتایا کہ ’ہم امریکی ریویورز کی مثبت رائے کو پسند کرتے ہیں، لیکن امریکی انفلوئنسرز کے ساتھ ہماری شراکت داری کا مطلب یہ نہیں کہ ہم جلد امریکہ میں لانچ کر رہے ہیں۔‘ چین کی سب سے بڑی کار ساز کمپنی بی وائی ڈی اور شاؤمی نے بھی کہا کہ ان کا امریکہ میں گاڑیاں متعارف کرانے کا کوئی منصوبہ نہیں۔ تاہم، اگر مستقبل میں چینی کار ساز اپنا فیصلہ بدلتے ہیں تو تقریباً 40 فیصد امریکی ان کی گاڑیاں خریدنے پر غور کر سکتے ہیں۔ کاکس آٹوموٹو کی پیرنٹ کمپنی کیلی بلیو بک کی ایک تحقیق کے مطابق 38 فیصد امریکیوں نے کہا کہ اگر چینی گاڑیاں امریکہ میں دستیاب ہوں تو وہ انہیں خریدنے پر سنجیدگی سے غور کریں گے۔ ٹک ٹاک بی وائی ڈی الیکٹرک کار ٹک ٹاک اپنے امریکی صارفین کو چینی ساختہ الیکٹرک گاڑیوں کی بے تحاشا ویڈیوز دکھا رہا ہے، جس سے ایسی کاروں کی مانگ بڑھ رہی ہے جو امریکہ میں فروخت کے لیے دستیاب ہی نہیں۔ ریچل ڈوبکن بدھ, اپریل 22, 2026 – 08: 30 Main image:
(پکسابے/antonbe)
ٹیکنالوجی type: news related nodes: ٹک ٹاک: لائیکس کی دنیا میں دکھ کا مول نہیں ہزاروں امریکیوں نے ٹک ٹاک ڈیلیٹ کیا، کیا اس ایپ کا خاتمہ قریب ہے؟ پاکستان میں بی وائی ڈی کی دو نئی گاڑیاں، قیمت کیا ہے؟ پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں زیادہ، چارجنگ سٹیشنز کم SEO Title: کیا ٹک ٹاک امریکیوں میں چینی الیکٹرک گاڑیوں کی مانگ بڑھا رہا ہے؟ copyright: IndependentEnglish origin url: https: //www. the-independent. com/news/world/americas/tiktok-china-cars-ev-demand-b2962206. html show related homepage: Hide from Homepage



