70.7 F
Pakistan
Tuesday, April 21, 2026
HomeEntertainmentاکشے کمار کی ہارر کامیڈی فلم ’بھوت بنگلہ‘ ہنسانے میں ناکام، مسئلہ...

اکشے کمار کی ہارر کامیڈی فلم ’بھوت بنگلہ‘ ہنسانے میں ناکام، مسئلہ کیا ہوا؟

بولی ووڈ سپر اسٹار اکشے کمار اور ہدایت کار پرین درشن کی جوڑی اپنی حالیہ ہارر کامیڈی فلم ’بھوت بنگلہ‘ کے ذریعے شائقین کو متاثر کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ فلم مزاح اور خوف کے نام پر ایک ایسا تجربہ ہے جو ناظرین کو ہنسانے کے بجائے اکتاہٹ کا شکار کر دیتا ہے۔ فلم کی کہانی ایک فرضی مقام ’منگل پور‘ نامی علاقے کے گرد گھومتی ہے جہاں چمگادڑ نما ایک پراسرار مخلوق ’ودھاسور‘ کا راج ہے۔ یہ مونسٹر نئی نویلی دلہنوں کو اغوا کر کے مار دیتا ہے، جس کی وجہ سے علاقے میں شادیاں ہونا بند ہو جاتی ہیں۔ اسی دوران ارجن (اکشے کمار)، جو کہ ایک مقروض اور لاپرواہ نوجوان ہے، اپنی بہن (متھلا پالکر) کے وراثتی محل کی تزئین و آرائش کے لیے وہاں پہنچتا ہے اور پھر کہانی میں بھوتوں اور انسانی حماقتوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ ابتدا میں مزاحیہ انداز میں پیش کی جانے والی یہ کہانی جلد ہی کمزور اسکرپٹ اور غیر مؤثر مزاح کی وجہ سے اپنی گرفت کھو دیتی ہے۔ فلم میں کردار مسلسل چیخ و پکار اور غیر ضروری حرکات کے ذریعے مزاح پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن یہ انداز ناظرین کو متاثر کرنے کے بجائے انہیں الجھن میں ڈالتا ہے۔ فلم میں مزاح پیدا کرنے کے لیے پرانے اور گھسے پٹے فارمولوں کا سہارا لیا گیا ہے۔ ناقدین کے مطابق فلم میں استعمال ہونے والے زیادہ تر کامیڈی مناظر پرانے اور غیر دلچسپ ہیں، جبکہ ہارر کے مناظر بھی محض روایتی طریقوں جیسے دروازوں کی چرچراہٹ اور سایوں تک محدود رہتے ہیں، جس سے خوف کا عنصر بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔ پاریش راول، راجپال یادو اور لیجنڈری اداکار اسرانی (اپنی آخری فلم میں) جیسے منجھے ہوئے فنکاروں کی موجودگی کے باوجود مکالمے اور سچویشنز ہنسانے میں ناکام رہیں۔ اکشے کمار نے ہمیشہ کی طرح بھرپور توانائی دکھانے کی کوشش کی، لیکن کمزور اسکرپٹ کی وجہ سے ان کی محنت رائیگاں گئی۔ فلم میں تبو اور وامیکا گبی جیسی باصلاحیت اداکاراؤں کو شامل تو کیا گیا ہے، لیکن ان کے پاس کرنے کے لیے کچھ خاص نہیں تھا۔ فلم کا اختتام ایک طویل اور تھکا دینے والے کلائمیکس پر ہوتا ہے، جہاں حسد اور دھوکے کی ایک ادھوری کہانی پیش کی گئی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ فلم کا ایک مکالمہ جس میں اکشے کمار اپنی بہن سے کہتے ہیں کہ جو کچھ ہوا اسے ایک ’برا خواب‘ سمجھ کر بھول جاؤ، دراصل پوری فلم پر صادق آتا ہے۔ یہ دو گھنٹے سے زائد طویل فلم شائقین کے لیے کسی برے اور نہ ختم ہونے والے خواب سے کم نہیں ہے۔

Read full story on Aaj

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments