پاکستان کی معیشت کے لیے سعودی عرب کی جانب سے ایک بار پھر بڑی مدد سامنے آئی ہے جس سے ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا ملا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے منگل کے روز تصدیق کی ہے کہ اسے سعودی عرب کی وزارت خزانہ کی جانب سے مزید ایک ارب ڈالر کی رقم موصول ہو گئی ہے۔ مرکزی بینک کے مطابق یہ رقم اس تین ارب ڈالر کے اضافی ڈیپازٹ کی دوسری قسط ہے جس کا معاہدہ حال ہی میں دونوں ممالک کے درمیان ہوا تھا۔ اس سے قبل دو ارب ڈالر کی پہلی قسط 15 اپریل کو موصول ہوئی تھی، جس کے بعد اب سعودی عرب کے وعدہ کردہ تین ارب ڈالر کی منتقلی مکمل ہو گئی ہے۔ سعودی عرب کی وزارت خزانہ کے ترجمان نے غیر ملکی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے اس تعاون کی تصدیق کی اور کہا کہ ہم اس بات کی تصدیق کر سکتے ہیں کہ سعودی عرب نے پاکستان کی ادائیگیوں کے توازن کو سہارا دینے کے لیے تین ارب ڈالر کے ڈیپازٹ پر اتفاق کیا تھا۔ یہ مالی امداد ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب پاکستان کو رواں ماہ متحدہ عرب امارات کو ساڑھے تین ارب ڈالر کا قرض واپس کرنا ہے، جو کہ ملک کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر کا تقریباً اٹھارہ فیصد بنتا ہے۔ ان میں سے دو ارب ڈالر پاکستان واپس کر چکا ہے۔ سعودی عرب کے اس تعاون سے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم کرنے میں مدد ملے گی۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے گزشتہ ہفتے واشنگٹن میں صحافیوں کو اس حوالے سے اہم تفصیلات بتاتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی عرب نے تین ارب ڈالر کے نئے ڈیپازٹ کا وعدہ کیا ہے جو جلد پاکستان کو مل جائیں گے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سعودی عرب کے پہلے سے موجود پانچ ارب ڈالر کے ڈیپازٹ کی مدت میں بھی تین سال کی توسیع کر دی گئی ہے اور اب یہ رقم ہر سال رول اوور کرنے کے طریقہ کار کے بجائے طویل مدت کے لیے پاکستان کے پاس رہے گی۔ وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ریاض نے نہ صرف نئی رقم فراہم کی ہے بلکہ پرانے پانچ ارب ڈالر کے ڈیپازٹ کو بھی طویل مدت کے لیے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ واضح رہے کہ سعودی عرب نے ہمیشہ مشکل معاشی حالات میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ اس سے قبل سن 2018 میں بھی ریاض نے پاکستان کے لیے چھ ارب ڈالر کے پیکیج کا اعلان کیا تھا جس میں تین ارب ڈالر نقد ڈیپازٹ اور تین ارب ڈالر کی ادھار تیل کی سہولت شامل تھی۔ حالیہ امداد سے پاکستان کو اپنی عالمی مالیاتی ذمہ داریاں پوری کرنے میں آسانی ہوگی اور روپے کی قدر کو استحکام ملے گا۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ دوست ممالک کی جانب سے اس طرح کے تعاون سے پاکستان کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ جاری بات چیت میں بھی پوزیشن مضبوط ہوگی۔



