امریکہ اور ایران کے درمیان رابطے جاری ہیں۔اُمید کی کرنیں اپنا آپ دکھا رہی ہیں۔ پاکستان کی سفارت کاری عروج پر ہے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا ڈنکا بجا رہے ہیں تو ایران بھی پاکستان کے ترانے گا ر ہا ہے۔فیلڈ مارشل نے ایرانی رہنماؤں سے بامعنی مذاکرات کیے ہیں اور حالات کا رُخ بدل ڈالا ہے۔امریکہ نے اسرائیل کو لبنان میں جنگ بندی پر مجبور کیا، تو ایران نے آبنائے ہرمز کو کھول دیا۔پوری دنیا میں اُمید اور اطمینان کی لہر دوڑ گئی۔اسلام آباد میں مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہونے کو ہے۔ صدر ٹرمپ اور ایرانی رہنماؤں کے درمیان بیان بازی جاری ہے۔ ایک دوسرے سے اختلاف بھی کیا جا رہا ہے،اپنی اپنی بات پر اصرار بھی ہو ر ہا ہے لیکن بات چیت جاری رکھنے پر بھی اتفاق ہے۔ ڈیڈ لاک پیدا نہیں ہوا۔ تفصیلی معاہدے پر غور و خوض جاری ہے۔صدر ٹرمپ دستخط کرنے کے لیے اسلام آباد آنے پر تیار دکھائی دے رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان واحد ثالث ہے اِس کے ذریعے بات آگے بڑھ رہی ہے۔وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب اور قطر سے ہوتے ہوئے ترکیہ پہنچے اور وہاں سے گھر لوٹے ہیں۔پاکستان کا نام ہر طرف گونج رہا ہے۔ اسے حروفِ تحسین سے نوازا جا رہا ہے۔ اور تو اور انڈیا میں بھی پاکستان کا اعتراف کرنے والی آوازیں اُٹھ رہی ہیں۔قیام اَمن کے لیے اس کے کردار کو سراہا جا رہا ہے کہ یہ خود بھارت کے مفاد میں بھی ہے۔ جنگ مستقل طور پر بند ہو گی، اَمن بحال ہو گا تو بھارتی معیشت بھی بحال ہو گی،وہاں کے لوگ بھی اطمینان کا سانس لے سکیں گے۔ بحرین کا ایرانی حملوں سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کا مطالبہ ہر پاکستانی کیا ہر اُس شخص کی دُعا ہے کہ مذاکرات کامیاب ہوں، جو اَمن کا متلاشی ہے۔ مصالحت اور مفاہمت میں پاکستان کے کردار نے پوری قوم کو سربلند کیا ہے۔ گذشتہ آٹھ عشروں میں سفارتی محاذ پر ایسی رفعتیں اس کے حصے میں نہیں آئیں جو اب دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت اور اس کے سفارت کاروں نے اپنی مہارت،محنت اور لگن کا لوہا منوا لیا ہے۔ پاکستان کی فوج ہی دنیا کی بہترین فوجوں میں شمار نہیں ہوتی،اس کے سفارت کار بھی نگاہوں کا مرکز ہیں۔اُمید کی جا رہی ہے کہ ایران اور امریکہ آمنے سامنے بیٹھ کر ایسے معاہدے پر متفق ہو جائیں گے جس کے نتیجے میں پائیدار اَمن قائم ہو سکے گا۔اس کے لیے امریکہ اور ایران دونوں کو بہت کچھ کرنا پڑے گا۔ اسرائیل پر کڑی نظر رکھنا ہو گی،اُسے بھی کسی قاعدے اور ضابطے کا پابند بنانا ہو گا۔ اسرائیل نے بین الاقوامی قوانین کی جو مٹی پلید کی ہے،اِس سے ہر شخص آگاہ ہے۔اقوام متحدہ کی قراردادوں کو ہَوا میں اُڑایا ہے۔ بین الاقوامی عدالت ِ انصاف کے احکامات کا مذاق بنایا ہے،اس کی منہ زوری اور خوں ریزی نے اسے عالمی رائے عامہ کی نظر میں گرا دیا ہے۔ امریکہ میں بھی سوالات اُٹھ رہے ہیں کہ امریکہ پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی اجازت کسی اسرائیلی وزیراعظم کو کیونکر دی جا سکتی ہے۔ واضح طور پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ نیتن یاہو نے امریکی صدارت بھی ”سنبھال“ لی ہے۔ صدر ٹرمپ کو ورغلا کر ان سے وہ کچھ کرا گذرا ہے جو امریکہ کی سبکی اور رسوائی کا سبب بن گیا ہے۔ ملک کے بیشتر علاقوں میں تیزہواؤں،آندھی کے ساتھ بارش، ژالہ باری متوقع ایران اور امریکہ دونوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایک دوسرے کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے کے بجائے وسیع تر تناظر میں سوچیں۔صدر ٹرمپ اور ان کے حواریوں نے آسمان سر پر اُٹھا رکھا ہے کہ ایران کو جوہری طاقت نہیں بننے دیں گے، دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ ایران نے کبھی اسے اپنا ہدف قرار ہی نہیں دیا۔ اس کے سپریم لیڈر ایٹم بم کے حصول کو حرام قرار دے چکے ہیں۔ ایران چیخ چیخ کر یہ اعلان کرتا چلا آ رہا ہے کہ وہ ایٹم بم بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔اسے پُرامن مقاصد کے لیے ایٹمی توانائی کا حصول مقصود ہے جو کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت ہر ملک کا حق ہے۔ایران این پی ٹی پر دستخط کر چکا،اِس کا پروگرام بین الاقوامی معائنہ کاروں کی نگرانی میں کام کرتا رہا ہے، امریکہ نے خود حالات کو بگاڑا، اور یک طرفہ اقدامات کے ذریعے ماحول کو پراگندہ کیا ہے۔ محمد رضوان کا اعتراف، ناقص کارکردگی ٹیم کی شکست کا سبب بنی جوہری صلاحیت کے بارے میں اصولی اتفاقِ رائے کے بعد کسی تنازعے کو سر اُٹھانے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ فریقین کا مفاد اِس میں ہے کہ جزوی تفصیلات کو اتنا بڑھایا نہ جائے کہ اصل مقصد نگاہوں سے اُوجھل ہو جائے۔ ایران اور امریکہ دونوں کو اِس حوالے سے قابل عمل اقدامات تجویز کرنا چاہئیں۔ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت جو معاونت کر رہی ہے،وہ سب کے سامنے ہے۔ اُمید ہے اسلام آباد میں مذاکرات کا نیا دور فیصلہ کن ثابت ہو گا، دنیا بھر میں اِس پر اطمینان کا سانس لیا جا سکے گا۔ ہمارے فیصلہ سازوں کی بین الاقوامی پذیرائی اپنی جگہ،قومی سالمیت اور استحکام کا تقاضہ ہے کہ ہم اپنے داخلی مسائل کو بھی اوجھل نہ ہونے دیں۔معاشی اور سیاسی مشکلات کو کم کرنے کی تدبیر کریں۔ صنعتی ترقی کی رفتار کو تیز کرنے اور سیاسی تناؤ میں کمی لانے کے لیے موثر اقدامات کی فوری ضرورت ہے۔ متحدہ عرب امارات نے قرض کی واپسی کا مطالبہ کر کے جو مشکل پیدا کی تھی، سعودی عرب کی مداخلت نے اُسے آسان کر دیا لیکن ہمیں اپنے مسائل کا مستقل حل دریافت کرنا ہو گا۔ پاکستان نے دفاعی اور عسکری شعبوں میں جو صلاحیت حاصل کی ہے اس نے اسے عالمی کردار ادا کرنے کے قابل بنایا ہے۔دوست ممالک کے ساتھ مل بیٹھ کر ایسی سرمایہ کاری کے مواقع بھی تلاش کرنا ہوں گے جو ہماری معیشت کو توانا بنا سکیں۔پاکستان پر اِس وقت ایک سو چالیس ارب ڈالر کے قریب بیرونی قرضے کا بوجھ ہے۔سعودی عرب اور بعض دوسرے خلیجی ممالک امریکہ میں کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے اعلانات کرتے رہے ہیں۔اگر آئندہ پانچ سال میں پاکستان میں ایک کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کو ممکن بنا دیا جائے تو ہمارے دلدّر دور ہو سکتے ہیں۔اس کے لئے قابل عمل منصوبے بنانا ہوں گے، سرکاری اور نجی شعبوں کو سر جوڑ کر بیٹھنا ہو گا۔ تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے چند ایسے قیدیوں نے جو فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ ہیں، ایک مشترکہ بیان میں ایران اور پاکستان کی کامیابیوں پر مبارکباد دیتے ہوئے قومی سیاست میں بھی مفاہمت کا راستہ اختیار کرنے پر زور دیا ہے۔ بیرسٹر حسان اللہ خان نیازی اور بریگیڈیئر ریٹائرڈ جاوید اکرم سمیت کوٹ لکھپت جیل لاہور میں موجود19 قیدیوں نے اُمید ظاہر کی ہے کہ مقتدر حلقے ماحول کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اندرون ملک ایسے ہی مکالمے کے جذبے کو اپنائیں گے۔ اُن کا کہنا ہے کہ کوئی بھی ملک اُس وقت مضبوط نہیں ہو سکتا جب اُس کے عوام سیاسی طور پر منقسم اور باہمی انتشار کی لپیٹ میں ہوں۔ ممتاز دانشور اور کالم نگار حفیظ اللہ خان نیازی نے یہ بیان جاری کرتے ہوئے لکھا ہے کہ میں اپنی طرف سے پی ٹی آئی کے قیدیوں کے جذبے اور دانائی کو سراہتا ہوں،اِس اُمید کے ساتھ کہ ”پاکستان ہمیشہ زندہ باد“ کا نعرہ لگانے والے اِن نوجوان آوازوں پر توجہ دیں۔ ہم ہارنے کی عادت 5 سال پہلے چھوڑ چکے، اب قلندرز نے 3 بار ٹرافی جیت کر فتح کو عادت بنالیا ہے: حارث وقت آ گیا ہے کہ اِس معاملے میں سنجیدگی سے غور کیا جائے،تمام”سیاسی قیدیوں“ کے معاملات پر نظرثانی ہو، پہلے مرحلے میں (کم از کم) عمر رسیدہ اور بیمار افراد پر زنداں کے دروازے کھولے جا سکتے ہیں۔ امریکہ اور ایران اگر خون کے دریا عبور کرنے کے بعد بات چیت پر آمادہ ہو سکتے ہیں، تو پاکستانی سیاستدان ایک دوسرے کے لیے دِل کے دروازے کیوں نہیں کھول سکتے؟ (یہ کالم روزنامہ ”پاکستان“ اور روزنامہ ”دُنیا“ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے) ٭٭٭٭٭



