66.1 F
Pakistan
Sunday, April 19, 2026
HomeBreaking Newsیہ ہے ہماراپاکستان

یہ ہے ہماراپاکستان

اب توپتہ چل گیاہوگاکہ پاکستان کیا چیز ہے۔؟ جو لوگ کل تک شام،لبنان اور لیبیا جیسے ممالک سے پاکستان کا تقابل کر رہے تھے امیدہے کہ فیلڈمارشل کے دورہ ایران سے اب انہیں پاکستان کی اصلیت ،حقیقت اورحیثیت کاپتہ لگ گیاہوگا۔ ایران کی ان فضاؤں جن سے اب بڑے بڑوں کوبھی ڈرلگتاہے،ان فضاؤں میں پاکستانی جہازوں کاشاہینوںکی طرح اڑناوپھرنایہ اس ملک کاہی خاصاہوسکتاہے جو خود دفاعی طور پر مضبوط ہو۔ کل تک ہم صرف یہی سنتے اورپڑھتے رہے کہ پاکستان ایک کمزور ریاست ہے ۔ اس کے فیصلے بیرونی دباو¿ کے تابع ہوتے ہیں اور اس کے عوام یا قیادت میں وہ جرات نہیں جوسراٹھاکردنیاکے سامنے چل سکیں یا بڑے عالمی معاملات میں اپناکوئی مو¿قف اختیار کر سکیں مگر اسلام آبادمیں پاکستانی میزپر امریکہ اورایران کے درمیان مذاکرات اور پھر ایران کی پرخطر فضاؤں میں فیلڈمارشل کے طیارے کو اڑان بھرتے دیکھ کرواللہ دل خوش اور سرفخرسے بلندہوگیا۔عام حالات میں توجس طرح بھی ہو اوچ نیچ کے ساتھ نظام چل اورگزاراہوجاتاہے لیکن جب امریکہ جیسی عالمی طاقتیں اپنے مفادات کے تحت صف بندیاں کر رہی ہوںتوپھر ایسے میں کسی ملک کا متوازن، خودمختار اور واضح مو¿قف اختیار کرناہرگز آسان نہیں ہوتا۔ پاکستان نے موجودہ نازک حالات میں جس انداز سے اپنے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے سفارتی اور عسکری سطح پراپنی موجودگی دکھائی ہے۔ یہ دنیاکے ساتھ پاکستان کے ان دشمنوں کے لئے بھی ایک واضح پیغام ہے کہ پاکستان نہ تو تنہا ہے اور نہ ہی کمزور۔ پاکستان تنہا ہوتا تو امریکہ اور ایران مذاکرات کے لئے اسلام آباد نہ آتے نہ ہی وزیراعظم شہبازشریف عرب ممالک اور فیلڈمارشل عاصم منیر ایران کے دورے پر جاتے۔ جوملک تنہا ہوتاہے ان کے حکمران مودی کی طرح ہاتھ ملتے، فوجی افسران اپنی ناک رگڑتے اور صحافی مفت میں گلے پھاڑتے رہتے ہیں۔ وہ امریکہ اورایران جوسینتالیس سال سے ایک دوسرے کا گوشت نوچنے اورخون چوسنے سے کم کوئی کام اور اقدام کرنے پر تیارنہیں تھے اسی پاکستان کی وجہ سے وہ دونوں ممالک برسوں بعدایک دوسرے کے سامنے بیٹھنے اوربات کرنے کے لئے تیار ہو گئے۔ امریکہ اور ایران کی جنگ توپاکستان اس دن ہی جیت گیاتھاجس دن امریکہ اورایران کے اعلیٰ سطح کے لوگ ایک دوسرے سے بات اورمذاکرات کے لئے پہلی بار پاکستان آگئے تھے۔ ثالث اورجرگوئی بنناہربندے کے بس کی بات نہیں۔ لوگوں کے درمیان راضی نامہ اورفیصلے کرانے کے لئے تومودی جیسے فارغ لوگ بھی اس دنیامیں بہت پھرتے ہیںلیکن ثالث اورجرگوئی وہی بنتاہے جس پرنہ صرف فریقین بلکہ دنیاکواعتماد،بھروسہ اوریقین ہو۔ امریکہ اورایران جیسے دوممالک کے درمیان ثالث اورجرگوئی بنناکوئی آسان نہیں ۔اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان نہ صرف خوش قسمت بلکہ بہت خوش نصیب بھی ہے کہ بھارت جیسے مکاراوراسرائیل جیسے اغیارکے ہوتے ہوئے یہ امریکہ اورایران کاجرگوئی بنا۔یوٹیوب کے نکے نکے بچے اوراغیارکے بڑے بڑے مگرمچھے چاہے کچھ بھی لکھیں اورکہیں پرسچ یہی ہے کہ واشنگٹن اور تہران والوں کااسلام آباد جرگوئی کے قدموں میں آنایہ کوئی چھوٹی اورمعمولی بات نہیں۔ اغیار اور مکار کے دلال پہلے اپنے سرپھاڑاورڈھنڈوراپیٹ رہے تھے کہ امریکہ والے مذاکرات کے لئے پاکستان نہیں آئیں گے جب امریکہ کی طرف سے وفدکاآناکنفرم ہواتوپھرسوشے چھوڑنے لگے کہ ایران پاکستان میں مذاکرات کے لئے تیار نہیں لیکن جب ایران کی جانب سے بھی پاکستان آنااورمذاکرات کی میز پر بیٹھنا اوکے ہو گیا تو پھردل بہلانے کے لئے مذاکرات کی ناکامی جیسی باتیں پھیلانے لگے۔ امریکی نائب صدر کا کسی معاہدہ کئے بغیر واپس جانے پراس قبیل سے تعلق رکھنے والے دانشوروں اوریوٹیوبروں کواتنی خوشی ہوئی کہ جیسے امریکی نائب صدرنہیں ان کا داداامریکہ گیاہو۔ پہلی بات مذاکرات کی ناکامی سے پاکستان کی عزت کچھ کم نہیں ہونی۔اللہ نے پاکستان کوجوعزت دینی تھی وہ دے دی ہے اب سوشل میڈیاکے کرایہ داردن کوچیخیں یارات کوچلائیں وہ عزت واپس نہیں ہونی۔پاکستان کاکام امریکہ اورایران کومذاکرات کے لئے اپنے درپرپاکستان لاناتھااورالحمداللہ پاکستان ان دونوں کولے آیا۔عقل کے اندھوں مذاکرات کامیاب ہوں یا ناکام، پاکستان تو کامیاب ہو گیاہے نا۔ کسی ملک اور قوم کی طاقت کا اندازہ اس کے فیصلوں، اس کی قیادت کی حکمت عملی اور مشکل وقت میں اس کے طرزعمل سے ہوتا ہے۔ پاکستان نے اپنے قول،فعل اورعمل سے دنیا کو دکھا اور بتا دیاہے کہ پاکستان ایشین ٹائیگربن چکا،اب اس کاراستہ روکناکسی کےلئے آسان نہیں ہوگا۔

Read full story on Nai Baat

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments