54.5 F
Pakistan
Sunday, March 29, 2026
HomeLifestyleپاکستان، امریکا اور ایران کے درمیان ثالث کیوں بنا، غیر متوقع سفارتی...

پاکستان، امریکا اور ایران کے درمیان ثالث کیوں بنا، غیر متوقع سفارتی کردار کی وجوہات کیا ہیں؟

ایران پر امریکا اور اسرائیل کے مسلسل حملوں کے بعد علاقائی جنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ اس دوران پاکستان ایک غیر متوقع ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے، جو واشنگٹن اور تہران کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے اپنی خدمات پیش کر رہا ہے۔ امریکی خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان ثالث کا یہ کردار کئی وجوہات کی بنا پر ادا کرنے کو تیار ہوا ہے۔ ان وجوہات میں سے ایک تو یہ ہے کہ پاکستان کے واشنگٹن اور تہران دونوں کے ساتھ نسبتاً اچھے تعلقات ہیں، اور دوسرا یہ کہ اس جنگ کے خاتمے میں پاکستان کا اپنا بہت بڑا مفاد وابستہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق، پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ امن کی یہ کوششیں ہفتوں کی خاموش سفارت کاری کا نتیجہ ہیں۔ ایران امریکا مذاکرات میں پاکستان کے کردار کا انکشاف چند روز قبل ہوا تھا۔ بعد ازاں اسلام آباد میں حکام نے اعتراف کیا کہ ایک 15 نکاتی امریکی تجویز ایران کو پہنچائی گئی ہے۔ ان بالواسطہ مذاکرات میں ایران کی طرف سے رابطہ کار کون ہے، یہ ابھی واضح نہیں ہے۔ ایران نے باضابطہ طور پر ایسے کسی مذاکرات کی تردید کی ہے اور امریکی تجویز کو مسترد کر دیا ہے، تاہم تہران نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے امریکی تجاویز کا اپنی تجاویز کے ساتھ جواب دیا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ میں پاکستانی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی پیغامات ایران کو اور ایرانی جوابات واشنگٹن کو پہنچائے جا رہے ہیں۔ پاکستان وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے اس ہفتے بتایا تھا کہ ترکیہ اور مصر بھی فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے پسِ پردہ کام کر رہے ہیں۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلیکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کے مینیجنگ ڈائریکٹر عبداللہ خان نے ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے کہا پاکستان کی ثالثی کی کوششیں اس تنازع میں تحمل برقرار رکھنے میں مددگار ثابت ہو رہی ہیں۔ اُن کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سفارتی پیش رفت کا حوالہ دیتے ہوئے ایران کی توانائی کی تنصیبات پر بڑے حملوں کی دھمکی فی الحال موخر کر دی ہے۔ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کے لیے کیوں تیار ہوا؟ ماضی میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں عمان اور قطر جیسے ممالک نے ثالثی کی ہے، لیکن موجودہ جنگ میں ان ممالک کے خود ایرانی حملوں کی زد میں آنے کے بعد پاکستان نے یہ ذمہ داری سنبھالی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایران کا ہمسایہ ہونے اور امریکا کے ساتھ دیرینہ تعلقات کی وجہ سے پاکستان ایک منفرد پوزیشن میں ہے۔ اسلام آباد کے جنگ میں شامل اہم فریقین کے ساتھ ورکنگ ریلیشنز ہیں۔ سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ اس کے قریبی اسٹرٹیجک تعلقات ہیں، جن کے ساتھ گزشتہ سال دفاعی تعاون کا معاہدہ بھی کیا گیا تھا۔ تاہم، مسئلہ فلسطین کی وجہ سے پاکستان کے اسرائیل کے ساتھ کوئی سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ گزشتہ ایک سال کے دوران امریکا اور پاکستان کے تعلقات میں بہتری آئی ہے۔ پاکستان نے ٹرمپ کے ”بورڈ آف پیس“ میں بھی شمولیت اختیار کی ہے جس کا مقصد غزہ میں امن کو یقینی بنانا ہے۔ حال ہی میں صدر ٹرمپ نے پاکستانی آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی بات کی ہے، جنہیں امریکی صدر نے عوامی طور پر اپنا ”پسندیدہ فیلڈ مارشل“ قرار دیا ہے۔ پاکستان کا کیا کچھ داؤ پر لگا ہے؟ اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے سیکیورٹی تجزیہ کار سید محمد علی کا کہنا ہے کہ یہ تنازع پاکستان کی تاریخ کے ”سب سے بڑے معاشی اور توانائی چیلنجز“ میں سے ایک ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی تیل اور گیس کا بڑا حصہ مشرقِ وسطیٰ سے حاصل کرتا ہے، اور عرب ممالک میں کام کرنے والے 50 لاکھ پاکستانی جو زرمبادلہ بھیجتے ہیں، وہ پاکستان کی کل برآمدی آمدنی کے برابر ہے۔ بڑھتی ہوئی کشیدگی سے تیل کی عالمی قیمتیں بڑھی ہیں، جس کی وجہ سے حکومت کو ملک میں ایندھن کی قیمتوں میں 20 فیصد تک اضافہ کرنا پڑا ہے۔ یہ جنگ پاکستان کے اندرونی حالات پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔ ایران پر امریکی حملوں کے بعد ملک بھر میں مظاہرے پھوٹ پڑے تھے۔ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد کراچی اور شمالی علاقوں میں ہونے والے تصادم میں کم از کم 22 افراد ہلاک اور 120 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ کراچی میں امریکی قونصلیٹ پر مشتعل ہجوم کے حملے میں 12 افراد جان سے گئے تھے۔ ثالثی میں پاکستان کا ریکارڈ اگرچہ پاکستان شاذ و نادر ہی ثالث بنتا ہے، لیکن اس کے ریکارڈ میں اہم مذاکرات شامل ہیں۔ 1972 میں صدر یحییٰ خان نے امریکی صدر رچرڈ نکسن کے تاریخی دورہ چین کے لیے پسِ پردہ رابطوں میں سہولت کاری کی تھی۔ اسی طرح 1988 کے جنیوا معاہدے میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا تھا جس کے نتیجے میں سوویت یونین نے افغانستان سے اپنی فوجیں نکالیں۔ حالیہ برسوں میں پاکستان نے افغان طالبان اور واشنگٹن کے درمیان رابطے کروائے، جس کے نتیجے میں 2020 کا دوحہ معاہدہ ہوا اور افغانستان سے نیٹو افواج کا انخلا ممکن ہوا۔

Read full story on Aaj

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments