64.1 F
Pakistan
Sunday, March 29, 2026
HomeEntertainmentہڑپہ تہذیب کے کل مقامات کی تعداد زیادہ سے زیادہ 2 ہزار...

ہڑپہ تہذیب کے کل مقامات کی تعداد زیادہ سے زیادہ 2 ہزار ہوسکتی ہے لیکن اِن سے زیادہ تر اب بھی زیر زمین دفن ہیں اور مزید کھدائی کے منتظر ہیں

مصنف: ع۔غ۔ جانبازقسط: 100 ہڑپہ تہذیب کے کل مقامات کی تعداد زیادہ سے زیادہ 2 ہزار ہوسکتی ہے لیکن اِن سے زیادہ تر اب بھی زیر زمین دفن ہیں اور مزید کھدائی کے منتظر ہیں۔ قدیم جوڑے کے مقبروں سے لے کر شہر کے قدیم کھنڈرات تک تقریباً 200 مقامات کی کھدائی کی جا چکی ہے۔سندھ کے لوگوں نے سندھ کی وادی میں ایک شاندار تہذیب کو تخلیق کیا۔ اِس تہذیب کے2 مخصوص شہر تھے جن میں اچھی طرح سے ڈیزائن کیے گئے مکانات اور گلیاں تھیں جو ہڑپہ تہذیب کی غیر معمولی نوعیت کی عکاسی کرتی تھیں۔ 1980ء میں ”یونیسکو“ نے ہڑپہ تہذیب کو ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا۔ ہڑپہ کی تہذیب کانسی کے دَور کی شہری تہذیب سے تعلق رکھتی ہے۔ اُ س وقت امیر اور غریب کی تقسیم سے پہلے سے موجود تھی۔ امیر دو یا تین منزلہ عمارتوں میں رہتے تھے۔ جن میں کشادہ صحن تھے اور غریب جھونپڑوں میں رہتے تھے۔ ماہرین آثار قدیمہ میں ہڑپہ تہذیب کے نقصان کے اَسرار کے بارے الجھن کا شکار ہیں۔ ایک وجہ یہ ایک بڑے سیلاب کے بعد تبدیل ہوگیا ہو۔ دوسری وجہ خشک سالی اچانک موسمیاتی تبدیلی اِس وقت کے زوال کی وجہ ہوسکتی ہے۔ تیسرے غیر ملکی حملہ نے بھی اِس کو نیست و نابود کر دیا ہو۔ طاعون کی وباء ہڑپہ تہذیب کے زوال کی وجہ ہوسکتی ہے۔ کچھ کا خیال ہے کہ ایک بڑا زلزلہ آیا اور ہر چیز کو رَوند کر چلتا بنا۔ زندگی میں 2 شادیاں کیں۔ اللہ تعالیٰ کی کرم نوازی کہ اس ناچیز کو بھرپور اولادِ نرینہ و اولاد سے نوازا۔ اِس کرم نوازی پر شُکرانہ کے طور پر میں اکثر گنگناتا کہ ”اگر پرستان سے کوئی پری بھی دست بستہ میری قُربت کی متمنی ہوتی تو میں فوراً منہ پھیر کر ٹھکرا کر چل دوں گا۔ اِس پر حتی المقدور کاربند بھی رہا۔ لیکن کہتے ہیں بشرّیت ایک طرف اور دعویٰ دوسری طرف! ایک دن جو سرِ راہ یونہی ہوا خوری کے لیے کھڑا اپنے سانسوں کی گنتی کر رہا تھا۔ شکوہ تیس پینتیس کا سَن. .. .. . شباب پوری توانائی و رعنائی کے ساتھ رقصّاں نظر آیا۔ موسم بہار کا ایک درخشاں دن. .. .. . چاروں طرف سبزہ و اشجار پہ کونپلیں پُھوٹیں، صحن و گلشن میں ہوئی گُل پاشی، ا ور ساتھ گلِ لالہ کی شفق باری اور یہ دلِ بیتاب اُٹھا نیں نہ بھرے۔ آرزوئے دردِ دِل نہ کرے. .. .. . تو یہ کہاں کی جوانی، کہاں کا شباب؟ اُدھر جو دیکھا! تو اِک ساعتِ رُوح پرور کا ہوا ظہور! سامنے اِک کشادہ راہ گزر سے اِک توبہ شکن ساحرہ، بے پایاں حسن و جمال کے جلو میں ہوئی نمودار اور ایک طلسماتی موڑ پر یوں رُکی گویا کسی مصور کے سامنے اُس کی نوکِ قلم کی فنکارانہ صلاحیتوں کی آرزو مند ہوئی۔ نا جانے کیوں اور کیسے میں مصور ٹھہرا۔ اُس کا سراپا اپنے دِل کے وسیع و عریض کینوس پر اِس مہارت اور چابکدستی سے اُتارا کہ دُور کھڑے اُفق کے اُس پار دَھنک کے ساتوں رنگ شرمندہ شرمندہ سے نظر آئے۔ دِل آرزو مند ہوا۔ چاہت نے پَر پھیلائے۔ یوں لگا جیسے اِس چمن کے سبھی گلِ لالہ شباب پر آئے۔ دِل نے تمنا کی دِل لگانے کی اِس گوہر نایاب کو پانے کی۔(جاری ہے)نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ برداشت، ہمدردی، حسن سلوک، فرض شناسی اور دیانتداری عنقا ہوتے جا رہے ہیں جس سے اعلیٰ کارکردگی اور ملکی تعمیر میں مثبت کردار کی توقع رکھنا عبث ہے

Read full story on Daily Pakistan

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments