64 F
Pakistan
Friday, March 27, 2026
HomeEntertainmentبات اشاروں کنائیوں تک جا پہنچی پتہ چلا چند میل پر اُن...

بات اشاروں کنائیوں تک جا پہنچی پتہ چلا چند میل پر اُن کا ڈیرہ ہے، وہ تھل کے باسی ہیں، خوب خاطر مدارت کے مزے لیے، ہم نے بات چیت کرنے کی ٹھانی

مصنف: ع۔غ۔ جانبازقسط: 98 بہاولپور ایریا کا سوئل سروے بہاولپور کے سوئل سروے کے لیے بہاولپور پہنچے تو قیام اپنے دیرینہ”انڈیا“ کے باسی ڈاکٹر مختار کے گھر رہا جو وہاں سرکاری ہسپتال میں تعینات تھے اور سرکاری رہائش گاہ میں تھے وہاں خوب خاطر مدارت کے مزے لیے۔ پھر جو اپنے فرض منصبی کی طرف متوجہ ہوئے تو بہاولپور ضلع کی وُسعتوں میں پھیلی تحصیلوں ”احمد پور ایسٹ“ ”چنی گوٹھ“، ”لیاقت پور“ اور ”رحیم یار خان“ وغیرہ کا علاقہ صوبہ سندھ تک سروے کرتے چھان مارا۔ بعد میں بھی ایک دو دفعہ بہاولپور جانا ہوا تو ڈاکٹر مختار صاحب ریٹائر ہو کر وہاں مین بازار میں کلینک کھولے پرائیویٹ پریکٹس کر رہے تھے۔ گریٹر تھل کا علاقہ اور ہم شکل گونگے جُڑواں بھائی ”گریٹر تھل“ کا علاقہ ”تونسہ بیراج“ سے جہاں اُن دنوں ایک لنک کینال بنانے کا منصوبہ بن رہا تھا ہمیں اُس علاقے کے سروے کا حکم صادر فرمایا گیا۔ تو حکم حاکم مرگِ مضافات کے مصداق سوئل سروے کا سامان بمعہ لیبر لیا چل دئیے سوئے مقتل (تھل) لیبر سے 10 فٹ گہرائی تک بور کرواتے جا رہے تھے اور سوئل کی کیٹگری کا اندراج ہو رہا تھا۔ ویجیٹیشن تو نہ ہونے کے برابر جنگلی قسم کا پیلی رنگت کی گھاس کہیں نظر پڑی تھی۔ باقی کسی قسم کے سالٹس یا نیچے پانی کا تو نشان ہی نہ تھا۔ اُس بیاباں میں دُور سے چند اونٹوں کو لیے آتا نوجوان آکر ہمارے پاس رُک گیا۔ ہم نے اُس سے بات چیت کرنے کی جو ٹھانی تو پتہ چلا کہ وہ تو گونگا ہے۔ بس پھر بات اشاروں کنائیوں تک جا پہنچی تو پتہ چلا کہ یہاں سے چند میل پر اُن کا ڈیرہ ہے وہ یہاں تھل کے باسی ہیں اور یہ اونٹ ہی اُن کی کل کائنات ہے۔ وہ ہم سے بھی جاننے کی کوشش کرتا رہا کہ ہم یہاں کیا کر رہے ہیں۔ جب ہم نے اُسے بتایا کہ یہاں ہمارے سروے کے بعد ایک نہر کھودی جائے گی اور پانی میسّر ہوگا تو علاقہ سرسبز و شاداب ہوجائے گا تو بظاہر وہ خوش نظر آیا اور پھر کچھ دیر بعد اپنے اونٹوں کے ساتھ چل دیا۔تین چار دن بعد اُسی علاقے میں ہم محوِ کار تھے کہ وہی اُونٹوں والا پھر اُدھر نظر آیا۔ وہ تو ہماری طرف نہ آیا ہم ہی ذرا تھوڑا چکر دے کر اُس کے پاس چلے گئے کہ پچھلے دنوں کی،کی ہوئی باتوں کو دہرائیں۔ ہم نے جب اُس سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو وہ ہم سے کنّی کَترانے لگا۔ چنانچہ ہم تو چار پانچ تھے وہ اکیلا. .. .. . ہم نے اُسے گھیر لیا اور پوچھا کہ وہ کیوں ہم سے کنّی کترا رہا ہے جب کہ تین چار دن پہلے ہم میں آکر گُھل مِل گیا تھا اور دوستانہ ماحول بن گیا تھا۔ چونکہ وہ گونگا تھا لہٰذا ُس نے اشاروں کنائیوں سے بتایا کہ وہ تو پہلے دن اِدھر اُونٹوں کے ساتھ آیا ہے وہ اُس کا دوسرا بھائی ہوگا جو تم سے ملا ہوگا۔ توا س طرح مسئلہ حل ہوا کہ وہ دو جڑواں بھائی ہیں اور دونوں گونگے ہیں۔ شکل و شباہت اور رنگت میں اُن میں انیس بیس کا فرق بھی نہ تھا۔ (جاری ہے)نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ وزیراعظم کی سینیٹر شیری رحمان کے گھر آمد، بیٹی کے انتقال پر تعزیت اور فاتحہ خوانی کی

Read full story on Daily Pakistan

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments