ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے سے انکار کی صورت میں تہران کے توانائی نظام کو ’مٹا دینے‘ کی اپنی دھمکی مؤخر کر کے ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی طاقت کی حدود کو نمایاں کر دیا ہے۔ یہ حدود امریکہ کے دشمن سمجھتے ہیں، مگر اس کے صدر نہیں۔ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ایران کی توانائی کا نظام تباہ کرنے کے منصوبے پر پانچ دن کا ’وقفہ‘ تہران کے ساتھ ’بہت اچھی اور نتیجہ خیز بات چیت‘ کے بعد آیا، حالانکہ ایران کا کہنا ہے کہ ایسی کوئی بات چیت ہوئی ہی نہیں۔ لیکن امریکی صدر کو تہران کے محتاط ردعمل کا حساب ضرور کرنا پڑا۔ ایران نے اپنے پہلے جواب میں کہا: ایسا کرو، اور ہم خلیج میں ان تمام نمکین پانی کو میٹھا بنانے والے پلانٹس کو اڑا دیں گے جو تمہارے خلیجی اتحادیوں کو صحرا میں زندہ رکھتے ہیں۔ ہم آبنائے ہرمز بند کر دیں گے جب تک تم وہ سب کچھ ٹھیک نہیں کرتے جسے تم نے بمباری سے تباہ کیا ہے، اور ہم اسرائیل کے خلاف حملے مزید سخت کر دیں گے۔ بعد میں تہران نے ان دھمکیوں کو کسی حد تک واپس لیتے ہوئے غیر معمولی طور پر اخلاقی برتری برقرار رکھنے کی کوشش کی، کیونکہ اقوام متحدہ نے مشاہدہ کیا کہ پانی کے نظام کو تباہ کرنا جنگی جرم ہو سکتا ہے۔ ایران نے کہا کہ وہ خلیجی ممالک کے بجلی گھروں کو نشانہ بنانے پر توجہ دے گا، جو اتفاقاً سمندر کے پانی کو میٹھا بنانے کے لیے بھی توانائی فراہم کرتے ہیں۔ ایرانی حکومت نے سرکاری میڈیا پر کہا: ’جھوٹ بولنے والے امریکی صدر نے دعویٰ کیا ہے کہ پاسداران انقلاب خطے کے ممالک میں پانی کو میٹھا بنانے والے پلانٹس پر حملہ کرنا چاہتے ہیں اور لوگوں کو مشکلات میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ ایرانی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کی دو خواتین رضاکار آٹھ مارچ، 2026 کی رات تہران کے شهران آئل ریفائنری پر ہونے والے ایک فضائی حملے کے بعد بھڑکنے والی آگ کے قریب موجود ہیں(اے ایف پی) ’ہم کسی بھی دھمکی کا جواب اسی سطح پر دینے کے لیے پُرعزم ہیں جس سطح پر وہ پیدا کی جاتی ہے تاکہ ڈیٹرنس قائم رہے۔ اگر تم بجلی پر حملہ کرو گے تو ہم بھی بجلی پر حملہ کریں گے۔‘ یہ ’وقفہ‘ خلیجی ممالک کو اپنی تیزی سے کم ہوتی فضائی دفاعی صلاحیتیں بحال کرنے کا موقع دیتا ہے۔ یہ ایران کے اب انتہائی غیر مرکزی فوجی نظام کو ممکنہ شدید حملوں سے وقتی مہلت فراہم کرتا ہے۔ اور یہ ٹرمپ کو، اگر وہ غور و فکر کرنے کے قابل ہیں، اس دلدل سے نکلنے پر سوچنے کا موقع دیتا ہے جس کی تیاری تہران نے پہلے ہی کر رکھی ہے۔ ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے حملے، جو اب چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکے ہیں، تیل اور قدرتی گیس کی قیمتوں میں شدید اضافے کا باعث بنے ہیں اور عالمی کساد بازاری کا خطرہ پیدا کر رہے ہیں۔ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے پیش نظر ٹرمپ امریکی پٹرول پمپس پر قیمتوں کے آسمان کو چھونے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ توانائی پر دھمکیوں کا یہ سلسلہ اسرائیل نے شروع کیا تھا، جس نے یوکرین میں روسی حکمت عملی کی نقل کرتے ہوئے ایران کے ساوتھ پارس گیس فیلڈ پر بمباری کی۔ قطر اپنی دولت انہی زیر زمین ذخائر سے حاصل کرتا ہے، اور جب مائع قدرتی گیس کی قیمتیں مزید بڑھنے لگیں تو ٹرمپ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران کے خلاف ایسے حملے بند کرے۔ یہ حملے بھی غالباً جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔ مگر یہ بحث بے معنی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کا خیال تھا کہ وہ ایران پر بمباری کر کے حکومت کی تبدیلی لا سکتے ہیں۔ انہوں نے حالیہ تاریخ کا سبق بھلا دیا — کہ ایک سپر پاور کی دھمکی اکثر اس طاقت کے عملی استعمال سے زیادہ مؤثر ہوتی ہے۔ سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے معاملے میں امریکی قیادت میں فوجی کارروائیوں کی حدود 2003 میں عراق پر امریکی حملے کے دوران تلخی سے سامنے آ چکی ہیں۔ امریکی قیادت میں قابض افواج کے نااہل رہنماؤں نے ایسی صورت حال پیدا کی جس سے خونریز بغاوت نے جنم لیا اور بالآخر نام نہاد دولت اسلامیہ کے قیام کی راہ ہموار ہوئی۔ اسی دوران ایران کی پاسداران انقلاب اور اس کے اتحادیوں — عراق، دمشق (اسد حکومت) اور لبنان (حزب اللہ) — کو دو دہائیوں تک پھیلنے پھولنے کا موقع ملا۔ پاسداران انقلاب نے عراق میں لڑائی لڑی اور افغانستان میں امریکی قیادت میں افواج کو الجھتے اور خون بہاتے دیکھا، اور یہ سبق سیکھا کہ ایک عالمی سپر پاور کو طویل مدت میں شکست دی جا سکتی ہے۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) ان کے مشاہدات میں ایک سبق یہ بھی تھا کہ اس وقت کے امریکی صدر باراک اوباما نے دمشق کے حکمران بشار الاسد کو خبردار کیا تھا کہ اگر اس کی افواج کیمیائی ہتھیار استعمال کریں تو امریکہ طاقت استعمال کرے گا۔ اسد نے عالمی سطح پر ممنوع ہتھیار استعمال کیے — اور امریکہ نے کچھ نہیں کیا۔ ممکن ہے کہ اس وقت اسد کو اقتدار میں رہنے دینا اور جمہوری و انقلابی قوتوں کو ترک کرنا عملی طور پر مناسب سمجھا گیا ہو، کیونکہ القاعدہ اور داعش کے لیے مزید جگہ بننے کا خطرہ تھا۔ ممکن ہے کارروائی نہ کرنا درست فیصلہ رہا ہو — مگر اسد اور تہران میں اس کے سرپرست یہ نہیں جانتے تھے۔ انہوں نے جوا کھیلا اور جیت گئے، جبکہ امریکہ میں نہ ہمت تھی نہ قوت کہ ان کے خلاف اقدام کرتا۔ ہفتے کے آخر میں ٹرمپ کی اس دھمکی کے جواب میں کہ وہ ایران کے تیل کے میدانوں کو ’مٹا دیں گے‘، تہران نے کہا: ’ایران کے ساحلوں یا جزیروں پر حملے کی کوئی بھی کوشش خلیج میں تمام رسائی کے راستوں کو مختلف اقسام کی سمندری بارودی سرنگوں سے بھر دے گی، جن میں تیرتی ہوئی سرنگیں بھی شامل ہوں گی جو ساحل سے چھوڑ دی جائیں گی۔ اس صورت میں پوری خلیج ایک طویل عرصے تک عملاً آبنائے ہرمز جیسی صورت حال میں رہے گی۔‘ یہ باغیانہ حکمت عملی ہے جسے امریکہ اور اسرائیل — جنہوں نے عسکریت پسند بغاوتوں کے خلاف برسوں تک جنگیں لڑی ہیں — نظر انداز کر بیٹھے۔ یہ ممکن ہے کہ یہ محض ایک دھمکی ہو۔ شاید ایران کے پاس اب عالمی معیشت کو اس طرح مفلوج کرنے کی صلاحیت نہ رہی ہو۔ تہران کی یہ دھمکی دراصل ایک چیلنج بھی تھی۔ کیا امریکہ واقعی اس بات پر جوا کھیلے گا کہ ایران دنیا کے 20 فیصد تیل اور یورپ کی زیادہ تر گیس کی گزرگاہ بند کر سکتا ہے؟ اور کیا پاسداران انقلاب واقعی خلیج کے ان پلانٹس کو بند کر سکتے ہیں جو خطے کے کم از کم 80 فیصد پانی فراہم کرتے ہیں؟ ٹرمپ کے مواصلاتی انداز میں بھی بغاوت جیسا طریقہ موجود ہے۔ یہ ان کے دوستوں کو غیر متوازن رکھتا ہے اور دشمنوں کو فائدہ دیتا ہے۔ ایک طرف وہ اشارہ دیتے ہیں کہ امریکہ ایران کے خلاف جنگ ختم کر رہا ہے، اور دوسری طرف کشیدگی بڑھانے کی دھمکیاں دیتے ہیں۔ وہ اتحادیوں سے آبنائے ہرمز کھولنے میں مدد مانگتے ہیں اور پھر انہیں، بشمول برطانیہ کے، بزدل قرار دے کر کہتے ہیں کہ اب ان کی ضرورت نہیں۔ خلیجی ممالک نے یہ رویہ دیکھا ہے اور امریکہ کے فوجی اڈے میزبانی کرنے کی وجہ سے ایران کے ساتھ جنگ میں گھسیٹے گئے ہیں۔ ان کے چمکتے شہر صرف اس لیے قابل رہائش ہیں کہ انہیں تیل اور گیس سے توانائی ملتی ہے، اور ان کی پیاس صرف سمندری پانی سے نمک نکال کر بجھائی جاتی ہے۔ ایران کی آیت اللہ کی مسلسل قیادتوں کے تحت خارجہ پالیسی بارہ امامی شیعہ عقیدے کی بنیاد پر چلتی ہے۔ ان کا یقین ہے کہ ایران کو ایک قدامت پسند مذہبی ریاست رہنا چاہیے تاکہ مہدی کے ظہور کے حالات پیدا ہوں۔ اسی سوچ نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف شدید دشمنی کو جنم دیا۔ ایران نے خود کو ’محورِ مزاحمت‘ کے مرکز میں رکھا، جس میں حوثی، حزب اللہ، حماس، اسد حکومت اور عراق کی ملیشیائیں شامل تھیں۔ اب تہران صرف اس محور کا مرکز نہیں رہا بلکہ خود ’مزاحمت‘ کا نقطۂ ارتکاز بن گیا ہے۔ اور ایسا لگتا ہے کہ پیچھے ہٹنے والا امریکہ کا صدر ہے، (غالباً خلیجی اتحادیوں کے دباؤ کے نتیجے میں)۔ ایران بظاہر آبنائے ہرمز سے کچھ انڈین اور پاکستانی تیل بردار جہازوں کو گزرنے کی اجازت دے چکا ہے۔ اگرچہ تہران فضائی حملوں سے ہل چکا ہے جن میں رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای مارے جاچکے ہیں اور ان کے بیٹے اور ممکنہ جانشین مجتبیٰ زخمی ہو سکتے ہیں، مگر ایران ٹرمپ کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کے مواقع سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ ایران کی حکومت گرنے کے کوئی آثار نہیں یا اس کی طویل عرصے سے دبی اور سخت اقدامات کے ذریعے قابو میں رکھی گئی آبادی اس کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہو۔ ایران اس جنگ کی قیمت وصول کرنے کی کوشش کر رہا ہے جسے دنیا پر ٹرمپ اور نیتن یاہو نے مسلط کیا — ایک ایسی قیمت جسے ان کے دوست بھی ادا نہیں کرنا چاہتے۔ اسی طرح ایک سپر پاور کو شکست دی جاتی ہے۔ امریکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران جنگ خلیج عرب پانچ دن کا ایک ’وقفہ‘ خلیجی ممالک کو تیزی سے ختم ہوتی فضائی دفاعی صلاحیتیں بحال کرنے کا موقع دیتا ہے، ایران کے غیر مرکزی فوجی نظام کو مہلت فراہم کرتا ہے، اور ٹرمپ کو یہ سوچنے کا وقت دیتا ہے کہ وہ اس دلدل سے کیسے نکلیں جس کی تیاری تہران نے پہلے ہی کر رکھی سیم کائلی منگل, مارچ 24, 2026 – 09: 15 Main image:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سات مارچ، 2026 کو فلوریڈا میں خطاب کر رہے ہیں (اے ایف پی)
زاویہ type: news related nodes: امریکی وفد کی مذاکرات کے لیے پاکستان آمد متوقع، تاہم ایران ’تیار نہیں‘: ترک میڈیا امریکی جنگی مشین ٹرمپ کے کنٹرول میں یا نتن یاہو کے؟ ٹرمپ کی آبنائے ہرمز کی دلدل ایران جنگ کے پہلے ہفتے امریکہ کے 11. 3 ارب ڈالر خرچ: رپورٹ SEO Title: ایران نے آخرکار ٹرمپ کی طاقت کی حد بےنقاب کر دی copyright: IndependentEnglish origin url: https: //www. independent. co. uk/news/world/middle-east/trump-us-iran-war-pause-strait-of-hormuz-b2943760. html show related homepage: Hide from Homepage



