60.7 F
Pakistan
Wednesday, March 25, 2026
HomeEntertainmentبہرحال فیصلے تو بڑوں نے ہی کرنے ہوتے ہیں، پڑھائی تو ٹھیک...

بہرحال فیصلے تو بڑوں نے ہی کرنے ہوتے ہیں، پڑھائی تو ٹھیک کر رہی تھی لیکن چھیڑ چھاڑ کا سلسلہ چلتا ہی رہا، اکثر سکول ٹیچرز کا بلاوا آجاتا اور مجھے جانا پڑتا

مصنف: ع۔غ۔ جانبازقسط: 95چھوٹی بیٹی اسماء ناز کو بھی گیریژن ہائی سکول میں داخل کروا دیا۔ پڑھائی تو ٹھیک کر رہی تھی لیکن دوسرے بچّوں سے چھیڑ چھاڑ کا سلسلہ چلتا ہی رہا۔ اکثر سکول ٹیچرز کا بلاوا آجاتا اور مجھے سکول جانا پڑتا اور مجھے بتایا جاتا کہ کس طرح دوسرے بچّوں سے چھیڑ چھاڑ کا سلسلہ تھمنے نہیں آرہا۔ یاد رہے بڑی بیٹی آصفہ ناز ایم بی بی ایس کرتے گھر کے ایک چھوٹے کمرے میں کنج تنہائی میں رہی۔ کچھ اِس دوران اُسے اُس کی امّی کی اچانک موت کا بھی جھٹکا لگا۔ بہن بھائیوں کے ساتھ مل بیٹھنا ایک خواب بن گیا۔ بہرحال فیصلے تو بڑوں نے ہی کرنے ہوتے ہیں۔ میں نے یہی مناسب خیال کہ چھوٹی بیٹی اسما ناز کو اِس مشقّت میں نہ ڈالوں۔ لہٰذا کافی پہلے ہی اِرادہ کر لیا کہ اُسے گلبرگ میں واقع کالج میں داخل کراؤں گا۔ میٹرک کے بعد میں نے اُسے ”ہوم اکنامکس کالج“ گلبرگ میں داخل کروایا وہاں سے اُس نے ایم ایس سی ہوم اکنامکس کی۔ میری سروس ”سوئل سروے“ کی ڈیوٹی کا سب سے آخری پڑاؤ ”شاہدرہ کینال ریسٹ ہاؤس“ میں تھا۔ میں نے وہاں سے لاہور شرق پور رڈ اور اُدھر شیخوپورہ سے پہلے کینال تک کا علاقہ اور پھر جی ٹی روڈ پر کامونکی تک کے علاقے کا سروے کیا۔ حسب معمول روزانہ لیبر کو ساتھ لے کر نکلے اور ایریل فوٹوگرافس پر پہلے سے نشان زدہ جگہوں پر لیبر سے 10 فٹ تک بور کرواتے۔ مٹی کے سیمپل لیتے اور ضروری اندراج رجسٹر میں کرتے۔ سیمپل کپڑے کی تھیلیوں میں ڈال کر، لیول لگا کر اگلی سائٹ کی طرف روانہ ہوجاتے۔ میں اپنے دفتر میں محکمانہ ٹرانسپورٹ کا بھی انچارج تھا اور اُس وقت مغل پورہ گنج کے نزدیک نہر کے اُس پار واپڈا کی ورکشاپ تھی اور لاہور کے باسی ایک بٹ صاحب میرے اورور سیئر تھے۔ جو گاڑیوں کی سروس اور مرمت کا کام کرواتے تھے۔ ایک دن دِن ڈھلے بٹ صاحب شاہدرہ ریسٹ ہاؤس میں آوارد ہوئے۔ کہنے لگے ”میرا جی چاہا میں اپنے آفیسر سے فیلڈ میں مل آؤں“۔ چنانچہ دفتری باتوں کا سلسلہ جاری و ساری تھا کہ اِس دوران بٹ صاحب نے اپنی بغل میں دبائے تھیلے سے ایک بوتل نکال کر میز پر رکھ دی۔ کہنے لگے میرا جی چاہا اپنے آفیسر کو ایک ضرر تحفہ پیش کر آؤں۔ پتہ چلا وہ بوتل پورٹ وائین کی ہے۔ میں نے کہا بٹ صاحب میں نے تو شراب کبھی چکھی نہیں۔ کہنے لگے چیخ کر دیکھیں۔ یہ اُس طرح کی کڑوی شراب نہیں۔ میٹھی شراب ہے۔ میں نے پھر کہا بٹ صاحب آپ کا بہت بہت شکریہ۔ بھئی ہے تو یہ ایک ممنوع مشروب! چنانچہ بوتل واپس اُس کے تھیلے میں رکھوائی اور پھر چائے کے ایک کپ سے تواضع کر کے اُن کو رخصت کیا۔ ویلیز جیپس اور اُن کے ”ڈینمو“امریکن ایڈ میں ملی فور ویل ویلیز جیپ ہمیں سروے کی ڈیوٹی کے لیے مل گئی تھیں۔ یہی کوئی پانچ چھ سروے پارٹیاں تھیں جو مختلف علاقوں میں جا کر سروے کرتی تھیں۔ جیپ کے آگے ایک آہنی رسّہ لپٹا ہوا ہوتا تھا کہ اگر جیپ پھنس جائے تو رسّہ کھول کر کسی جگہ یا دوسری گاڑی میں باندھ کر اُسے باہر نکال سکتے تھے۔ اِس کی باڈی بڑی مضبوط تھی۔ (جاری ہے)نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ سیاسی جماعتوں کی انتظامی اہلیت پر سوالات اْٹھ رہے ہیں، عوام نے روایتی حکمران طبقوں سے طاقت چھین لی ہے، اب فیصلے بند کمروں والے نہیں چل رہے

Read full story on Daily Pakistan

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments