57.9 F
Pakistan
Sunday, November 8, 2026
HomePoliticsالجھنیں اور سلجھنیں III-

الجھنیں اور سلجھنیں III-

کالی داس بوسالی۔بوجھ میں بھارت کا ایک مشہور ڈاکٹر ہوں۔نانا پاٹیکر میرا اس وقت سے مریض ہے جب یہ ابھی نواسہ پاٹیکرکہلاتا تھا یہ رانی مکر جی کا ہمسایہ تھا پہلے یہ دونوں کہیں پاس ہی رہتے تھے ایک مچھر نے ان دونوں کے ناک میں دم کرتا تھا لیکن رانی اس بات سے مکرتی تھی۔میرے کلینک سے نکلتے ہی لوگ ان کے بارے میں پتا نہیں کیا کیا خبریں اڑا دیتے تھے آج کل یہ دونوں یہاں سے کہیں اور چل بسے ہیں۔ عرض ہے کہ میرے مریض اپنی بیماری کے متعلق جب بھی تفصیل پوچھتے ہیں تو میں انہیں مختلف مثالوں سے واضع کرتا ہوں لیکن نا جانے انہیں میری دلیل اور وضاحت کی کیوں سمجھ نہیں آتی اور الٹا ناراض ہو کر مزید بیمار ہوجاتے ہیں۔مثلااگر کسی کے لیب ٹیسٹ مجھے خراب دکھائی دیں تومیں ان سے کہتا ہوں باقی رزلٹ ٹھیک ہے لیکن جگر اور لبلبے میں آ پ کی ”سپلی“ آ گئی ہے آپ کی اپنی بیوی سے اس کی ٹیوشن رکھنا پڑے گی یااسہال کا مریض جب مجھ سے پوچھتا ہے کہ میں نے کچھ زائد نہیں کھایا مگر یہ اسہال پریڈکیوں جاری ہے؟ میں ان سے کہتا ہوں دیکھو! پانی دینے والا ٹرک روز پودوں کو پانی لگاتا ہے بعض اوقات اس کا لیور خراب ہو جاتا ہے اور اس سے مسلسل پانی بہنا شروع ہو جاتا ہے جسے مستر ی ہی ٹھیک کرتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح کوئی اور مریض آکر پوچھتا ہے کہ میرا بلڈ پریشر بڑھنے کی کیا وجوحات ہیں تومیں ان کو سمجھاتا ہوں کہ سنو! جیسے موٹر سائیکل کا ”آر پی ایم“ بڑھ جائے تو اس میں سے اونچی آوازیں آنا شروع ہو جاتی ہیں اور انجن کو زور لگانا پڑتا ہے وغیرہ۔ اسی طرح اگرکوئی ایسا مریض جس کو شوگر کی وجہ سے بہت سے مسائل ہو ں تو میں دبے لفظوں میں اسے کہتا ہوں کہ انجن دھواں مار گیا ہے شاید یہ نیا رکھنا پڑے۔اگر ماتا کے ساتھ اس کا بچہ انگوٹھا چوس رہا ہو اور و ہ تھک کر چھوڑ دے تو میں از خود اس کو انگوٹھا چوس کر اس کی دلجوئی کرتا ہوں۔بس ایک ایسا مریض بھی ہے جس کے آنے سے ایک دن قبل ہی میری دائیں آنکھ پھڑکنا شروع ہو جاتی ہے اورپھر اگلے ہی دن کوئی آ کر کہے کہ میں نے آ پ کو ”آنکھیں دکھانا“ہیں تو میں ویسے ہی آنکھیں چرا کر ناک کی سیدھ نکل جاتا ہوں کیوں کہ ایسی بیماری پر آنکھ رکھنا میرا شعبہ ہی نہیں ہے اور یہ میرے لئے ”ناک قابل برداشت“ ہوتا ہے حالانکہ میں گنگا سے کم کہیں اشنان نہیں کرتا جب بھی وقت ملے گنگا کا ہی رخ کرتا ہوں تاکہ جسم پر اس کی سمردھگی (برکت) متواتر برقرار رہے چنانچہ ان مریضوں کو تو ناراض ہو کر کانوں پر ہاتھ رکھنے چاہئیں بجائے اس کے کہ ناک پر ہاتھ رکھ کر مجھ سے بات کریں، لہٰذا میری ہاتھ جوڑ کر کرپا ہے کہ مجھے مریضوں کے بے جارویے سے بچنے کا حل بتادیں۔ادارہ: پہلے تو آپ سے ”-illتماس“ ہے کہ گنگا میں چھ ماہ بعد نہانے کی ضد چھوڑ دیں مریض کلینک میں داخل ہوتے ہی ایک خاص ”بو کھلاہٹ“کا شکار ہو کرایسی حرکات کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں آپ اسی وقت اپنی ”بوتل“ بند کرتے ہوئے ساتھ والا ”بوہا“ بھی کھول دیا کریں اور پیر بھی ”بوٹوں“ کے اندرڈال لیا کریں شاید انگریزوں نے”بوٹ“ کا لفظ بھی آپ کے کلینک کی چیکنگ کے دوران دریافت کیاہو گا اور ساتھ اپنی بولی کی بوچھاڑ بھی ذرا کم رکھا کریں۔ ان کے رویوں کا ری ایکشن نہ دیا کریں ورنہ وہ آپ کے خلاف ایکشن کے خلاف ایکشن لے کر آپ کی بو سے ہی آپ کو ”بوڑھا“ کرسکتے ہیں بلکہ اپنے ہندی الفاظ کا بھی صحیح استعمال کریں ورنہ آپ کو کوئی سورگ باش بھی کر دے گا۔آپ کسی کو یہ نہ کہیں کہ کوئی مریض میرے پاس دوبارہ نہیں آیاکی بجائے اس ”ہ“ اُڑا کر بولیں کہ کہیں پولیس آپ کو ہی لے نہ ُاڑے گی ایسے کہیں کہ وہ میرے پاس دو بار آیا تھا۔ نیاانجن رکھنے کی بجائے صرف”اورہال“ پر زور دیں اور عام موٹر سائیکل میں کون سا آر پی ایم میٹر ہوتا ہے آپ صرف ٹیوننگ کی بات کیا کریں۔آپ اپنے ادبی اور فلسفیانہ دلائل کو یکسر بدل دیں کسی کے ٹیسٹ دیکھ کر انہیں صرف یہ تسلی دیں کہ یہاں آنے اور کھانے میں پرہیز کریں یہ جلد”کلیئر“ہو جائیں گے۔اسہال کے مریضوں کو پہلے ہی تنبیع کر دیں کر وہ کلینک میں بلا مغالبہ مگر”بلا اسہالگہ“ ہی تشریف لائیں کیونکہ آفس بوائے چھٹی پر ہے ورنہ کلینک کی بوکھلاہٹ میں مزید اضافہ دوسروں کے لئے ناقابل برداشت ہو گاباقی جس بچے کی آپ اپنے فطری انداز میں میں دلجوئی کرتے ہیں اس سے بھی پرہیز کریں کیونکہ اس کی ماتانے بعد میں آپ ہی سے بلڈ پریشر چیک کروانا ہے اور آپ نے اس کی وضاحت بھی بغیر کی ”پرہیز“ کے دینا ہوتا ہے۔ان باتوں سے محسوس ہوتاہے آپ کا بھی کہیں دور چل بسنے کا ارادہ ہے۔راہول سنگھ۔ بھتے والمیں جب پہلی دفعہ ہوشیار پور سے پونچھ گیا تھا تو وہاں غصہ کھانے کی وجہ سے ہی مونچھ اٹھا لی تھی چنانچہ میں وہاں ہی اس کی نئی بنیادیں رکھ کر آیا تھا کیونکہ ایک کشمیری نے مجھ پر غصہ کھاتے ہوئے پہلے والی باکل مونڈھ کر رکھ دی تھیں۔میں بھی کون سا کسی سے کم ہوں میں نے بھی اس کا مونچھ بھر کر غصہ نکالا اس کے بعد میرے منہ پر کبھی ہنسی دکھائی نہیں دی کیونکہ ان مونچھوں میں وہ گم ہو کررہ جاتی ہے۔ دارو بھی استعمال کرتا ہوں اس کا ایک علیحدہ گھڑا رکھا ہے۔مجھے لڑائی سے ڈر لگتا ہے اس لئے مونچھوں کی ہیبت ناکی دشمن کو پہلے ہی خوف میں مبتلا کر دیتی ہے جیسے میں نے مونچھیں نہیں کوئی موزررکھا ہو۔ اگر کوئی ٹیڑھے دماغ والا سامنے آجائے تو میں فوراً اس کی ہی مونچھ کا بال بن جاتا ہوں۔زندگی میں بہت کمایا لیکن بس وہی کام آیا جس کا دارو پیا یا جواء کھیلا۔ باقی سارا بینک بیلنس سمجھ لیں ضائع ہی کیا۔اب میرے پاس ایک کچھا اور اور ایک کنگھا بچا ہے۔اپنے سوتروں کے مطابق میرے مستقبل کی پلاننگ کے کچھ انوسارواضع کریں۔ادارہ: آپ کے سوال سے ہی معلوم ہو گیا تھا کہ ہوشیار پوری ہیں آپ کی”مونچھ گافی“ اور با ل کی کھال اتارنے کا ویسے ہی پورے مشرقی پنجاب میں چرچا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سٹیفن ملر کو وائٹ ہاؤس کا چیف آف سٹاف مقرر کر دیا

Read full story on Daily Pakistan

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments