وہ گھر کی پہلی اولاد کی اولاد تھا۔ پہلی اولاد کی پہلی تادیر زندہ اولاد تھا۔ بیٹی کے ہاں بچے ہوئے تھے۔ زیادہ دیر زندہ نہ رہ پائے تھے۔ وہ بچپن میں چڑی کا بوٹ تھا۔ کمزور تھا۔ بچ نکلا تھا۔ والد خوش عقیدہ نہیں تھے مگر اس فقیر کے قائل ہو گئے تھے جس نے بچے کی لمبی عمر کی مشروط پیش گوئی کی تھی۔ فقیر نے کبوتر کو بچے کے جسم سے لگا کر کبوتر پر نظر رکھنے کی تاکید کی تھی۔ بچہ اتنا کمزور تھا، سب نے بچے پر نظر رکھی ہوئی تھی۔ ڈاکٹر نے بھی نظر رکھی ہوئی تھی۔ حکیم نے بھی۔ ماں، دادی ماں، خالہ ماں، ہر طرح کی ماں نے ہر وقت نظر رکھی ہوئی تھی۔ کبوتر لایا گیا۔ بچے کے جسم سے لگایا گیا۔ ساڈی لمبی اڈاری۔ کبوتر کی لمبی اڈاری کے لیے ہر دل دعا گو تھا۔ فقیر نے کہا تھا، اگر کبوتر اڑتا گیا، حدِ نظر میں کہیں نہ بیٹھا تو بچہ لمبی عمر پائے گا، نیک نامی کمائے گا۔ نیک نامی تو مستقبل کا حصہ تھی۔ بچے کی لمبی عمر موجودہ دور کا قصہ تھی۔ بچہ مڈل سکول میں تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ ننھیال کے گاؤں چھٹیوں میں جاتا تھا۔ فقط لسی کی فرمائش کرتا تھا۔ اچار کی فرمائش کرتا تھا۔ لسی اور اچار کے عاشق کے وچار عجب تھے۔سداعجب ہی رہے۔وہ ہمیشہ وقت کا پابند رہا۔کہنے والے کہتے ہیں، لوگ وقت پر بلا لیتے ہیں، مگر خود بھی موجود نہیں ہوتے۔اس نے اپنی خو نہ بدلی۔شہر میں گھر کے ساتھ ریلوے ٹریک تھا۔وہ ٹریک کے قریب جا کر بیٹھ جاتا۔ٹرین کی آواز سنتا۔پیسہ پٹڑی پر رکھ دیتا۔پیسہ مقنا طیس بن جاتا۔اس کی خوشی کی انتہا نہ رہتی۔خلقت کچھ بھی کہتی، وہ معمولی معمولی باتوں پر خوش ہو جاتا۔بارش دولت لگتی،بارش میں بھیگنا نعمت لگتا،بات بات پر خالق کا شکر ادا کرتا۔ معذرت کرتا۔ تھینک یو کہتا۔قدرت نے بہت نوازا۔ تھوڑے دن بدلے تو دوست کافی پینے لگے۔ اسے مدت ہوئی تھی،وہ کافی سننے لگا تھا۔کافیاں سنتا، ہیر سنتا۔فٹ بال کے میچ دیکھتا۔پرندے پالتا۔ بولنے والے طوطے بیسٹ فرینڈ تھے۔اک طوطے کی موت پر آج تک سوگ مناتا ہے۔اپنی زمین سے سچا ناتا ہے۔آبائی شہر آج بھی مقناطیس لگتا ہے۔ گلی گلی پھرتا ہے۔بازار بازار جاتا ہے۔رات بھر پیدل چلتا ہے۔ بساط بھر پیدل چلتا ہے۔ہر کسی سے ہنس کے ملتا ہے۔ مقامی زبان بولتا ہے۔ہر کسی کو ہیروں میں تولتا ہے۔ بزرگوں کے پاس بیٹھا رہتا ہے۔اجنبیوں سے گپ شپ لگاتا ہے۔آج بھی لسی کی تلاش میں دور دور نکل جاتا ہے۔ پیزے کا ٹیسٹ نہیں بنا سکا۔مسی روٹی کھاتا ہے۔مرکنی روٹی کھاتا ہے۔باسی روٹی پانی میں بھگو کر کھاتا ہے۔ آج بھی اچار کا عاشق ہے۔سچے وچار کا عاشق ہے۔مخلوق سے پیار کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ خالق سے بیوپار کرنے کی کوشش کرتا ہے۔اگر کوئی اس سے تکرار کرنے کی کوشش کرتا ہے۔وہ خاموش رہتا ہے۔کچھ نہ کہتا ہے۔گاؤں کے لوگ چھاؤں لگتے ہیں۔ شہر کے لوگ اپنے لگتے ہیں۔بچپن کے دن سپنے لگتے ہیں۔سپنے سچے لگتے ہیں۔اپنے اپنے ہر کسی کے بچے لگتے ہیں۔راستے کچے بھی ہوں تو پکے لگتے ہیں۔زندگی آج بھی آسان لگتی ہے۔ بات بات پہ ہنستا رہتا ہے۔وہ ایک ہی بات کہتا ہے۔ دیس کے لوگ کمال ہیں۔صاحب جمال ہیں۔ اچار کھا کر، لسی پی کر زندگی گزاری جا سکتی ہے۔ شاہ حسین کی کافی سن کر زندگی سنواری جا سکتی ہے۔وطن پر زندگی واری جا سکتی ہے۔وہ جہلم چناب کے سنگم پر جاتا ہے۔دیس کی خوبصورتی میں کھو جاتا ہے۔ہر مزار پہ جا کے اسے کچھ ہو جاتا ہے۔ہر نیا سفر دل میں کچھ بو جاتا ہے۔وہ غیر معروف جگہوں پر جاتا ہے۔جو لوگ مشہور نہیں،انہیں مل کے جہان حیرت میں کھو جاتا ہے۔ہر شخص منفرد ہے۔ہر شخص کائنات ہے۔سو باتوں کی ایک بات ہے۔خود پر اعتبار کریں۔ انسان پر اعتبار کریں۔زندگی جینے کے لیے ہے۔ زندگی کو سادہ رکھیں۔دل کو کشادہ رکھیں۔حالات جیسے بھی ہوں،خود کو جینے پہ آمادہ رکھیں۔کل آج سے زیادہ رکھیں۔دنیا جتنی بھی بدل جائے، انسان وہی رہے گا۔انسان ازل سے ایسا ہے۔انسان ابد تک ایسا رہے گا۔چند لوگ کافی پییں گے،تبھی خوش خوش جییں گے۔کوئی لسی کے لیے گاؤں کا چکر لگایا کرے گا۔کافی سن کر کافی گایا کرے گا۔بانسری بجایا کرے گا۔روٹی پر اچار رکھ کر کھایا کرے گا۔ ہوٹل سے کترایا کرے گا۔کسی کے گلے میں لوگ ہار ڈالیں گے۔کسی کے وچاروں کا اچار ڈالیں گے۔ بار بار ڈالیں گے۔ لگاتار ڈالیں گے۔میں نے دیکھے ہیں سبھی رنگ دنیا کے۔دنیا بڑی رنگیلی۔دنیا بڑی زہریلی۔ دنیا بڑی نوکیلی،دنیا بڑی برفیلی،کسی کے لیے گرم جوش، کوئی دنیا کے رنگوں میں ہر دم مدہوش،کوئی ہر پل فکر کے مارے خاموش۔ کسی پہ چھایا جوش، کسی کا ختم نہ ہوا خواب خرگوش۔دنیا کے رنگ یہی، دنیا کے ڈھنگ یہی،ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہوگا۔دائم آباد رہے گی دنیا۔مجموعہ تضاد رہے گی دنیا۔شاد رہے گی دنیا۔فریاد رہے گی دنیا۔اک الف تیرے درکار۔باقی سب مایا ہے۔چلتی پھرتی چھایا ہے۔کس نے دنیا سے فیض پایا ہے۔فیض چلے گئے،فراز چلے گئے۔کوئی جس دھج سے مقتل میں گیا، وہ شان سلامت رہتی ہے۔گھڑی کی سوئی ایک بات کہتی ہے۔وقت کو قرار نہیں۔وقت کو گزرنا ہے،کسی طور گزر جائے گا۔آج کا دن پھر نہ آئے گا۔ ہر نفس عمر گزشتہ کی ھے میت فانی۔کوئی خود کو سمجھے کتنا ہی لاثانی۔جوانی پھر نہیں آنی۔بڑھاپا پھر نہیں آنا۔زندگی ایک بار ہے۔اچھے عمل نہ کیے تو شرمندگی بار بار ہے،مسلسل ہے لگاتار ہے۔کوئی گل ہے یا خار ہے۔نامہ اعمال تیار ہے۔زندگی ہموار ہے یا دشوار ہے۔حساب کتاب سے نجات نہیں۔ اس عالم کو ثبات نہیں۔ازل سے کوئی ا ٓرہا ہے، کوئی جا رہا ہے، کوئی چھا رہا ہے کوئی مرجھا رہا ہے۔یہ سلسلہ رنگ و بو یوں ہی چلتا جا رہا ہے۔یوں ہی چلتا رہے گا۔حیات کی رمز آخریں کو سمجھنے کے لیے خود دکھ اٹھانا ضروری نہیں۔سیرت موجود ہے۔بصیرت موجود ہے۔الکتاب محفوظ ہے۔کتاب مفصل ہے۔ خالق کی کتاب کا مطالعہ کیجئے۔خالق کی منشا کے مطابق زندگی جی جییے۔آخرت میں جنت پائیے۔ اپنی کائنات خود تخلیق کیجیے۔صبر کیجیے۔نفس پر جبر کیجئے۔حق بات کی تلقین کیجیے۔نجات یقینی ہے۔ جدید دور میں بے یقینی سی بے یقینی ہے۔انسان خالق سے انجان ہے۔ انسان کا ہر دم دنیا کی طرف دھیان ہے۔خالق کے ذکر سے غفلت نقصان ہے، نرا نقصان ہے۔بے شک انسان خسارے میں ہے۔ خسارے سے محفوظ رہنے کے لیے الکتاب سے رجوع کیجیے۔ پنجاب حکومت کا ہتکِ عزت کے مقدمات کے لیے خصوصی سیل قائم



