جب بروٹس جولیس سیزر کے خلاف سازش میں شامل ہوا تو شیکسپیئر نے اس کی زبان سے یہ جملہ کہلوایا ’ایسا نہیں کہ میں سیزر سے کم محبت کرتا تھا بلکہ یہ کہ میں روم سے زیادہ محبت کرتا تھا۔‘ تاریخ قومی مفاد کے نام پر درست قرار دیے گئے غیر معمولی اقدامات سے بھری پڑی ہے اور پاکستان بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ ہر بحران کے ساتھ استحکام کا وعدہ کیا جاتا ہے لیکن کیا ہم ریاست اور اس کے اداروں کا تحفظ کر رہے ہوتے ہیں یا محض اقتدار میں لوگوں کا؟ تین نومبر، 2007 کو پاکستان میں ایمرجنسی نافذ ہوئی اور مجھے ایس ایس پی اسلام آباد کا چارج سنبھالنے کے لیے کہا گیا۔ انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں آئین کو معطل کر دیا گیا، ججوں کو گھروں کو بھیج دیا گیا اور وکلا کو حراست میں لیا گیا۔ اس سے پہلے مجھے اسی عہدے سے غیر رسمی اور اچانک انداز میں ہٹا دیا گیا تھا، اس لیے میں دوبارہ یہ ذمہ داری سنبھالنے سے ہچکچا رہا تھا۔ میرے ،تذبذب پر ایک دوٹوک سوال کیا گیا ’کیا آپ حکومتی احکامات کی نافرمانی کر رہے ہیں؟‘ صورت حال کی ستم ظریفی بالکل واضح تھی۔ حکم ماننے سے میرے ضمیر پر سمجھوتہ ہو سکتا تھا جبکہ انکار کی قیمت مجھے اپنے کیریئر کی صورت میں چکانا پڑ سکتی تھی۔ ’ہونا، یا نہ ہونا؟‘ ایک سرکاری ملازم کے لیے یہ سوال کچھ یوں بن جاتا ہے کہ وقت کی حکومت کی اطاعت کی جائے یا ان اصولوں کو برقرار رکھا جائے جو اس حکومت کے بعد بھی رہنے چاہییں؟ کچھ لوگ پوچھتے ہیں میں نے عہدے پر رہتے ہوئے زیادہ بلند آواز میں بات کیوں نہیں کی۔ میرا جواب، آدھا مذاق، یہ ہوتا ہے ’کیا آپ یہ پسند کریں گے کہ میں اب بھی خاموش رہوں؟‘ دوسرے پوچھتے ہیں کہ اتنا کم کیوں بدلا۔ مجھے فٹ بال یاد آتی ہے: میدان میں میراڈونا اور میسی کی موجودگی کے باوجود ارجنٹینا میچ ہارا۔ ’مجھ سے کہیں بہتر بہت سے افسروں نے فرق ڈالنے کی کوشش کی، لیکن جب نظام ہی خراب ہو تو باصلاحیت کھلاڑیوں کے لیے بھی کامیاب ہونا مشکل ہو جاتا ہے۔ ہم خود کو ضرورت سے زیادہ سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ زیادہ مضبوط اداروں والے ممالک میں عہدے دار یہ جانتے ہوئے رخصت ہوتے ہیں کہ نظام چلتا رہے گا اور بعض اوقات ان کے بغیر پہلے سے بہتر چلے گا۔ مثال کے طور پر فرانس میں وسیع پیمانے پر بدامنی اور متنازع پولیسنگ بھی عدالتی جانچ، عوامی بحث اور ادارہ جاتی جواب دہی کے دائرے میں رہتی ہے۔ نظام کسی ایک فرد پر منحصر نہیں ہوتا۔ جہاں طاقت ذاتی بن جائے، وہاں اداروں کو ریاست کے محافظ رہنے کی بجائے افراد کی توسیع بن جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔ ہم تصور کرنے لگتے ہیں کہ شاید ہماری ریٹائرمنٹ کے ساتھ ملک بھی رک جائے گا۔ میرے ساتھ ٹینس کھیلنے والا ایک ساتھی، جیتے یا ہارے، خوشی سے کورٹ چھوڑتا ہے اور باقی زندگی سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ سرکاری عہدے پر رہنے والے بھی اس سے سبق سیکھ سکتے ہیں: اپنا کردار ادا کریں، جانیں کہ کب رخصت ہونا ہے اور کھیل کو جاری رہنے دیں۔ جب تشدد پھیل رہا ہو یا امن و امان ختم ہو رہا ہو تو حکومتیں ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھ سکتیں، لیکن غیر معمولی اختیارات کا قانونی، ضروری، متناسب اور احتساب کے لیے کھلا ہونا لازم ہے۔ پرانی کہاوت، ’بہترین حکومت وہ ہے جو سب سے کم حکومت کرتی ہے،‘ کا مطلب شہریوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دینا نہیں۔ اس کا مطلب غیر ضروری مداخلت کے بغیر مؤثر انداز میں حکومت کرنا ہے۔ اچھی حکومت کو اختیار کے مسلسل اظہار کی نہیں بلکہ منصفانہ اصولوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ پاکستان میں 1990 کی دہائی میں حکومتیں برطرف ہوئیں، وفاداریاں بدلتی رہیں اور سرکاری ملازمین اقتدار کے حریف مراکز کے درمیان پھنسے رہے۔ کل کے منظور نظر اگلے دن معتوب بن گئے۔ پینڈولم جھولتا رہا، لیکن ادارے کمزور ہی رہے۔ 2026 میں گہری سیاسی تقسیم، زیادہ شدید ادارہ جاتی تناؤ اور سمجھوتے کی سکڑتی ہوئی گنجائش نے اس چیلنج کو مزید سنگین بنا دیا۔ اب سوال محض یہ نہیں کہ حکومت کون کرتا ہے بلکہ یہ ہے کہ جو حکومت کر رہے ہیں، کیا اصول ان کے بعد بھی باقی رہیں گے؟ غیر معمولی اقدامات کسی بحران کو قابو میں تو رکھ سکتے ہیں لیکن وہ اچھی حکمرانی کا متبادل نہیں بن سکتے۔ جب استثنا معمول بن جائے تو سرکاری عہدے دار یہ سیکھ لیتے ہیں کہ اپنی رائے کھل کر دینے کے مقابلے میں حکم ماننا زیادہ محفوظ ہے، کاروباری ادارے ہچکچانے لگتے ہیں اور عوام کا اعتماد کمزور پڑ جاتا ہے۔ انسداد دہشت گردی میں امتیازی نفاذ عوامی تعاون اور انٹیلی جنس کی فراہمی کو کمزور کرتا ہے۔ طاقت کسی خطرے کو دبا سکتی ہے لیکن صرف انصاف، قانونی جواز اور قانون کی حکمرانی ہی اس خطرے کی واپسی روکنے میں مدد دے سکتی ہے۔ نسیم نکولس طالب کی کتاب ’سکن اِن دی گیم‘ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ فیصلے کرنے والوں کو اپنے فیصلوں کے نتائج میں بھی شریک ہونا چاہیے۔ ایک سرکاری ملازم کے پاس کیا راستے ہوتے ہیں؟ اطاعت کرے، انکار کرے، استعفیٰ دے یا عہدے پر رہتے ہوئے نقصان کو محدود کرنے کی کوشش کرے؟ ان میں سے کوئی راستہ آسان نہیں۔ استعفیٰ کسی زیادہ تابع دار شخص کے لیے جگہ خالی کر سکتا ہے جبکہ عہدے پر رہنے کا تقاضا تکلیف دہ سمجھوتے ہو سکتے ہیں۔ لیکن اطاعت ایک فرض ہے، غیر قانونی عمل کا دفاع کبھی نہیں۔ جرات کا مطلب لازماً ڈرامائی انداز میں استعفیٰ دینا نہیں۔ بعض اوقات اس کا مطلب اپنے اعتراض کو ریکارڈ پر لانا، قانونی حد عبور کرنے سے انکار کرنا یا کسی ایک شہری کو زیادتی سے بچانا ہوتا ہے۔ ایک رہنما کریک ڈاؤن کا حکم دیتا ہے، ایک کانسٹیبل ہجوم کا سامنا کرتا ہے، ایک وزیر پابندیوں کا اعلان کرتا ہے، ایک دکان دار اپنی آمدن سے محروم ہو جاتا ہے، ایک افسر کفایت شعاری کا مطالبہ کرتا ہے، ایک خاندان کے لیے گزارا کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ جو لوگ کڑوی دوا تجویز کرتے ہیں انہیں خود بھی اس کا ذائقہ چکھنے کے لیے تیار ہونا چاہیے۔ شہریوں پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ بدامنی سے تھکے ہوئے لوگ ’مضبوط ہاتھ‘ کا خیرمقدم کر سکتے ہیں اور ماورائے عدالت اقدامات پر تالیاں بھی بجا سکتے ہیں، یہاں تک کہ یہی اقدامات ان کے خلاف استعمال ہونے لگیں۔ نظم و ضبط کی خواہش جائز ہے؛ بے لگام طاقت کی نہیں۔ آج دوسروں کے خلاف جن اصولوں کو توڑنے کی ہم اجازت دیتے ہیں، کل وہی اصول ہمارے خلاف بھی توڑے جا سکتے ہیں۔ پاکستان کی نوجوان نسلیں دیکھ رہی ہیں۔ جنریشن زی کو ان لوگوں کی جانب سے قربانی کے وعظ سننے کا بہت کم حوصلہ ہے جو خود مراعات کے حصار میں محفوظ ہیں۔ جنریشن الفا، جو مصنوعی ذہانت اور معلومات تک آسان رسائی کے ماحول میں پروان چڑھ رہی ہے، اسے پرانے وعدوں اور مانوس بیان بازی سے قائل کرنا شاید اس سے بھی زیادہ مشکل ہو۔ ایک دن وہ پوچھ سکتے ہیں ’آپ جانتے تھے کہ غلط کیا ہے۔ آپ نے اسے ہونے دیا۔ پھر اس کی قیمت ہم کیوں ادا کریں؟‘ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) طاقت بھول جاتی ہے، اس کے نتائج باقی رہتے ہیں۔ جو لوگ اپنے عہدوں کے تحفظ کے لیے اداروں کو اپنی مرضی کے مطابق موڑتے ہیں، وہ بالآخر اپنے ہی قائم کردہ نظائر کا شکار ہو سکتے ہیں۔ عوامی خدمت کی پیمائش عہدے پر گزارے گئے برسوں یا خود کو ناگزیر قرار دینے کے دعووں سے نہیں ہوتی۔ اس کی پیمائش اس چیز سے ہوتی ہے جو کسی کے چلے جانے کے بعد باقی رہتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ لی کوان یوی کی خواہش تھی کہ انہیں بھلا دیا جائے، ایک ایسے شخص کے لیے یہ ایک غیر معمولی خواہش تھی جس نے ایک قوم کی تشکیل میں مدد کی۔ عظیم رہنما ایسے ادارے بناتے ہیں جو ان کے بعد بھی قائم رہیں۔ ان کی کامیابی کا پیمانہ یہ نہیں کہ ان کے جانے کے بعد انہیں کتنی شدت سے یاد کیا جاتا ہے بلکہ یہ ہے کہ ان کے بغیر ملک کتنے اعتماد کے ساتھ آگے بڑھتا رہتا ہے۔ حکومتیں بدلتی ہیں، رہنما رخصت ہو جاتے ہیں اور طاقت ایک سے دوسرے ہاتھ میں منتقل ہوتی رہتی ہے۔ اداروں کو قائم رہنا چاہیے، قانون کا اطلاق سب پر یکساں ہونا چاہیے اور ریاست اپنے عوام کی ہونی چاہیے، اس کے عارضی نگہبانوں کی نہیں۔ طاقت پوچھتی ہے کہ ہم کب تک یہاں رہ سکتے ہیں۔ اصول پوچھتا ہے کہ ہمارے چلے جانے کے بعد کیا باقی رہے گا۔ یہ ہی کسی عہدے پر قابض رہنے اور ایک ورثہ تعمیر کرنے کے درمیان فرق ہے۔ ڈاکٹر سید کلیم امام سابق وفاقی سیکریٹری، انسپکٹر جنرل آف پولیس اور اقوام متحدہ کے پولیس کمشنر رہ چکے ہیں۔ وہ جامعات میں قانون اور فلسفہ پڑھاتے ہیں۔ یہ تحریر جو اس سے قبل عرب نیوز پاکستان پر شائع ہوچکی ہے، ان کی رائے پر مبنی ہے، ادارے کا متفق ہونا صروری نہیں۔ پاکستان طاقت جنریشن زی حکمت عملی جو لوگ اپنے عہدوں کے تحفظ کے لیے اداروں کو اپنی مرضی کے مطابق موڑتے ہیں، وہ بالآخر اپنے ہی قائم کردہ نظائر کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ہفتہ, اکتوبر 31, 2026 – 07: 30 Main image: نقطۂ نظر type: news related nodes: عدالتی حکم عدولی نہیں کی، ایجنسیوں کی رپورٹیں یکطرفہ: عمران ’برف خانے‘ سے سرکاری افسر تک، عبدالرحمٰن بلوچ کی کہانی آپ کا شعر سنا تو جرائم سے توبہ کر لی، شاعر پولیس افسر کی کامیابی پاکستانی پولیس افسر امریکی خاتون سے حسن سلوک پر ’انٹرنیٹ سٹار‘ SEO Title: اطاعت یا حکم عدولی؟ ایک سابق پولیس سربراہ کی بات copyright: show related homepage: Hide from Homepage
اطاعت یا حکم عدولی؟ ایک سابق پولیس سربراہ کی بات
RELATED ARTICLES



