58.1 F
Pakistan
Wednesday, October 21, 2026
HomeBreaking Newsبدگمانی سے خوش گمانی تک

بدگمانی سے خوش گمانی تک

خوش گمانی میں رہنے والا بہر حال خوش حال ہوتا ہے۔ بدگمانی میں زندگی بسر کرنے والا بیزار و بدحال رہتا ہے۔ دراصل ہمارا حال. .. . ہمارا خیال ہوتا ہے۔ اپنے خیال کو خوش حال رکھنے کی جو بھی قیمت ادا کرنی پڑے، کم ہے، کہ خوش حالی دولت اور منصب سے نہیں آتی. .. . نصیب سے آتی ہے۔ خوش حال ہونے کا تعلق مالی حالت کے درست ہونے سے زیادہ خیالی حالت کے درست ہونے سے ہے۔ دوسروں کے متعلق خوش گمان ہونے میں سراسر راحت ہے۔ بدگمان ہونا ،ایک اضافی بوجھ ہے۔ ہمیں خوش گمان ہونے کے لیے خود کو کسی قسم کی کوئی وضاحت نہیں دینا پڑتی، لیکن بدگمانی قائم کرنے اور رکھنے کے لیے ہمیں خارجی دنیا سے دلائل تلاش کرنے پڑتے ہیں۔ یہ ایک مسلسل فکری اذیت ہے جو اِنسان کے اعصاب کو تھکا دیتی ہے۔اکثر اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ خارجی دنیا سے میسر آنے والے چند علیحدہ علیحدہ واقعات یا بیانات کو انسانی ذہن اپنے خلاف ایک سازش کی صورت میں تراش لیتا ہے۔ انسانی ذہن ایک عجب جبلتی رویے کے تحت کام کرتا ہے۔ جب یہ کوئی نظریہ تراش لیتا ہے تو پھر انسانی دماغ اپنی تمام تر صلاحتیں اسے ثابت کرنے میں صرف کر دیتا ہے۔ پھر ہر دلیل، ہر قول ، یہاں تک کہ قرآنی آیات اور احادیث سے اپنے من پسند زاویے تراش کر اپنے زاویہِ فکر کا دفاع کیا جاتا ہے۔ درحقیقت انسانی ذہن اس قدر قابلِ اعتماد مشین نہیں کہ اپنے عقائد و نظریات آنکھیں بند کر کے اِس کے سپرد کر دیے جائیں۔ انسان سے خوش گمان رہنا، تکریمِ انسانیت ہے۔ انسان سے بدگمان ہونا، توہینِ انسانیت ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ انسان کو فطری طور پر نیک اور ایک پیدا کیا گیا ہے۔انسانوں کی بستی خدا کی بستی ہے۔ خدا کی بستی ہستی بستی رہے تو خدا بھی خوش اور خلقِ خدا۔ مخلوق کو خدا کا کنبہ کہا گیا ہے۔. .. . الخلق عیال اللہ. .. . یہ چند سرپھرے لوگ ہوتے ہیں جو پورے خاندان کو بدنام کر دیتے ہیں۔ اس بستی میں چند مجرمانہ ذہنیت کے حامل انسان پوری انسانیت کے بارے میں ہمیں بدگمان کر دیتے ہیں۔ سچ پوچھیں تو ہر جرم کے پسِ پشت ایک دوسرے کی نیت پر شک کرنا ہوتا ہے۔ حکومت اپوزیشن کو شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور اپوزیشن حکومت کو ترچھی نظر سے۔ ایک دوسرے پر عدم اعتماد پھر تحریک ِ عدم اعتماد کی صورت میں نکلتا ہے، حکومت گھر چلی جاتی ہے، بالائی باگڑ بِلّا کھا لیتا ہے. .. . اور اپوزیشن کے حصے میں ندامت کے سوا کچھ نہیں آتا۔ الغرض انفرادی زندگی ہو یا اجتماعی ، اس میں ایک دوسرے کے متعلق خوش گمان ہونے سے وحدت کے پھول کھلتے ہیں۔ بدگمانیاں گلے شکوے پیدا کرتی ہیں، اور گلہ شکوہ. .. . دلوں کی دوری کا باعث ہوتا ہے۔ سوال یہ ہوتا ہے کہ آخر کس حد تک کوئی کسی کے بارے میں خوش گمان رہے۔ دراصل اس حد کی کوئی حد نہیں — یہ حد ہر کسی کے ظرف کی وسعت کے مطابق ہوتی ہے۔ کچھ لوگوں کا اوڑھنا بچھونا ا±ن کا مالی مفاد ہوتا ہے۔ جونہی کوئی ا±ن کے مفاد کی پوشاک پر قدم رکھتا ہے ، وہ بھڑک اٹھتے ہیں اور اپنی مالی حدود میں قدم رکھنے والے کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگتے ہیں۔ بس! یہ شک کا زہر ہے جو انسان کے خیالی وجود کو مسموم کر دیتا ہے اور وہ محبت کی بجائے نفرت کا نمائندہ بن جاتا ہے۔ دراں حالے کہ اسے آسمان سے زمین پر اس لیے اتارا گیا تھا کہ وہ زمینِ وجود کے جنگل میں موجود تھوہر کانٹے صاف کرے اور یہاں محبت کی فصل کاشت کرے۔ محبت خوش گمانی طلب کرتی ہے. .. . اس حد تک خوش گمانی کہ اسے انسان میں رحمان کا پَرتَو دکھائی دینے لگے۔ جب اسے یہ مخلوق، خدا کا کنبہ دکھائی دے تو وہ کس پر، کیوں کر شک کرے۔ اپنے ہی خاندان پر ، اپنے ہی بہن بھائیوں پر کون کیسے شک کرے. .. .! گرچہ یہاں بھائی بھائی کے خون کا پیاسا بھی ہوا ہے لیکن بھائی بھائی پر جان نثار کرتے ہوئے بھی دکھائی دیتا ہے۔ ہم پہلی خبر کی سرخی بنا لیتے ہیں اور دوسری خبر کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھتے۔ قانونِ فطرت ہے کہ انسان جس طرف کی خبر پر دھیان دے گا، اسے ہر طرف وہی نظر آئے گی۔ آج کل سوشل میڈیا کا ایلگورتھمalgorithm اس قانونِ فطرت کی ایک سائنسی شہادت ہے۔خوش گمانی ایک تعمیری فکر ہے اور بدگمانی ایک فکری تخریب کاری ہے۔ دراصل خوش گمان ہونا ایک انتہائی مثبت سوچ کا حامل ہونا ہے۔ اسی میں نمو ہے ، اسی میں حیات ہے ، بلکہ سلامتیِ حیات ہے. .. . ظاہری اور باطنی سلامتی اِسی مثبت فکر میں پوشیدہ ہے۔ تعمیر ی فکر. .. .جوڑنے کا عمل ہے۔ تخریب کاری حصے بخرے کرنے کی شرارت ہے۔ چھوٹے بچوں میں اکثر دیکھا جاتا ہے کہ ایک چھوٹی عمر کا بچہ ، ایک سال کی عمر کا بچہ، اپنے کھلونوں کو توڑتا ہے ، اور وہی بچہ جب بڑا ہو جاتا ہے تو اپنے کھلونوں کو جوڑنے کی تدبیر میں مشغول پایا جاتا ہے۔ خیر اور شر کی قوتوں میں اسی فکری بلوغت کا فرق پایا جاتا ہے۔ شر. .. . ایک نامکمل شعور ہے، اسے صرف اپنے سے غرض ہے. .. . اس لیے خود غرض ہے۔ یہ وہ جلدی سے اپنی جانب توجہ چاہتا ہے، ہر چیز سمیٹنا چاہتا ہے. .. . اور اس اپنے مفاد کے حصول کے لیے ہر اصول پامال کرنے پر بضد ہوتا ہے۔ خیر ایک بلند شعور ہے. .. . فکری طور پر بالغ ہے، مکمل ہے. .. . کامل و اکمل ذات سے رجوع کرتا ہے، اس کی نگہداری میں ہے، اس لیے مسلسل نمو میں ہے. .. . یہاں تک کہ خیرِ کثیر کی خبر پاتا ہے۔ شر جب اپنی شرارتوں سے تھک ہار کر بیٹھ جائے خیر پر واجب ہے کہ وہ اسے اپنے دامن میں پناہ دے۔ شر کے لیے مہلت ہے ، کہ اسے جب اپنی کوتاہیِ فکرکا احساس ہو تو واپس اپنے بڑے بھائی کے پاس آ جائے۔ دراصل خیر، شر کا بڑا بھائی ہے— دونوں کا خالق ایک ہے۔ عافیت خوش گمانی میں ہے۔ چاہیے کہ انسان ہمیشہ خوش گمان رہے. .. . ہر انسان کے متعلق ہر ممکن حد تک خوش گمان رہے. .. . اس وقت تک خوش گمان رہے، جب تک اس کے ارمان کا خون نہ ہو جائے۔ چاہیے کہ وہ کسی کے متعلق بدگمان نہ ہو، ظاہری حالات و واقعات اگر خوش گمان ہونے میں مانع ہورہے ہوں تو بھی بدگمان نہ ہو. .. . بد سے بدتر حالات میں بھی وہ اپنے بھائی کے بارے میں بدگمان ہونے میں اتنی دیر لگا دے کہ بدگمانی انتظار کی سولی پر لٹکتی رہ جائے. .. . اور اپنی موت آپ مر جائے۔ قرآن کریم فرقانِ حمید میں ارشاد ہے: ”اسے ایمان والو! بدگمانی سے بچو، بلاشبہ بعض گمان تو گناہ ہوتے ہیں“۔ سبحان اللہ سبحان اللہ! یہاں سمجھنے کے لیے بہت سے لطیف نکات ہیں۔ ایک تو یہ کہ خوش گمان ہونا انسان کے ایمان کی علامت ہے۔ دوسرا یہ کہ کسی نیک سیرت، نیک فطرت انسان پر بد ہونے کا گمان، بدگمانی ہے. .. . اور بدگمانی بھی ایک تہمت کی طرح ہے۔ جس طرح کسی ایک باعصمت خاتون پر تہمت ایک قابلِ گرفت گناہ ہے ، اسی طرح ایک باعصمت روح کے متعلق بدگمان ہونا بھی ایک تہمت ہے ، جو ایک گناہِ کبیرہ ہے۔ نیک انسان پر بدگمانی ، نیکی سے برگشتہ کر دیتی ہے۔ بدگمانی ہی انسانوں کے ساتھ جھگڑے کی ابتدا ہوا کرتی ہے۔ دوسروں کی نیت پر شبہ، فساد کا باعث ہوتا ہے۔ ہم چیزوں کی تقسیم پر نہیں ، بلکہ اس کے پسِ پشت کسی کی نیت کی خرابی پر جھگڑا کرتے ہیں. .. . اور کسی کی نیت پر شک کرنا ایک بہت بڑا گناہ ہے — کیونکہ یہ ایک دعویٰ ہے کہ ہمیں فلاں کے دل کا بھید معلوم ہے. .. . حالانکہ دلوں کا بھید جاننے والی بس ایک ہی ذات ہے— جو “علمم بذاتِ الصدور” ہے. .. . اس زاویے سے دیکھا جائے تو کسی کی نیت پر شک کرنا گویا ا±س ذات کے علم میں خود کر شریک کرنے کا دعویٰ کرنا ہے. .. . اور یہ معاملہ فی الاصل شرک کے قریب پہنچ جاتا ہے! ! اللہ ہمیں توحید پرست بنائے. .. . صرف اپنا بنائے. .. . اور دوسروں کے متعلق بدگمان ہونے سے بچائے! !

Read full story on Nai Baat

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments