ایران، اسرائیل فروری 2026 میں شروع ہوئی۔ اس وقت ایران کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے مذاکرات جاری تھے۔ ایران شروع سے ہی اپنے ایٹمی پروگرام کے عالمی نگرانی کے حوالے سے مثبت رویوں کا مظاہرہ کرتا رہا ہے۔ عالمی ایٹمی ایجنسی کے نمائندے ایرانی ایٹمی تنصیبات کا معائنہ کرتے رہے ہیں۔ ویسے ایرانی مرجع/ آیت اللہ واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ ایران ایٹم بم نہیں بنائے گا کیونکہ یہ انسانی تباہی و بربادی کا باعث بنتا ہے۔ ایرانی حکومتیں بارہا جوہری ہتھیار نہ بنانے کے عزم کا اعادہ کرتی رہی ہیں۔ ایران کی موجودہ رجیم بھی اس عہد پر قائم ہے۔ جوہری توانائی کے حصول کے لئے قائم جوہری پروگرام ختم نہ کرنے کے عہد پر بھی قائم ہے۔ ایران 45 سال سے امریکی عالمی پابندیوں کا شکار ہے۔ ایران کی معاشی حالت اچھی نہیں ہے اس کی روایتی عسکری قوت بھی کمزور پڑ چکی ہے لیکن ایرانی قوم کا اپنی قومی سلامتی کے حوالے سے عزم بے مثال ہے۔ جنگ کے آغاز سے پہلے ایرانی قوم منتشر تھی۔ ایران میں سماجی و ثقافتی معاملات کو انقلابی نظریات پر استوار رکھنے اور معاشرے میں غیراسلامی روایات کے فروغ کو روکنے کے لئے قائم کردہ تنظیم باسیح کی کارروائیوں سے بھی ایرانی عوام پاسداران انقلاب کو اچھا نہیں سمجھتے تھے۔ باسیح اہلکار عام شہریوں کی زندگیوں میں دخیل ہو کر انہیں سختی سے اسلامی انقلابی سوچ کے مطابق گزربسر کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ یہ فورس پاسداران انقلاب کے ماتحت ہے۔ معاشی بدحالی اور عامتہ الناس میں پائی جانے والی بے چینی نے یہ تاثر پیدا کیا کہ اگر بیرونی طور پر کچھ کیا جائے تو عوام اپنی رجیم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے کسی حد تک یہ تاثر مبنی پرحقیقت بھی تھا۔ عوام مظاہرے بھی کر رہے تھے لیکن جونہی اسرائیل نے ایران پر حملے شروع کئے اور آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت کئی بڑے ایرانی لیڈروں کو شہید کر دیا گیا تو ایرانی عوام نے اسرائیل کے خلاف قومی یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ اسرائیل کے خلاف یکجہتی دیکھنے میں آئی فروری 2026 کے اسرائیلی حملوں میں صف اول کی ایرانی قیادت کی ہلاکتوں نے عوام میں قومی یکجہتی کو فروغ دیا۔ وہ اسرائیل کے خلاف ڈٹ گئے پھر امریکی حملوں نے ایران میں تباہی پھیلائی تو ایرانی عوام کا قومی یکجہتی کا عمل اور بھی زیادہ مستحکم ہو گیا، آٹھ مہینے گزرنے کو ہیں جنگ جاری ہے۔ امریکہ و اسرائیل اپنے طے شدہ منصوبے کے مطابق ایران میں رجیم تبدیل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ ایران عالمی تجارتی راستے آبنائے ہرمز کو دبوچے بیٹھا ہے۔ باب المندب پر ایرانی پراکسی حوثی موجود ہیں۔ تیل کی عالمی تجارت خطرات میں گھر چکی ہے۔ مشرق وسطیٰ آگ و خون میں لت پت ہو چکا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈے خالی ہو چکے ہیں۔ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایران ڈرونز اور راکٹوں سے عرب ممالک میں تباہی مچا رہا ہے۔ سعودی عرب حوثی ڈرونز اور راکٹوں کی زد میں آ چکا ہے۔ حوثی مدینہ المنورہ کو نشانہ بنا چکے ہیں۔ مکہ المکرکہ پر بھی راکٹ/ میزائل داغے جا چکے ہیں۔ جنگ ایران اور امریکہ اسرائیل کے درمیان جاری ہے۔ اب یہ عرب و عجم کی جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے۔ ایران عرب دشمنی کے مظاہرے عام ہو چکے ہیں آنے والے دنوں میں پاکستان بھی اس جنگ میں شریک ہوتا نظر آ رہا ہے۔ حرمین شریفین کی حفاظت مکہ معاہدے کے مطابق ہی نہیں بلکہ ایک مسلمان ملک کے طور پر بھی ہمارے فرائض اولین میں شامل ہے۔ اطلاعات ہیں کہ امریکی آشیرباد پر کرد ملیشیا ایران کے خلاف متحرک کی جا چکی ہے اور وہ ایران میں داخل ہونے کے لئے تیار ہے گویا ایران پر زمینی حملہ ہوا چاہتا ہے۔ امریکہ خارک جزیرے اور ہرمز پر قبضے کے ذریعے جنگ کو حتمی بنانے کی پالیسی پر عمل پیرا نظر آ رہا ہے۔ خارک جزیرہ بظاہر چھوٹا سا ہے لیکن ایرانی تیل کا 90 فیصد اسی جگہ سے درآمد ہوتا ہے اس جزیرے پر قبضے کا مطلب ایرانی معیشت پر قبضہ اور ہرمز پر کنٹرول کا مطلب تجارت پر کنٹرول۔ امریکہ بڑی تیزی سے اس طرف بڑھتا نظر آ رہا ہے کیونکہ جنگ نہ صرف پھیلتی جا رہی ہے بلکہ جنگ کے اخراجات بھی ناقابل برداشت ہو رہے ہیں۔ امریکی جنگ کے اخراجات برداشت کرنے کے لئے عرب شیوخ کے خزانے موجود نہیں ہیں امریکہ اپنی جنگی صلاحیتوں کو صرف اسرائیل کی حفاظت اور معاونت کے لئے استعمال کرنے پر مرکوز کر چکا ہے۔ عرب ممالک اپنے آپ کو غیرمحفوظ محسوس کر رہے ہیں اور حقیقت بھی ایسی ہی ہے عربوں نے امریکہ کو اربوں نہیں کھربوں ڈالر اپنی حفاظت کے لئے ادا کئے۔ اڈے بنانے کی اجازت دی۔ سرمایہ کاری کی لیکن جب مصیبت آئی تو امریکہ نے پیٹھ دکھائی۔ عربوں پر واضح ہو چکا ہے کہ امریکہ ان کی حفاظت کرنا ہی نہیں چاہتا ہے بلکہ اس کی صلاحیت بھی موجود ہے۔ ایران جیسی اجڑی پجڑی قوم نے امریکہ و اسرائیل کی متحدہ فورس کو ہوا میں اڑا دیا ہے۔ امریکی و اسرائیلی عسکری قوت کا بھرم توڑ دیا ہے۔ ایران نے امریکہ و اسرائیل کے سامنے کھڑے ہو کر ان کی بدمعاشی کا پول کھول دیا ہے۔ ایران جنگ جیتنے کے لئے نہیں بلکہ اپنی قومی سلامتی اور بقا کے لئے لڑ رہا ہے۔ امریکہ و اسرائیل جنگ جیت نہیں سکتے ہیں یہ ثابت ہو گیا ہے کہ ایران عالمی تجارت کے اعصابی مراکز (ہرمز و مندب) پر اپنی گرفت رکھ کر امریکہ و اس کے عرب حواریوں کے لئے شدید مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ امریکی عوام ٹرمپ کی اس جنگ کے خلاف ہو چکے ہیں۔ امریکہ یہ جنگ ہارنا قبول نہیں کرے گا۔ روایتی انداز میں جنگ جیتنا ممکن نظر نہیں آ رہا ہے۔ لیکن امریکہ اس جنگ کو فیصلہ کن بنا سکتا ہے اور ایسا نظر بھی آ رہا ہے کہ کسی حتمی ہتھیار کے استعمال کے ذریعے ایران کو مکمل طور پر برباد کر دیا جائے اور پھر جنگ کا پانسہ پلٹ جائے۔ ایسا ممکن ہے امریکہ دوسری جنگ عظیم میں ایسا کر بھی چکا ہے اور اسے اب بھی ویسا کرنے سے روکنا شاید ممکن نہ ہو۔
ایران، امریکہ جنگ کا حتمی فیصلہ
RELATED ARTICLES



