مصنف: صادق حسینقسط: 119اسی سال میں رخصت پر مری آیا۔ ایک شام مال روڈ پر ٹہل رہا تھا۔ دیکھا کہ سامنے سے اقبال عظیم آ رہے ہیں۔ بغیر کسی تامل کے میں نے اس اقبال عظیم کے قریب جا کر اپنا تعارف کرایا۔ اس اقبال عظیم نے مجھے گلے سے لگا لیا اور آن کی آن میں، خلوص اور محبت اور شفقت کے موتیوں سے میری جھولی بھر دی۔ وہ سید وقار عظیم تھے۔ بڑی بڑی اور روشن آنکھیں، گندمی رنگ، چھریرا بدن، منہ میں پان کی گلوری، ہاتھ میں چھڑی۔ گلے میں مفلر۔ وہ روشن آنکھیں مجھے کھینچ کر لاہور لے آئیں۔ایک عرصے کی بات ہے، میں نے ایک غیر ملکی کمپنی کی ملازمت سے استعفیٰ دے دیا۔ عزت نفس کا تحفظ کر کے ضمیر مطمئن ہو گیا۔ گھر والے پریشان تھے کہ کاروبار زندگی کیسے چلے گا اور اس بات کو صرف میں سمجھ سکتا تھا کہ وقار عظیم میرے گھر والوں سے بھی زیادہ پریشان ہیں۔ وہ دن میں دو چار مرتبہ ہمارے گھر آتے۔ مسکراتے ہوئے۔ چھوٹے چھوٹے جملوں میں بڑی بڑی باتیں کرتے میری بیٹی نرگس سے پیار کرتے۔ جب نرگس نے بی اے کر لیا تو وقار عظیم گرمیوں کی دھوپ میں، چھتری لگا اسے گورنمنٹ کالج میں داخل کرانے اپنے ساتھ لے کر گئے۔ میری شریک حیات نے کہا ”آپ کے سارے دُکھ درد وقار صاحب نے اپنے کمزور کاندھوں پر اٹھا رکھے ہیں۔“ یہ سن کر میں نے سوچا ”یہ کمزور کندھے کتنے توانا ہیں۔ اس دبلے پتلے جسم کے اندر، دل کے معبد میں، انسان دوستی کے کتنے چراغ روشن ہیں۔“جب نرگس کی شادی ہوئی تو وقار عظیم نے اپنے ہاتھوں سے ایک بیٹی کو رخصت کیا۔ پھر دفعتہ موت نے ہمارے گھر کے دروازے پر دستک دی۔ سردیوں کی ایک رات ہمیں اطلاع ملی کہ نرگس کا طرابلس میں انتقال ہو گیا ہے۔ وقار عظیم فوراً ہمارے گھر پہنچے۔ اس وقت انہیں دمے کی تکلیف تھی۔ سانس لینا دشوار ہو رہا تھا۔ میں نے بارہا عرض کیا ”آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں۔ آپ آرام فرمائیں۔“ انہوں نے ہر بار جواب دیا ”میں ٹھیک ہوں“ موت کے تقدس نے در و دیوار پر خاموشی طاری کر رکھی تھی۔ اس خاموشی میں وقار عظیم کی چپ کی گھمبیرتا ہمارا سہارا تھی۔ایک مرتبہ میں، بے خیالی میں، ایک گولی کے بجائے زیادہ تعداد میں خواب آور گولیاں کھا گیا۔ مجھے احساس ہوا کہ اب کوچ کا وقت آ پہنچا۔ بیوی کو ماجرا سنایا۔ وہ گھبرا گئیں۔ لپک کر وقار صاحب کو بلا لائیں۔ اس عرصے میں، میں وصیت کر چکا تھا کہ میرے ادھورے افسانے کے مرکزی کردار کو کثیر تعداد میں خواب آور گولیاں کھلا کر ہلاک کر دیا جائے۔ اور اب نہایت سنجیدگی سے موت کا انتظار کر رہا تھا۔ وقار صاحب مسکراتے ہوئے تشریف لائے۔ اطمینان سے کرسی پر بیٹھ گئے۔ فرمایا ”آپ ہشاش بشاش نظر آ رہے ہیں۔ لائیے گولیوں کی بوتل میں آپ کے سامنے ساری گولیاں کھا جاؤں گا اور مجھے کچھ نہیں ہو گا“ وہ رات گئے تک میرے پاس بیٹھے باتیں کرتے رہے۔ سورج نکلا تو میرے گھر کے افراد سو رہے تھے۔ میں جاگ رہا تھا۔ بعد میں پتا چلا کہ وہ گولیاں کسی جعلی دواساز ادارے کی تیار کردہ تھیں۔ خدا بھلا کرے ان جعلی دواساز اداروں کا۔ اگر یہ سماج دشمن عناصر ہزار آدمیوں کی جان لیتے ہیں تو ایک آدھ کی زندگی بچا بھی لیتے ہیں۔ہم پان نہیں کھاتے مگر ہر عید پر وقار صاحب کے گھر پر پان کھانا ہمارے لئے ایک روایت بن گئی۔ میں اور میری بیوی جب یہ روایتی پان کھاتے تو میں کہتا ”ہم تو عید بقرید پر پان کھاتے ہیں۔“ وقار صاحب یہ سن کر چپکے سے مسکرا دیتے۔ جب ہمیں پتا چلا کہ عید بقرید پر پان کون کھاتا ہے تو وقار صاحب کی مسکراہٹ کا مطلب سمجھ میں آیا۔(جاری ہے)نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ حکومت مذاکرات کے دروازے بند نہ کرے، سیاسی ابال بڑھتا رہا تو معاملات ہاتھ سے نکل سکتے ہیں، فواد چودھری
موت کے تقدس نے در و دیوار پر خاموشی طاری کر رکھی تھی،اس نے مجھے گلے سے لگا لیا اور آن کی آن میں محبت کے موتیوں سے میری جھولی بھر دی
RELATED ARTICLES



