57.5 F
Pakistan
Saturday, October 17, 2026
HomeCrimeسانحہ پشاور: سکولوں کی رجسٹریشن کے ایس او پیز کیا ہیں؟

سانحہ پشاور: سکولوں کی رجسٹریشن کے ایس او پیز کیا ہیں؟

پشاور میں سکول کی چھت گرنے کے واقعے میں استانی سمیت درجنوں بچوں کی موت کے بعد قائم کی گئی تحقیقاتی کمیٹی نے بتایا کہ یہ سکول 2026 میں رجسٹرڈ ہوا تھا، تاہم انتظامیہ نے ایس او پیز پر عمل نہیں کیا تھا۔ گورنر ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق گورنر کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ دیر کالونی میں واقع الخیر ایجوکیشن سسٹم کے مالک نے 16 مرلے اراضی 10 سالہ لیز پر حاصل کر کے اس پر سکول کی عمارت تعمیر کی تھی۔ بریفنگ کے مطابق سکول کی رجسٹریشن کے باوجود انتظامیہ نے ایس او پیز پر عمل نہیں کیا اور چھت گرنے کا افسوس ناک واقعہ پیش آیا۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے ہدایت کی کہ سکولوں کے غیر منظور شدہ نقشوں کی جانچ پڑتال کی جائے اور رجسٹریشن کے لیے متعلقہ ایس او پیز پر سختی سے عمل یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سکول کی چھت گرنے کے واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور سزا کے تعین کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ فیصل کریم کنڈی نے نجی سکولوں کے لیے مؤثر قانون سازی کی ہدایت کرتے ہوئے 15 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کا بھی کہا۔ اب سوال یہ ہے کہ نجی سکولوں کی رجسٹریشن سے پہلے کن سہولتوں کی دستیابی اور کن ایس او پیز پر عمل درآمد کا جائزہ لیا جاتا ہے؟ اس حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو نے متعلقہ قوانین کا مطالعہ کیا ہے۔ نجی سکولوں کی رجسٹریشن کے لیے کیا شرائط ہیں؟ خیبر پختونخوا میں نجی سکولوں کی نگرانی پرائیویٹ سکول ریگولیٹری اتھارٹی کرتی ہے۔ یہی ادارہ ان سکولوں کی رجسٹریشن کرتا اور انہیں لائسنس جاری کرتا ہے۔ اتھارٹی کا قانون 2017 میں بنایا گیا تھا، جس کے تحت نجی سکولوں کی رجسٹریشن کے لیے کچھ شرائط مقرر کی گئی ہیں۔ یہ شرائط پوری ہونے پر سکول کو رجسٹر کر کے لائسنس جاری کیا جاتا ہے۔ اتھارٹی کے قانون کے مطابق سکولوں کی رجسٹریشن کے لیے نو رکنی کمیٹی قائم ہے، جو مقررہ شرائط پر عمل درآمد کا جائزہ لے کر رجسٹریشن کی منظوری دیتی ہے۔ بنیادی شرط یہ ہے کہ سکول کے پاس تعمیر شدہ عمارت ہو، جس میں وقفے کے دوران بچوں کے کھیلنے کے لیے کھلا میدان، لائبریری، لیبارٹری، پانی اور بجلی کا مناسب انتظام، چار دیواری، بیت الخلا اور کسی بھی آفت سے نمٹنے کے لیے حفاظتی انتظامات موجود ہوں۔ شرائط کے مطابق سکول میں حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق کینٹین اور ہر 30 طلبہ کے لیے ایک استاد ہونا بھی ضروری ہے۔ اس کے علاوہ سکول کا باقاعدہ نصاب اور امتحانات لینے کا واضح طریقہ کار ہونا چاہیے۔ سکول کا باقاعدگی سے معائنہ بھی کیا جائے گا اور کوئی شرط پوری نہ ہونے پر اس کی رجسٹریشن دو ماہ تک کے لیے منسوخ کی جائے گی۔ عمارت کا فٹنس سرٹیفکیٹ لازمی خیبر پختونخوا میں تعلیمی ادارے یا کسی دوسری عمارت کی تعمیر کے لیے بلڈنگ ریگولیشنز کے تحت کچھ تقاضے مقرر کیے گئے ہیں۔ ان ضوابط کے تحت تعمیر سے پہلے عمارت کا نقشہ متعلقہ ادارے سے منظور کرانا ضروری ہے۔ تعلیمی اداروں کی عمارتوں کے لیے الگ شرائط مقرر ہیں۔ ضوابط کے مطابق تعلیمی ادارے کی عمارت کے لیے ایک سے چھ کنال تک اراضی درکار ہوتی ہے۔ بچوں کو لانے اور لے جانے والی گاڑیوں کے لیے سکول کے احاطے میں جگہ ہونا بھی ضروری ہے۔ اسی طرح تعلیمی ادارے کی عمارت کی منظوری کسی مستند انجینئر سے لینا لازمی ہے، جو تعمیر کے معیار اور ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے حفاظتی انتظامات کا جائزہ لے گا۔ سکول کی رجسٹریشن کے لیے ریگولیٹری اتھارٹی کو دی جانے والی درخواست کے ساتھ عمارت کا نقشہ اور فٹنس سرٹیفکیٹ جمع کرانا لازمی ہے۔ اس کے بعد ہی سکول کو رجسٹر کیا جائے گا۔ پشاور کے متاثرہ سکول کی عمارت کیسی تھی؟ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) سکول انتظامیہ کے مطابق جس عمارت میں گذشتہ روز یہ واقعہ پیش آیا، وہ ایک سال پہلے تعمیر کی گئی تھی۔ سکول میں آٹھویں جماعت تک تقریباً 450 طلبہ زیر تعلیم تھے۔ یہ عمارت سکول کے ساتھ مدرسے کے طور پر بھی استعمال ہوتی تھی۔ اس کی پہلی منزل کی چھت اینٹوں کے چوکے اور لوہے کے گارڈروں سے بنائی گئی تھی، تاہم اس میں سریا اور سیمنٹ استعمال نہیں کیا گیا تھا۔ دوسری منزل کی چھت بانس کی چقوں سے بنائی گئی تھی، جن پر مٹی ڈالی گئی تھی۔ اسی منزل پر واقع ایک کلاس روم کی چھت گر کر نچلے کلاس روم پر آ گری تھی۔ سکول ایک گنجان آباد علاقے میں قائم تھا، جہاں پارکنگ کی جگہ تو دور، عام گاڑی کا پہنچنا بھی مشکل تھا۔ سکول کے اندر کھیل کا میدان بھی موجود نہیں تھا۔ گورنر خیبر پختونخوا کی مشیر اطلاعات ثمر ہارون بلور نے ایک ویڈیو بیان میں عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ صوبے میں تعلیمی اداروں کی خستہ حال عمارتوں کی نشاندہی میں حکومت کی مدد کریں۔ سکول پشاور خیبر پختونخوا حادثہ پشاور میں سکول کی چھت گرنے سے درجنوں اموات کے بعد تحقیقات سے پتہ چلا کہ سکول کی رجسٹریشن 2026 میں ہوئی البتہ انتظامیہ نے ایس او پیز پر عمل نہیں کیا۔ اظہار اللہ ہفتہ, اکتوبر 17, 2026 – 16: 30 Main image: پاکستان type: news related nodes: پشاور سکول حادثہ، وزیر اعظم کا تحقیقات کا حکم پشاور حادثہ: رشتہ دار کی شادی کے لیے چھٹی لینے سکول جانے والی ٹیچر واپس نہ آ سکیں پشاور حادثہ: ’ہنسی خوشی بیٹا سکول گیا، لیکن اللہ کو کچھ اور منظور تھا‘ پشاور میں کنٹنیرز لگا کر راستے بند، اراکین اسمبلی کی سکیورٹی واپس SEO Title: سانحہ پشاور: سکولوں کی رجسٹریشن کے ایس او پیز کیا ہیں؟ copyright: show related homepage: Hide from Homepage

Read full story on Independent Urdu

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments