58.2 F
Pakistan
Thursday, October 15, 2026
HomeBreaking Newsگورنر راج تو لگ گیا

گورنر راج تو لگ گیا

گورنر راج تو لگ گیا اور ایمرجنسی بھی لگا دی ۔ کچھ لوگ اس پر حکومت پر تبرے بھیج رہے ہیں ۔ ہمیں ان سے گلہ نہیں ہے اس لئے کہ جمہوریت میں گورنر راج اور ایمرجنسی ایسے اقدام کبھی بھی قابل تحسین نہیں رہے اور نہ ہی کوئی جمہوری حکومت چاہتی ہے کہ وہ ایسے آئینی لیکن غیر مقبول اور غیر جمہوری اقدامات کا گناہ اپنے سر لے لیکن جہاں تک موجودہ گورنر راج ہو یا ایمرجنسی ہو تو اگر اپریل 2022کہ جب تحریک انصاف کی حکومت کو عدم اعتماد کے ذریعے ختم کیا گیا تو اس کے بعد وہ دن اور آج کا دن کم و بیش ساڑھے چار سال ہو چکے ہیں اور اس تمام عرصے میں تحریک انصاف نے جس طرح کی سیاست کی اس کے بعد کوئی بھی سیاسی سمجھ رکھنے والا بندہ کہہ سکتا ہے کہ تحریک انصاف انتھک جدو جہد کے بعد صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی ایسے اقدامات لگوانے میں کامیاب ہوئی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا عدم اعتماد کوئی غیر جمہوری یا غیر آئینی اقدام تھا اگر تو ایسا نہیں تھا تو اس کے بعد عمران خان نے جو طرز عمل اختیار کیا اور جس طرح پورے ملک میں اتھل پتھل مچائی کیا اس کا کوئی جواز تھا ۔ 2013کے الیکشن کے بعد 35پنکچرز کے نام پر جس طرح لانگ مارچ کیا گیا اور ایک نیوکلیئر پاور کے دار الحکومت کو126دن تک جام رکھا گیا کہ اس دوران چین کے صدر کا ایک انتہائی اہم دورہ منسوخ کرنا پڑا لیکن سارا اودھم مچانے کے بعد جب دھرنے ختم ہو گئے تو اس کے بعد جب کسی نے خان صاحب سے 35پنکچرز کا پوچھا تو انہوں نے بڑی معصومیت سے کہا کہ وہ تو ایک سیاسی بیان تھا ۔ کیا کوئی ہوش مند بندہ اس طرح کا بیان یا اس طرح کی سیاست کرنا تو دور کی بات ہے ایسا سوچ بھی سکتا ہے ۔ خان صاحب نے تو35پنکچرز والے بیانیہ کو سیاسی بیان کہہ کر خود ہی وضاحت کر دی کہ اس میں کتنی سچائی تھی لیکن ہم آپ کو یاد کراتے ہیں کہ جنرل ضیاء کے گیارہ سالہ مارشل لاء کے بعد جب جمہوریت بحال ہوئی تھی تو 1988میں قائم ہونے والی پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کو صرف 20ماہ میں ختم کر دیا گیاتو پاکستان پیپلز پارٹی کو بھی1990کے الیکشن نتائج پر بڑے شدید قسم کے تحفظات تھے لیکن انھوں نے سسٹم کو گرڈ لاک نہیں لگایا تھا اور اس کے بعد پھر 90کی دہائی میں میوزیکل چیئر کا کھیل چلتا رہا اور مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی دونوں کو اس سے بہت ساری شکایات رہی ہوں گی لیکن نظام کو کسی نے جام نہیں ہونے دیا ۔قارئین ہماری اس بات پر کہہ سکتے ہیںکہ ٹھیک ہے اگر ان دونوں جماعتوں نے احتجاج نہیں کیا تو اس کا یہ مطلب تو نہیں تحریک انصاف بھی اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے خلاف احتجاج نہ کرے تو عرض ہے کہ پر امن احتجاج ہر کسی کا حق ہے لیکن اول تو زیادتی ثابت بھی ہو تو تب احتجاج کرنا بنتا ہے لیکن جیسا کہ عرض کیا کہ کیا عدم اعتماد کوئی غیر جمہوری یا غیر آئینی اقدام تھا کہ جس کے خلاف خان صاحب اس طرح احتجاج کر رہے تھے کہ جیسے پاکستان کی وزارت عظمیٰ اور اقتدار ان کا موروثی حق تھا لیکن اس کے باوجود بھی چونکہ وہ بڑے لاڈلے تھے تو انھیں احتجاج کی پوری اجازت بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ کھلی چھوٹ دی گئی تو غلط نہ ہو گا ۔ انھوں نے وزارت عظمیٰ سے فارغ ہونے کے بعد چھ ماہ یعنی 180دنوں میں ملک کے طول و عرض میں کم و بیش100جلسے کئے تھے ۔ ہم ابھی9مئی کی بات نہیں کریں گے بلکہ بات ابھی پر امن احتجاج کی ہو گی تو سب سے پہلے تحریک انصاف کے دور کے وزیر خزانہ شوکت ترین کی آڈیو لیکس کی بات کرنے کی جسارت کریں گے کہ جس مں اس وقت کے پنجاب اور خیبر پختون خوا کے وزرائے خزانہ کو ورلڈ بنک سے تعاون نہ کرنے کے حوالے سے خط لکھنے کا کہا جا رہا تھا ۔ یہ پاکستان کے خلاف کھلی غداری تھی اور ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اسی وقت اس آڈیو لیکس کا فوری طور پر فرانزک ٹیسٹ ہوتا اور ان پر قانون کے مطابق کارروائی ہوتی اور در حقیقت گورنر راج تو اسی وقت دونوںصوبوں میں لگ جانا چاہئے تھا لیکن بد قسمتی سے ایسا نہیںہوا اور ان سے نرمی برتی گئی لیکن یہ سلسلہ یہاں نہیں رکا بلکہ اس کے بعد تحریک انصاف نے اپنے لیٹر پیڈ پر آئی ایم ایف کو خط لکھا کہ پاکستان کو قرض نہ دیا جائے اور ساتھ ساتھ یورپین یونین کو ہزاروں ای میلز کیں کہ پاکستان کا GSP+اسٹیٹس ختم کیا جائے ۔ یہ سب کیوں ہو رہا تھا فقط اس لئے کہ پاکستان خدا نخواستہ دیوالیہ ہو جائے یعنی اپنی بوٹی کی خاطر ملکی معیشت کے بکرے کو ذبح کرنے سے بھی گریز نہیں کیا گیا لیکن افسوس تو اس بات کا ہے کہ قانون نے اس پر بھی اپنی آنکھیں بند رکھیں اور ابھی تک بھی بند ہیں ۔ اس کے بعد پھر9مئی ایسا بلنڈر کیا گیا جس کے بعد ریاست نے فیصلہ کیا کہ اب انھیںمزید چھوٹ نہیںدی جائے گی لیکن چھوٹ نہ دینے کے فیصلے کے باوجود بھی خان صاحب کے خلاف ابھی تک9مئی کے مقدمات کے فیصلے نہیں آئے۔ یہ سب شاید اسی طرح چلتا رہتا اور نرمیاں برقرار رہتی لیکن سیانے کہتے ہیں کہ جب جزا اور سزا کا قانون حرکت میں نہیں آتا تو معاملات بگڑتے چلے جاتے ہیں اور یہی کچھ تحریک انصاف کے ساتھ ہوا کہ انھوں نے دہشت گردوں کی کھلے عام سرپرستی شروع کر رکھی تھی کہ جس کے بعد کچھ کرنا لازم تھا اگر نہ کرتے تو نہ کرنے والے تاریخ کے کٹہرے میں بطور مجرم کھڑے نظر آتے ۔

Read full story on Nai Baat

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments