61.2 F
Pakistan
Thursday, October 15, 2026
HomePoliticsانڈین چیف الیکشن کمشنر احتجاج کے باوجود استعفیٰ کیوں نہیں دے رہے؟

انڈین چیف الیکشن کمشنر احتجاج کے باوجود استعفیٰ کیوں نہیں دے رہے؟

انڈیا میں الیکشن کمیشن کے سربراہ کو عہدے سے ہٹانے کے مطالبے پر احتجاجی مظاہرے شدت اختیار کر گئے ہیں۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ ملک کے انتخابی سربراہ نے ووٹر فہرستوں سے تقریباً 130 ملین نام حذف کیے تاکہ مبینہ طور پر نریندر مودی کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔ حالیہ دنوں میں اپوزیشن جماعتوں اور نوجوانوں کی تنظیموں کی کال پر ہزاروں مظاہرین دارالحکومت نئی دہلی کی سڑکوں پر نکلے ہیں اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حکومت نے جواباً دسیوں ہزار پولیس اہلکار اور نیم فوجی دستے تعینات کر دیے ہیں، سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں، موبائل انٹرنیٹ بند کر دیا ہے اور سیاسی رہنماؤں، طلبہ، کارکنوں اور وکلا کو بڑی تعداد میں حراست میں لیا ہے۔ منگل کو پولیس نے ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں دوسری مرتبہ کاکروچ جنتا پارٹی کے رہنماؤں کو حراست میں لے لیا۔ یہ نوجوانوں کی وہ تنظیم ہے جس نے رواں ماہ موسم گرما میں ہونے والے ان احتجاجی مظاہروں کی قیادت کی تھی جن کے نتیجے میں متعدد امتحانات کے ناقص انتظامات کے بعد وزیر تعلیم کو عہدہ چھوڑنا پڑا تھا۔ تاہم حکومت کی جانب سے کریک ڈاؤن ان احتجاجی مظاہروں یا ان کے پیچھے موجود غصے کو کم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) الیکشن کمیشن اور مودی حکومت نے ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کے عمل میں کسی بھی قسم کی بے ضابطگی سے انکار کیا ہے۔ حکومت نے گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ بھی یکسر مسترد کر دیا ہے۔ مودی کے ایک وزیر رام داس اٹھاولے نے کہا: ’چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے مستعفی ہونے کا کوئی امکان نہیں۔‘ دہلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سابق پروفیسر اور سیاسی نظریہ دان راجیو بھارگوا کے نزدیک سوال صرف یہ نہیں کہ گیانیش کمار مستعفی کیوں نہیں ہو رہے بلکہ یہ بھی ہے کہ حکومت ان کا دفاع کرنے کے لیے اتنی پُرعزم کیوں ہے۔ انہوں نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا: ’ایک جمہوری حکومت نے ذرا سا بھی شک پیدا ہونے پر اس شخص سے مستعفی ہونے کو کہہ دیا ہوتا۔‘ چیف الیکشن کمشنر کی ذمہ داری غیر جانب دارانہ طور پر انتخابات کروانا اور اس عمل کے منصفانہ ہونے کے بارے میں کسی بھی معقول شبہے کو دور کرنا ہے۔ راجیو بھارگوا کے مطابق: ’اگر ان کی قانونی حیثیت اور ساکھ پر سوال اٹھ رہے ہوں تو غیر جانب دارانہ انتخابات نہیں کروائے جا سکتے۔‘ تاہم انڈین ایکسپریس کی اُس تحقیقاتی رپورٹ نے، جس کے بعد یہ تنازع شدت اختیار کر گیا، ’کسی حد تک ثابت کر دیا‘ کہ کمار کے خلاف شبہات ’جائز ‘ تھے۔ راجیو بھارگوا کا مؤقف ہے کہ چیف الیکشن کمشنر سمیت تینوں الیکشن کمشنروں کو اسی روز ’مستعفی ہو جانا چاہیے تھا۔‘ ان کے بقول،: ’انہوں نے ایسا نہیں کیا، جس سے لوگوں کے اس شک کی تصدیق ہوئی کہ حکومت اور الیکشن کمیشن آپس میں ملے ہوئے ہیں۔‘ اخبار نے رپورٹ کیا کہ گیانیش کمار کے دونوں ساتھی الیکشن کمشنروں نے ووٹر فہرستوں پر نظرثانی سے متعلق کئی فیصلوں اور طریقہ کار پر بارہا اعتراضات اٹھائے تھے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ الیکشن کمیشن کے ڈیٹا بیس کو مرکزی سطح پر یکجا کرنے کے باعث زمینی سطح پر کام کرنے والے حکام ووٹر فہرستوں کی اصلاح نہیں کر پا رہے تھے، حالانکہ انہیں قانوناً یہ اختیار حاصل تھا۔ کمیشن نے تسلیم کیا کہ کمشنروں نے اعتراضات اٹھائے تھے، تاہم اسے معمول کے فیصلہ سازی کے عمل کا حصہ قرار دیا۔ کمیشن کا کہنا تھا کہ خصوصی جامع نظرثانی کا مقصد صرف ووٹر فہرستوں کو تازہ ترین بنانا تھا، جس کے لیے ایسے افراد کی نشاندہی کی جا رہی تھی جو وفات پا چکے ہیں، دوسری جگہ منتقل ہو گئے ہیں، جن کا سراغ نہیں مل رہا یا جن کے نام ایک سے زیادہ حلقوں میں درج ہیں۔ اس عمل کے دوران130 ملین ناموں کو ان زمروں میں شامل کیا گیا، تاہم کمیشن نے اصرار کیا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان تمام ناموں کو فہرستوں سے خارج کر دیا گیا ہے۔ کمیشن کے مطابق، اہل ووٹر اپنے نام دوبارہ شامل کروانے کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ تاہم، اپوزیشن جماعتوں اور ناقدین نے کہا کہ ان انکشافات سے ان کے اس شبہے کو تقویت ملی ہے کہ اس عمل کا مقصد حکمران جماعت کو فائدہ پہنچانے کے لیے لاکھوں ووٹروں کو منظم انداز میں حق رائے دہی سے محروم کرنا تھا۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس عمل کا وسیع پیمانہ، نام دوبارہ درج کرانے کے لیے درکار دستاویزات اور غلطیوں کی اصلاح کا پیچیدہ طریقہ کار اس خدشے کو جنم دیتا ہے کہ اہل ووٹروں کو منظم انداز میں فہرستوں سے خارج کیا جا رہا ہے۔ دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپوروانند، جو اپنا دوسرا نام استعمال نہیں کرتے، کا کہنا ہے کہ ’یہ معاملہ دراصل گیانیش کمار کے بارے میں نہیں ہے۔‘ چیف الیکشن کمشنر کے بارے میں ان کا کہنا ہے: ’وہ ایک بہت بڑے منصوبے میں محض ایک آلہ ہیں، جس کے ذریعے انتخابی عمل کو بی جے پی کے مقاصد کے مطابق ڈھالا اور اس میں ردوبدل کیا جا رہا ہے۔‘ اپوروانند کے مطابق گیانیش کمار کے استعفے سے متعلق مطالبہ تسلیم کرنے سے مودی حکومت کے انکار نے انتخابی انتظامات سے متعلق ایک تنازعے کو اداروں کی ساکھ کا امتحان بنا دیا ہے۔ مودی کے قریبی ساتھی اور وزیر داخلہ امیت شاہ، جن کے ماتحت مظاہرین کے خلاف تعینات پولیس اور نیم فوجی دستے کام کرتے ہیں، نے بالآخر منگل کو اس معاملے پر خاموشی توڑی۔ انہوں نے مرکزی اپوزیشن جماعت کانگریس کو مشورہ دیا کہ وہ بار بار انتخابی شکستوں کے بعد ’انتخابی عمل پر سوال اٹھانے‘کے بجائے اپنا محاسبہ کرے۔ حکومت گیانیش کمار کی حمایت کیوں کر رہی ہے؟ اس دوران حکومت نے معاملے کو واضح کرنے کے لیے اپوزیشن کے ساتھ بامعنی بات چیت سے گریز کیا ہے۔ راجیو بھارگوا کے مطابق جمہوریت میں ایسے تنازعات پر پارلیمان میں بحث ہونی چاہیے اور سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات کے ذریعے ان کا حل نکالا جانا چاہیے۔ جب یہ راستے غیر مؤثر دکھائی دیں اور عدالتیں بھی بروقت فیصلہ نہ کریں، جیسا کہ اس معاملے میں ہو رہا ہے، تو لوگوں کو محسوس ہو سکتا ہے کہ سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرنا ہی ان کے پاس واحد راستہ ہے۔ ان کے خیال میں گیانیش کمار کو عہدے سے نہ ہٹانے کے پیچھے حکومت کا یہ خوف ہو سکتا ہے کہ ان کی رخصتی سے کیا تاثر پیدا ہوگا۔ حکومت گیانیش کمار کو استعفیٰ دینے پر آمادہ کر کے ان کی جگہ کسی دوسرے شخص کو مقرر کر سکتی ہے اور یہ دعویٰ کر سکتی ہے کہ اس نے ادارے پر اعتماد بحال کر دیا ہے۔ تاہم راجیو بھارگوا کے مطابق، حکومت یہ خطرہ مول لینے سے گریزاں دکھائی دیتی ہے کیونکہ اسے یقین نہیں کہ نیا مقرر کردہ شخص اس کے مفادات کے لیے زیادہ سازگار ہوگا۔ اپوروانند اس معاملے کو زیادہ براہ راست انداز میں دیکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت صرف گیانیش کمار کا نہیں بلکہ ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کے پورے عمل سے وابستہ وسیع تر سیاسی اختیار کا تحفظ کر رہی ہے۔ ان کے خیال میں ایک عہدیدار کو تبدیل کرنے سے اس بنیادی تشویش کا ازالہ نہیں ہوگا کہ حالیہ عرصے میں انتخابی فیصلے کس طرح کیے جا رہے ہیں۔ راجیو بھارگوا کے مطابق یہی وجہ ہے کہ حکومت نے پہلے خاموشی اور پھر طاقت کے استعمال کی حکمت عملی اختیار کی ہے، اس توقع کے ساتھ کہ عوامی غصہ بالآخر ٹھنڈا پڑ جائے گا۔ انہوں نے کہا: ’یہ ایک ایسی حکومت ہے جو کافی ضدی ہے۔ یہ کسی بھی مطالبے پر ردعمل نہیں دیتی۔ اس کا جواب طاقت سے کچلنا ہے، ڈھٹائی سے اپنا مؤقف برقرار رکھنا ہے۔ حتیٰ کہ بحث اور گفتگو کے معاملے میں بھی یہی رویہ ہے۔ پہلے خاموشی اور پھر طاقت کا استعمال۔‘ ان کے بقول: ’اور یہ انتظار کرتی ہے کہ حالات خود ہی ٹھنڈے پڑ جائیں۔‘ اپوروانند کے مطابق بھاری تعداد میں سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کے ذریعے بی جے پی کے بنیادی حامیوں کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ حکومت اب بھی مضبوطی سے کنٹرول میں ہے، چاہے اس کے سیاسی بیانیے کو مزاحمت کا سامنا کیوں نہ ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ احتجاجی مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کا مقصد اپوزیشن کی تنقید تسلیم کرنے کے بجائے حکومتی اختیار اور طاقت کا مظاہرہ کرنا ہے۔ اب آگے کیا ہوگا؟ موجودہ صورت حال کا موازنہ جولائی میں ہونے والے ان احتجاجی مظاہروں سے ناگزیر ہے جن کے نتیجے میں وزیر تعلیم دھرمیش پردھان کو استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ راجیو بھارگوا کے مطابق اس وقت حکومت نے20 جولائی کو پولیس کے سخت کریک ڈاؤن کے بعد ہی دباؤ قبول کیا تھا، کیونکہ اس کارروائی سے نوجوان ووٹروں کی ایک پوری نسل کے حکومت سے دور ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔ اس پیش رفت نے اپوزیشن رہنماؤں کے لیے بھی اپنی بات سنانے کی گنجائش پیدا کی تھی۔ ان کے مطابق، موجودہ احتجاجی مظاہروں کی طاقت کی ایک وجہ نوجوان نسل، خصوصاً جنریشن زی، کے مظاہرین کا غیر رسمی انداز ہے۔ نوجوان کارکن طنز، بے باک نعروں اور ایسے طریقوں کو استعمال کر سکتے ہیں جن سے روایتی سیاسی جماعتیں گریز کرتی ہیں۔ وہ اس تحریک کو اپوزیشن کے کام کی جگہ لینے کے بجائے اس کی تکمیل کرنے والی تحریک قرار دیتے ہیں۔ اپوروانند بھی اس سے اتفاق کرتے ہیں۔ ان کے مطابق، جب جولائی کے احتجاجی مظاہروں کے جواب میں پولیس نے طاقت کا بے دریغ استعمال کیا تو ’نوجوانوں نے حکومت کا اصل چہرہ دیکھ لیا۔‘ انہوں نے کہا: ’لوگوں کے سامنے حقیقت بالکل واضح اور نمایاں ہو گئی۔ لوگوں نے اپوزیشن کو دیکھنا اور سننا شروع کر دیا، خصوصاً راہل گاندھی کو۔‘ تاہم جولائی کے برعکس، اپوروانند کو نہیں لگتا کہ موجودہ کشیدگی جلد ختم ہو جائے گی۔ ان کے بقول: ’یہ جاری رہے گی کیونکہ اب یہ حکومت اور عوام کے درمیان معاملہ بن چکا ہے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ جولائی میں حکومت یہ تاثر دینا چاہتی تھی کہ وہ نوجوانوں کے مطالبات پر ردعمل دے رہی ہے، لیکن موجودہ تنازعے کو سنبھالنا اس کے لیے زیادہ مشکل ہے، کیونکہ اپوزیشن رہنماؤں خصوصاً راہل گاندھی کے ساتھ براہ راست بات چیت کرنے کا مطلب ملک میں ان کی حیثیت کو جائز سیاسی فریق کے طور پر تسلیم کرنا ہوگا۔ اور بی جے پی اقتدار میں اپنے 12 برسوں کے دوران ایسا کرنے سے مسلسل گریز کرتی رہی ہے۔ انڈیا بھارتیہ جنتا پارٹی مودی حکومت تجزیہ کاروں کے مطابق سوال صرف یہ نہیں کہ گیانیش کمار مستعفی کیوں نہیں ہو رہے بلکہ یہ بھی ہے کہ حکومت ان کا دفاع کرنے کے لیے اتنی پُرعزم کیوں ہے۔ نمیتا سنگھ جمعرات, اکتوبر 15, 2026 – 09: 15 Main image: ایشیا type: news related nodes: انڈیا نے احتجاج کا مشہور مقام ’جنتر منتر‘ بند کر دیا انڈیا: الیکشن کمشنر کے خلاف مظاہرے سے قبل کاکروچ جنتا پارٹی کے سربراہ زیرِ حراست انڈیا میں پولیس پر مظاہرین سے بدسلوکی کا الزام انڈیا: ’کاکروچز‘ کا چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کے لیے الٹی میٹم SEO Title: انڈین چیف الیکشن کمشنر احتجاج کے باوجود استعفیٰ کیوں نہیں دے رہے؟ copyright: IndependentEnglish origin url: https: //www. independent. co. uk/asia/india/delhi-india-protests-modi-gyanesh-kumar-jantar-mantar-b3066321. html show related homepage: Show on Homepage

Read full story on Independent Urdu

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments