62.7 F
Pakistan
Monday, October 12, 2026
HomePoliticsگورنر راج: پی ٹی آئی قیادت غائب، پشاور میں غیر یقینی صورت...

گورنر راج: پی ٹی آئی قیادت غائب، پشاور میں غیر یقینی صورت حال اور سکیورٹی سخت

خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پشاور میں پیر کو غیر یقینی صورت حال برقرار ہے۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے آج شہر میں احتجاج کے اعلان کے پیش نظر اہم شاہراہوں پر سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے، جب کہ کینٹ کے داخلی و خارجی راستے کنٹینرز لگا کر بند کر دیے گئے ہیں۔ صدر پاکستان نے اتوار کو وزیراعظم شہباز شریف کی ایڈوائس پر صوبہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کر دی جب کہ پاکستان تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ حکومت نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق صدارتی فرمان کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے تحت صوبے میں ایمرجنسی فوری طور پر نافذ العمل ہو گئی ہے۔ سکیورٹی خدشات کے باعث شہر کے تمام سرکاری و نجی تعلیمی ادارے، اسکول اور یونیورسٹیاں آج بند ہیں، جب کہ مختلف چوراہوں پر پولیس اہلکار تعینات ہیں۔ شہر کے ایک چوراہے پر ڈیوٹی دینے والے پولیس اہلکار نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ وہ گذشتہ 72 گھنٹے سے ڈیوٹی پر ہیں اور انہیں تاحکمِ ثانی چوکس رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس سے قبل خیبر پختونخوا پولیس کی جانب سے امن و امان کی صورت حال بگڑنے کی صورت میں فورس استعمال کرنے کی ہدایات بھی جاری کی گئی تھیں، جن میں ربڑ کی گولیاں چلانے اور لاٹھی چارج کرنے کی ہدایات شامل ہیں۔ بازار کھلے، مگر کاروباری سرگرمیاں متاثر شہر کی اہم مارکیٹیں اور تجارتی مراکز معمول کے مطابق کھلے ہیں، تاہم سڑکوں پر ٹریفک کی کمی اور راستوں کی بندش کے باعث بازاروں میں بھی معمول سے کم چہل پہل دکھائی دے رہی ہے۔ پشاور صدر کی شفیع مارکیٹ کے دکاندار راحت نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ راستوں کی بندش اور بی آر ٹی سروس کی معطلی کے باعث مارکیٹ میں گاہک نہ ہونے کے برابر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ’گورنر راج لگ گیا ہے تو اب راستوں کو کھولنا چاہیے تاکہ معمولات زندگی متاثر نہ ہوں کیونکہ راستوں کی بندش سے مارکیٹ پر بڑا اثر پڑتا ہے۔ ‘ بی آر ٹی دوسرے روز بھی بند پشاور میں بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) سروس آج مسلسل دوسرے روز بھی معطل ہے، جس کے باعث شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا ہے۔ بی آر ٹی شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ کا ایک اہم ذریعہ ہے، جس کے ذریعے روزانہ ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد سفر کرتے ہیں۔ سروس کی معطلی سے نہ صرف مسافروں کو مشکلات پیش آ رہی ہیں بلکہ بازاروں میں گاہکوں کی آمد بھی متاثر ہوئی ہے۔ پی ٹی آئی قیادت منظر عام سے غائب خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سابق وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت کے حوالے سے صورت حال واضح نہیں ہو سکی، جبکہ مردان میں بھی پی ٹی آئی کا اعلان کردہ لانگ مارچ دکھائی نہیں دے رہا۔ گذشتہ روز پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر سہیل آفریدی، صوبائی اسمبلی کے سپیکر بابر سلیم سواتی اور صوبائی صدر جنید اکبر کی گرفتاری سے متعلق دعوے کیے گئے تھے، تاہم سرکاری سطح پر ان گرفتاریوں کی تصدیق نہیں ہوئی۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے گذشتہ روز سہیل آفریدی کی گرفتاری سے متعلق ایک بیان میں کہا تھا کہ حکومت کو ضرورت پڑنے پر بعض افراد کو گرفتار یا حراست میں لیا جا سکتا ہے۔ انڈپینڈنٹ اردو نے صورت حال پر مؤقف جاننے کے لیے پی ٹی آئی قیادت سے رابطے کی کوشش کی، تاہم کسی سے رابطہ نہیں ہو سکا۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) اپیکس کمیٹی کا اجلاس آج طلب دوسری جانب گورنر خیبر پختونخوا نے آج پشاور میں اپیکس کمیٹی کا اجلاس طلب کیا ہے، جس میں صوبے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔ گورنر ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق پشاور شہر میں نصب کنٹینرز مرحلہ وار ہٹائے جائیں گے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ گزشتہ روز مکمل طور پر بند رہنے والے موبائل سگنلز، انٹرنیٹ اور دیگر مواصلاتی سہولیات آج بحال ہو گئی ہیں۔ اولین ترجیح پائیدار امن کا قیام ہے: گورنر خیبرپختونخوا میں سکیورٹی صورت حال اور انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا سکیورٹی اجلاس اتوار کو بھی منعقد ہوا تھا جس کی صدارت گورنر فیصل کریم کنڈی نے کی۔ اجلاس میں مشیر برائے داخلہ کِفایت اللہ خان، چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان، انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار حمید اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں صوبے کی سکیورٹی صورت حال اور دہشت گردی کے خلاف جاری اقدامات پر غور کیا گیا۔ گورنر نے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا کہ پولیس اہلکار دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صفِ اول کا کردار ادا کر رہے ہیں اور عوام کے تحفظ کے لیے بے پناہ قربانیاں دے رہے ہیں۔ پولیس اہلکاروں کی فلاح و بہبود، مناسب معاوضے اور ان کے خاندانوں کے مستقبل کو ترجیح دینا ضروری ہے۔ حکام نے پولیس اور محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کو مزید مضبوط بنانے اور اہلکاروں کو ضروری معاونت فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ فوج کی تعیناتی وفاقی حکومت نے اتوار کو صوبے میں سول انتظامیہ کی معاونت کے لیے فوج کی تعیناتی کا باضابطہ حکم نامہ جاری کر دیا۔ یہ تعیناتی آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت ہوئی ہے۔ وزارت داخلہ کے حکم نامے کے مطابق خیبر پختونخوا میں امن و امان اور شہریوں کے تحفظ کے لیے فوج سول انتظامیہ کی معاونت کرے گی۔ حکم نامے میں بتایا گیا کہ گورنر خیبر پختونخوا، جی ایچ کیو کے ملٹری آپریشنز ڈائریکٹوریٹ سے مشاورت کے بعد فوجی دستوں اور وسائل کی تعداد کا تعین کریں گے۔ خیبر پختونخوا ایمرجنسی گورنر راج سکیورٹی پی ٹی آئی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے آج شہر میں احتجاج کے اعلان کے پیش نظر اہم شاہراہوں پر سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ اظہار اللہ سوموار, اکتوبر 12, 2026 – 13: 00 Main image: پاکستان jw id: YHfXjKUX type: video related nodes: ایمرجنسی نافذ ہونے کے بعد خیبر پختونخوا کون چلائے گا؟ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی سنگین غلطی: بیرسٹر گوہر گورنر راج مانتے ہیں نہ ایمرجنسی: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا SEO Title: گورنر راج: پی ٹی آئی قیادت غائب، پشاور میں غیر یقینی صورت حال اور سکیورٹی سخت copyright: show related homepage: Show on Homepage

Read full story on Independent Urdu

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments