مہنگائی صرف اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا نام نہیں۔ یہ اس وقت ایک بڑے سماجی مسئلے میں تبدیل ہوتی ہے جب انسان کی آمدن وہیں کھڑی رہ جائے اور زندگی کی ضروریات اس سے آگے نکل جائیں۔ پھر مسئلہ صرف یہ نہیں رہتا کہ اشیائے خورو نوش یا ضروریاتِ زندگی کتنی مہنگی ہو گئی ہیں اصل مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ایک عام آدمی اپنی محدود آمدنی میں زندگی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو کیسے پورا کرے۔ پاکستان میں مہنگائی پر گفتگو عموماً اعداد و شمار سے شروع ہو تی ہے اور اعداد و شمار پر ہی ختم ہو جاتی ہے۔ حکومت افراطِ زر کی شرح بتاتی ہے، ماہرینِ معیشت شرحِ نمو، شرحِ سود، زر مبادلہ کے ذخائر اور مالیاتی خسارے پر بات کرتے ہیں جبکہ عام آدمی کے لیے معیشت کا پیمانہ اس کی جیب ہے۔ وہ یہ دیکھتا ہے کہ پچھلے مہینے جو رقم پورے گھر کا خرچ چلا رہی تھی اس مہینے وہ کتنی ضروریات کو پورا کر رہی ہے۔ یہی فرق ہے جو معاشی اعداد اور انسانی زندگی کے درمیان موجود ہے ۔ پاکستان بیورو آف سٹیٹیسٹکس کے مطابق ستمبر 2026 میں ملک میں قیمتوں کا اشاریہ گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 10. 26 فیصد بڑھا جبکہ اگست 2026 کے مقابلے میں ماہانہ بنیاد پر بھی 1. 27 فیصد اضافہ ہوا۔ شہری علاقوں میں سالانہ مہنگائی 10. 12 فیصد اور دیہی علاقوں میں 10. 47 فیصد رہی۔ جولائی تا ستمبر 2026 کے دوران اوسط مہنگائی 10. 20 فیصد رہی۔ یہ اعداد اپنی جگہ اہم ہیں مگر عام آدمی کے لیے ان کی اصل معنویت اس وقت سامنے آتی ہے جب انہیں گھر کے بجٹ کے ساتھ رکھ کر دیکھا جائے کیونکہ دس فیصد کی شرح کسی رپورٹ میں تو ایک عدد ہو سکتی ہے مگر ایک خاندان کے لیے یہی اضافہ بچوں کی فیس، علاج، سفر، خوراک یا گھر کے کسی ضروری کام کو مو¿خر کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں ہے کہ مہنگائی کی شرح کتنی رہی بلکہ یہاں سوال یہ ہے کہ اس تمام عرصے میں عام آدمی کی حقیقی قوتِ خرید کس مقام پر کھڑی ہے؟ اس کی تنخواہ میں کتنا اضافہ ہوا؟ اس کے روزگار کے مواقع میں کتنی بہتری آئی؟ ضروری سہولیات تک اس کی رسائی کتنی آسان ہوئی؟ اس کے لیے زندگی کے بنیادی تقاضے پورے کرنا پہلے کی نسبت کتنا مشکل یا آسان ہوا؟ مسئلہ یہ ہے کہ آمدن اکثر سال میں ایک مرتبہ بڑھتی ہے جبکہ قیمتیں روزمرہ کی بنیاد پر تبدیل ہوتی ہیں یہی وجہ ہے کہ مہنگائی کا سب سے گہرا اثر متوسط طبقے پر پڑتا ہے۔ لیکن ےہ بھی حقیقت ہے کہ مشکلات انسان کے خواب ختم نہیں کرتیں۔ عام آدمی کے پاس وسائل کم ہو سکتے ہیں، راستے محدود ہو سکتے ہیں مگر آگے بڑھنے کی خواہش ہمیشہ ختم نہیں ہوتی۔ عاصم رضا کے یہ الفاظ اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ صلاحیت اپنی جگہ مگر محدود وسائل اکثر انسان کے امکانات کو محدود کر دیتے ہیں۔مفلسی باندھ دے ان کو تو الگ بات ہے یہخواب سب طاقت پرواز رکھتے ہیںان خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے ایسے معاشی ماحول کی ضرورت ہے جہاں محنت کرنے والے افراد کو آگے بڑھنے کے مواقع میسر ہوں اور ان کی آمدن بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے بعد مستقبل کی منصوبہ بندی کی اجازت دے۔ کسی بھی معاشرے کی محرومی کا اندازہ صرف اس کے اعداد و شمار سے نہیں لگایا جا سکتا بلکہ اس کے لیے یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ وہاں کتنے انسان اپنی صلاحیتوں کے باوجود آگے بڑھنے سے محروم ہیں، کتنے نوجوان روزگار کی تلاش میں اپنی عمر کا قیمتی حصہ گزار دیتے ہیں اور کتنے خاندان مسلسل بڑھتے ہوئے اخراجات کے سامنے اپنی خواہشات اور ضروریات میں فرق کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ غریب عوام زندگی کی بنیادی سہولتوں تک سے محروم ہیں۔ یہاں تنگ دستی کوئی انوکھی کہانی نہیں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے قابو بجلی کے بل، محدود ہوتے روزگار کے مواقع سب مل کر ایک ایسا دائرہ بناتے ہیں جس میں عام آدمی پھنستا چلا جاتا ہے۔ غربت صرف ایک معاشی حالت نہیں بلکہ ایک مکمل کیفیت ہے، ایسی کیفیت جو انسانی وجودکے ہر گوشے میں اتر کر اس کی سانسوں تک کو بوجھل کر دیتی ہے۔ یہ وہ آواز ہے جو اخباروں کی سرخی بنتی ہے اور نہ ہی ایوانوں میں سنائی دیتی ہے۔ یہ وہ مسلسل جنگ ہے جس میں انسان اپنے ہی خوابوں کے خلاف صف آرا ہوتا ہے۔ متوسط طبقہ جو کبھی استحکام کی علامت سمجھا جاتا تھا اب خاموش دباو¿ کے نیچے سانس لے رہا ہے۔ نہ یہ مکمل طور پر غریب ہے کہ سب چھوڑ دے نہ اتنا خوشحال کہ بے فکر ہو جائے۔ مہنگائی، محدود آمدنی اور بڑھتی ہوئی ذمہ داریوں کے درمیان یہ طبقہ ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید دب رہا ہے۔ غربت کا اصل کرب صرف بھوک نہیں ہوتی بلکہ وہ احساس ہوتا ہے جو انسان کو ہر لمحہ یہ یاد دلاتا ہے کہ وہ کمزور پوزیشن میں ہے۔ پاکستان میں مہنگائی، بیروزگاری، ٹیکس کے بڑھتے بوجھ اور توانائی کے اخراجات نے معاشی مشکلات کو ایک ایسی مسئلے میں بدل دیا ہے جس کے اثرات محض بازار اور کاروبار تک محدود نہیں بلکہ انسانی امکانات اور معاشرتی توازن تک پھیل چکے ہیں۔ غریب عوام زندگی کی بنیادی سہولتوں تک سے محروم چکے ہیں۔ یہاں تنگ دستی اب کوئی انوکھی کہانی نہیںہے بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے قابو بجلی کے بل، محدود ہوتے روزگار کے مواقع سب مل کر ایک ایسا دائرہ بناتے ہیں جس میں عام آدمی پھنستا چلا جاتا ہے۔ کسی قوم کی حقیقی ترقی اس وقت نمایاں ہوتی ہے جب اس کے محروم طبقے کے لیے بھی آگے بڑھنے کے راستے کھلنے لگیں۔ یہی وجہ ہے کہ مہنگائی اب کوئی اعداد و شمار کا کھیل نہیں رہی یہ ہر دروازے پر دستک دیتی حقیقت ہے ایک عام آدمی کے لیے زندگی اب سہولت نہیں بلکہ مسلسل توازن کا نام بن چکی ہے۔ جہاں وہ ہر دن یہ فیصلہ کرتا ہے کہ کون سی ضرورت پوری کرے اور کس خواہش کو مو¿خر کر دے۔ یہ اب ایک ایسا ناسور بن چکی ہے جو غریب کی امید، خواب اور عزت نفس کو نگل رہی ہے۔ بازاروں میں قیمتیں بے لگام ہیں، فاقہ کشی اب صرف کہانیوں کا حصہ نہیں رہی، بلکہ لاکھوں گھروں کی روزمرہ کی حقیقت بن چکی ہے۔ ایسے میں حکمرانوں کے بلند و بانگ دعوے اور پالیسی سازوں کی خوبصورت تقریریں صرف زخموں پر نمک چھرکنے کے مترادف ہیں۔ وہ مزدور جو دن بھر مشقت کے بعد بھی دو وقت کی روٹی نہیں خرید سکتا، وہ نوجوان جو بے روزگاری کے ہاتھوں اپنی صلاحیتوں کو زنگ لگتے دیکھ رہا ہے، سب اس نظام پر ایک کھلا سوالیہ نشان ہیں۔ کیا یہ وہی ملک ہے جس کے آئین میں ہر شہری کے بنیادی حقوق کی ضمانت دی گئی تھی؟ کیا یہ وہی ریاست ہے جہاں مساوات اور عدل کے خواب دیکھے گئے تھے؟ ہمارا المیہ یہ ہے کہ جاہ پرستی، شاہ پرستی اور موقع پرستی نے سماج اور ملکی نظام کو کھوکھلا اور کمزور کر دیا ہے۔ ہمارے ملک کا یہ کیسا نظام ہے کہ جہاں رہنے والے کسی شمار میں نہیں، ان بے بس لوگوں کی بنیادی ضروریات پر کوئی توجہ نہیں۔
مہنگائی اور عام آدمی کی بدلتی ہوئی زندگی
RELATED ARTICLES



