66.5 F
Pakistan
Monday, October 12, 2026
HomePoliticsگوادر کی کامیابی چابہار کی ناکامی میں نہیں

گوادر کی کامیابی چابہار کی ناکامی میں نہیں

پاکستان کو جغرافیے کو تجارت میں بدلنے کا موقع شاذ و نادر ہی ملتا ہے۔ ایران کی چابہار بندرگاہ کے گرد سست روی شاید اب ایسا ہی ایک موقع فراہم کر رہی ہے۔ امریکہ کی جانب سے دی گئی وہ پابندیوں سے استثنا (sanctions waiver) جس نے انڈیا کو چابہار میں کام جاری رکھنے کی اجازت دی تھی، 26 اپریل کو ختم ہو گئی تھی۔ لیکن اس سے بھی بڑی رکاوٹ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بنی، جس نے ایرانی انفراسٹرکچر، جہاز رانی اور مالیاتی نظام سے وابستہ خطرات کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ انڈیا کے 2026-27 کے بجٹ میں چابہار کے لیے کوئی نئی رقم مختص نہیں کی گئی، کیونکہ نئی دہلی کا مؤقف تھا کہ وہ بندرگاہ کے آلات کے لیے اپنی 120 ملین ڈالر کی مالی ذمہ داری پوری کر چکا ہے۔ تاہم، انڈیا نے اس منصوبے کو ترک نہیں کیا۔ بندرگاہ بدستور فعال ہے اور نئی دہلی کی اس میں تزویراتی دلچسپی بھی برقرار ہے۔ اصل نکتہ یہ نہیں کہ چابہار بند ہو چکی ہے بلکہ یہ ہے کہ وہاں انڈیا کے کردار کی بنیاد بننے والا اعتماد کمزور پڑ گیا ہے، عین ایسے وقت میں جب پاکستان کو گوادر کو تجارتی اعتبار سے قابلِ اعتماد بنانا ہے۔ انڈیا کے لیے چابہار ہمیشہ محض ایک بندرگاہ سے بڑھ کر رہی ہے۔ اس نے نئی دہلی کو پاکستان سے گزرے بغیر افغانستان اور وسطی ایشیا تک رسائی فراہم کی جبکہ بین الاقوامی شمال جنوب ٹرانسپورٹ راہداری (INSTC) کے لیے ایک جنوبی مرکز کا کردار بھی ادا کیا۔ مئی 2024 میں ہونے والا 10 سالہ آپریٹنگ معاہدہ اس بات کا ثبوت تھا کہ انڈیا اب بھی اس منصوبے کو تزویراتی طور پر اہم سمجھتا ہے۔ لیکن اب پابندیوں کا خطرہ محض قواعد و ضوابط کی پابندی کا ایک نظری معاملہ نہیں رہا۔ جنگ شروع ہونے کے بعد خلیج اور اس کے گرد و نواح کے سمندری راستوں میں حملوں، متبادل راستوں کے استعمال اور انشورنس اخراجات میں اضافے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس صورت حال نے ایرانی بندرگاہ کو بین الاقوامی بینکوں، بیمہ کمپنیوں اور لاجسٹکس اداروں کے لیے ایک معمول کی تجارتی تجویز کے طور پر قبول کرنا زیادہ مشکل بنا دیا ہے۔ یہ صورت حال گوادر کے لیے ایک موقع پیدا کرتی ہے، لیکن خود بخود فتح کی ضمانت نہیں دیتی۔ گوادر کی تزویراتی صلاحیت اس کے موجودہ تجارتی حجم سے کہیں زیادہ بڑی ہے۔ پاکستان کے اقتصادی سروے کے مطابق جولائی تا مارچ 2024-25 کے دوران گوادر سے صرف 42, 500 ٹن سامان کی ترسیل ہوئی۔ اس کے برعکس، انڈیا کے مطابق چابہار نے 2023-24 میں 60, 000 سے زائد ٹی ای یو (TEUs) کنٹینر کارگو اور 19 لاکھ ٹن بلک اور عمومی سامان کی نقل و حمل سنبھالی۔ اگرچہ یہ اعداد و شمار مختلف مدتوں اور مختلف پیمانوں کی عکاسی کرتے ہیں، لیکن فرق ایک بنیادی مسئلے کو واضح کرتا ہے: چابہار ایک مضبوط تجارتی شناخت قائم کر چکی ہے جبکہ گوادر اب بھی اس مرحلے تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔ مزید پڑھ اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field) کچھ حوصلہ افزا اشارے ضرور موجود ہیں۔ رواں سال گوادر نے کئی بڑے جہازوں کو سنبھالا، جن میں مئی میں آنے والی 53, 277 ٹن سٹیل بلٹس کی کھیپ بھی شامل تھی۔ اسی ماہ چین سے آنے والا 16, 000 ٹن سے زیادہ صنعتی آلات لے جانے والا ایک اور جہاز آبنائے ہرمز کے گرد پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے باعث گوادر کا رخ کرنے پر مجبور ہوا۔ بندرگاہ میں کثیر المقاصد استعمال کے لیے تین برتھ، جدید سامان برداری آلات اور ایسٹ بے ایکسپریس وے کے ذریعے سڑک رابطہ موجود ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ وقتی آپریشنز مستقل تجارتی سرگرمیوں میں تبدیل ہو سکیں گے؟ رکاوٹیں اچھی طرح معلوم ہیں اور پاکستان خود بھی انہیں تسلیم کر چکا ہے۔ جنوری 2025 میں حکومت نے گوادر کے تجارتی اخراجات کا علاقائی متبادل بندرگاہوں سے تقابلی جائزہ لینے کا حکم دیا تھا۔ یہ خود اس بات کا اعتراف تھا کہ جغرافیائی محل وقوع ابھی تک مسابقتی تجارتی پیشکش میں تبدیل نہیں ہو سکا۔ بعد کی پارلیمانی بحثوں میں تصویر مزید واضح ہوئی: اطلاعات کے مطابق گوادر کی بندرگاہی فیس جبل علی سے زیادہ تھی، شپنگ کمپنیوں کے لیے مراعات محدود تھیں اور سکیورٹی خدشات بدستور بندرگاہ پر بوجھ بنے ہوئے تھے۔ رابطہ کاری (کنیکٹیویٹی) ایک اور کمزوری ہے۔ گوادر تک سڑک کے ذریعے رسائی موجود ہے، لیکن پاکستان کے اندر اور وسطی ایشیا تک جانے والا لاجسٹکس نظام ابھی مکمل نہیں۔ سی پیک کا مغربی روٹ گوادر کو کوئٹہ اور قومی شاہراہوں کے جال سے جوڑتا ہے، لیکن کئی اہم حصوں میں مزید سرمایہ کاری درکار ہے۔ ریلوے کے شعبے میں خلا اس سے بھی بڑھا ہے۔ گوادر کے پاس وہ مربوط مال بردار ریلوے نیٹ ورک موجود نہیں جو کسی بڑے ٹرانس شپمنٹ مرکز کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ جب تک سامان بندرگاہ سے سڑک اور ریل تک باقاعدہ اور قابلِ پیش گوئی طریقے سے منتقل نہیں ہو سکتا، تب تک گوادر نقشے پر تو پرکشش دکھائی دے گا مگر تاجروں کے حساب کتاب میں نہیں۔ شپنگ لائنز ہی اصل امتحان ہیں۔ کوئی بندرگاہ اس لیے مرکز نہیں بنتی کہ حکومت اسے مرکز قرار دے دے بلکہ اس لیے بنتی ہے کہ جہاز رانی کمپنیاں اسے منتخب کریں۔ 2025 میں پاکستان کے بحری حکام اب بھی گوادر کے لیے مزید شپنگ کمپنیوں کو راغب کرنے کی کوشش کر رہے تھے، جبکہ بندرگاہ کے آپریٹر نے بھی اعتراف کیا کہ کمزور بین الاقوامی روابط نے تجارتی حجم کو محدود کر رکھا ہے۔ سکیورٹی خدشات اخراجات مزید بڑھا دیتے ہیں کیونکہ انشورنس کمپنیاں ہر سفر کی قیمت طے کرتے وقت خطرات کو مدنظر رکھتی ہیں۔ حکومت گوداموں کے اخراجات معاف کر سکتی ہے یا مراعات دے سکتی ہے، لیکن وہ سامان کی نقل و حمل کو مصنوعی طور پر پیدا نہیں کر سکتی۔ جنگ نے مرتکز تجارتی راستوں کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ خلیجی کاروباری اداروں کو متبادل راستے درکار ہیں، وسطی ایشیائی معیشتوں کو سمندر تک قابلِ اعتماد رسائی چاہیے اور چین کو بحرِ ہند تک متنوع روابط کی ضرورت ہے۔ پاکستان نہ تو چابہار، آئی این ایس ٹی سی یا خلیجی بندرگاہوں کی جگہ لے سکتا ہے اور نہ ہی اسے ایسی کوشش کرنی چاہیے۔ اس کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ گوادر کو متعدد قابلِ اعتماد تجارتی راہداریوں میں سے ایک بنایا جائے، اور مخصوص اقسام کے سامان کی نقل و حمل کے لیے سب سے آسان انتخاب بنایا جائے۔ گوادر اس لیے کامیاب نہیں ہوگا کہ چابہار ناکام ہو جائے۔ گوادر صرف اسی صورت جیت سکتا ہے جب پاکستان وسطی ایشیا کے ساتھ تجارت کو جغرافیائی سیاست کے ایک نعرے کے بجائے حقیقی تجارتی موقع سمجھے۔ جغرافیے نے پاکستان کو موقع فراہم کر دیا ہے۔ اس بار پالیسی کو یقینی بنانا ہوگا کہ سامان کی نقل و حرکت بھی اسی راستے پر ہو۔ مصنفہ عوامی پالیسی اور بین الاقوامی معاشیات کی ماہر ہیں اور تجارت، معاشی حکمرانی، رابطہ کاری اور عالمی جغرافیائی سیاست پر لکھتی ہیں۔ ایکس: @HinaAyra یہ تحریر ان کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ یہ تحریر اس سے قبل عرب نیوز پاکستان پر شائع ہوچکی ہے۔ چابہار گوادر گوادر پورٹ ایران جنگ پاکستان بندرگاہ تجارت گوادر اس لیے کامیاب نہیں ہوگا کہ چاہ بہار ناکام ہو جائے۔ گوادر صرف اسی صورت جیت سکتا ہے جب پاکستان وسطی ایشیا کے ساتھ تجارت کو جغرافیائی سیاست کے ایک نعرے کے بجائے حقیقی تجارتی موقع سمجھے۔ حنا آئرہ سوموار, اکتوبر 12, 2026 – 08: 00 Main image: نقطۂ نظر type: news related nodes: امریکہ کا چابہار بندرگاہ کے لیے انڈیا کو پابندیوں سے چھ ماہ کا استثنیٰ چابہار بندرگاہ: امریکی پابندیاں انڈیا کی وسطی ایشیا تک رسائی کتنی متاثر کریں گی؟ چابہار بندرگاہ ایران کو اقتصادی بحران سے نکال سکتی ہے؟ انڈیا کا چابہار بندرگاہ کے انتظام کے لیے ایران کے ساتھ 10 سالہ معاہدہ SEO Title: گوادر کی کامیابی چابہار کی ناکامی میں نہیں copyright: show related homepage: Hide from Homepage

Read full story on Independent Urdu

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments