ماہِ دسمبر 1968ء کے آخری دِنوں کی بات ہے۔ اِن دِنوں اسمبلی چیمبرز کے قریب ترین کی وسیع و عریض عمارت الفلاح بلڈنگ میں واقع الفلاح سینما پوری طرح شاد و آباد ہوا کرتا تھا۔ اس میں ایک روز کرنل فقیر سید وحید الدین کے حوالے سے ”روز گار فقیر“ کے نام سے حکیم الامت علامہ اقبالؒ کی زندگی اور شاعری پر مشتمل ایک دستاویزی فلم کی نمائش دیکھنے کا دعوت نامہ اخبار نویسوں کو موصول ہوا۔ اس میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ یہ فلم کرنل فقیر سید وحید الدین نے تیار کرائی ہے اور اس فلم کا تحریری خاکہ اور منظر نامہ ترقی پسند معروف شاعر فیض احمد فیض نے مرتب کیا ہے۔ فلم کی نمائش سے قبل پروڈیوسر سید وحید الدین کی طرف سے فلم سے متعلق جو ”چند ضروری باتیں“ ناظرین کے گوش گزار کی گئیں ان میں یہ بھی کہا گیا کہ فلم انسانی علم و فکر میں اضافہ کا ایک موثر ذریعہ ہے اور دنیا کے متعدد ممالک نے یہ ذریعہ اپنے قومی مشاہیر کی شخصیت کو اُجاگر کرنے میں استعمال کیا ہے، چنانچہ بھارت میں ٹیگور پر، جرمنی میں گوئٹے پر، سوویت یونین میں لینن اور گورکی پر اور ترکی میں کمال اتاترک پر دستاویزی فلمیں بنائی جا چکی ہیں،ضرورت تھی کہ پاکستان میں شاعر مشرق علامہ اقبالؒ کی حیات و افکار پر مبنی ایک نہایت ہی بلند معیار کی لاثانی دستاویزی فلم تیار کی جائے تاکہ دنیا ہمارے اِس ہیرو کی عظمت سے روشناس ہو چکے۔ بلاشبہ سید وحید الدین کی یہ ایک اچھی کوشش تھی لیکن جہاں تک اس بات کا تعلق تھا اور ہے اِس فلم سے مفکر ِ اسلام علامہ اقبالؒ کے حیات و افکار یا نظریات کی جھلک نمایاں ہوتی یا اِس دنیا کو اس مردِ قلندر کی عظمت سے روشناس کرانے میں مدد ملتی۔ محض سراب کے سوا کچھ نہیں تھا۔ اس دو ہزار آٹھ فٹ لمبی رنگین فلم پر یقینا لاکھوں روپے صرف کئے گئے مگر سچی بات تو یہ ہے کہ اس کی ترتیب و تدوین میں شاعر و مفکر ِ اسلام کے حقیقی نظریاتی پہلوؤں کو جگہ دی جاتی تو ملک میں ایک حقیقی ”ہیرو“ پر تیار ہونے والی یہ پہلی عظیم الشان دستاویزی فلم قابل صد تحسین قرار پاتی، لیکن اس معاملے میں ملک بھر میں راقم الحروف ہی نے ان دِنوں سب سے پہلے اِس کے بارے میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے لکھا تھا کہ اِس فلم میں یہ تاثر دینے کی پوری کوشش کی گئی ہے کہ علامہ اقبالؒ اشتراکیت کے مدح سرا تھے۔اس فلم میں علامہ اقبالؒ کی عہد جوانی کی ایک ایسی تصویر سب سے پہلے دکھائی گئی جسے پہچاننے میں بھی دیر لگتی ہے اسی کے مقابلے میں بعض اشتراکی رہنماؤں کی عین عہد ِ شباب کی تصاویر سے فلم کو مزین کیا گیا ہے۔”روزگار فقیر“ کا منظر نامہ اور تحریری خاکہ مرتب کرنے والے نے ”تاریخی ٹھوکر“ کھائی ہے۔ علامہ اقبالؒ کے جن اشعار کو بنیاد بنا کر چینی انقلاب کا ذکر کیا گیا ہے اور فلم میں اس کے مظاہرے اور مناظر دکھائے گئے اس کے علمبردار اور قائد ڈاکٹر ”سن بات سَن“ تھے مگر فلم میں اس موقعہ پر جو تصویر فلم میں آئی وہ ماؤزے تنگ کی تھی۔ایسے مناظر سے یہ بات مترشح کرنا مقصود لگتی ہے جیسا کہ اشتراکی نظام کی جیت اور سربلندی ہی اقبال کا مطمح نظر تھا پوری فلم میں علامہ اقبالؒ کے حقیقی جوہر تو ”فکری پہلو“ ہے جس نے قوم کی مردہ رگوں میں حیات نو کی توانائی رمق بخشی اور جس نے قوم کو عشق رسولؐ میں ڈوب کر کائنات پر حاوی ہونے کا راستہ سمجھایا تھا۔ فکر اقبال ہی نے برصغیر کے غلام پرستارانِ توحید کو ایک الگ آزاد وطن کی بشارت دی تھی۔ حضرت علامہ اقبالؒ کے حیات و افکار سے متعلق ایسے پہلو کیسے نظر انداز ہو سکتے ہیں، مگر روزگار فقیر میں انہیں نظر انداز کرنے کا گمانِ گزرتا ہے،جہاں تک فیض احمد فیض کے آفتاب علم و ادب اور اپنے مخصوص نظریات میں ایک یکتا مقام کے حامل مقام پر سرفراز ہونے کا تعلق ہے وہ اپنی جگہ ایک مسلمہ حقیقت ہے مگر جہاں تک علامہ اقبالؒ کے ان کے نظریات کا تعلق ہے بلاشبہ وہ ایک متوازی خطوط کی حیثیت رکھتے ہیں، تبھی تو جب یہ معلوم ہوا تھا کہ علامہ اقبالؒ کے فکری افکار و نشریحات سے عبارت دستاویزی فلم کی تدوین و ترتیب کا بیڑہ فیض احمد فیض اُٹھا چکے ہیں۔ علامہ اقبالؒ کے فکری افکار سے شناسائی رکھنے والوں کا یہ خدشہ غلط نہ تھا کہ…… ساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں، چنانچہ پھر فلم میں اس کی نشاندہی بھی ہوئی اور پھر اس حوالے سے میری تحریر طعن و تشنیع کا نشانہ بھی بنی، کیونکہ میری ”کج فہمی“ کو ایسے ”روشن دماغ“ کب برداشت کرتے جو مشرق کی سرخی زائل ہونے تک سرخ پرچم کی اڑانوں کے ترانے لگاتے رہے۔ راقم الحروف نے اس وقت بھی ببانگ ِ دہل لکھا کہ روزگار فقیر کو ”خاکہ نویس‘ کو کلام اقبال میں اپنے نظریات کے پرچار کے لئے اشتراکی ممالک کے انقلابات تو سمجھ میں آ گئے لیکن اقبال نے کرہئ ارض پر بکھرے ہوئے پرستانِ توحید کو ایک ہوئے اس طرح جو احساس دلایا تھا اسے سرے ہی سے نظر انداز کر دیا کہ نانا پاٹیکر نے انتقال سے چند گھنٹے قبل دوست کو کیا پیغام بھیجا؟ ڈاکٹر کا بڑا انکشاف بتانِ رنگ و بو کو توڑ کر ملت میں گم ہو جا نہ تو رانی رہے باقی نہ ایرانی نہ افغانی فلم کے تدوین کار نے علامہ اقبالؒ کو ایک محدود خطہ ئ زمین کا شاعر ظاہر کرنے کی کوشش کی، فلم میں علامہ اقبالؒ کے نظریہ عالم اسلام کے اتحاد، عشقِ سرورِ کائناتؐ سے سرشار ہونے کا اشارہ تک نہیں۔ اس سے متعلق کلام اقبال سے مطابقت رکھنے والے اشعار کے مطابق مناظر فلمائے جاتے تو یقینا اس دستاویزی فلم کے مقاصد بہت حد تک حاصل ہونے میں مدد ملتی خالصتاً اپنی وحدت المسلمین کی بنیادی سوچ و فکر و نظریات پر مبنی جذبات کے اظہار کے لئے والہانہ انداز میں پکارتے ہیں جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 13 اکتوبر کو طلب ”نگاہے یا رسول اللہ نگاہے“ خدا معلوم فلم کے خاکہ نگار کی علامہ کے اس افکار پر نگاہیں کیوں نہ ٹکیں اپنی اسی فکری بنیاد پر مفکر اسلام اللہ تعالیٰ سے دُعاگو ہوئے ہیں، جوانوں کو مری آہِ سحر دے پھر ان شاہین بچوں کو بال و پر دے خدایا آزو میری یہی ہے! مرا نورِ بصیرت عام کر دے ستم بالائے ستم یہ بات کہ روزگار فقیر1938ء تک ہے،حالانکہ علامہ اقبالؒ نے جس ملک کے حصول کی بشارت دی تھی، تصور پیش کیا تھا اس کی عملی تعبیر اور اس کے لئے صبر آزما جدوجہد کی جھلکیاں فلم کے لئے لازمی حصہ کی حیثیت ہونا چاہئے تھیں۔ علامہ اقبالؒ ہی کی زندگی میں حضرت قائداعظمؒ سے اسلامیانِ ہند کی قیادت سنبھالی تو علامہ اقبالؒ پکار اُٹھے تھے ع بھارت میں دو سروں والا نایاب سانپ برآمد، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زورِ بازو کا نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں اس دستاویزی فلم کو دیکھ کر یوں محسوس ہوا، کہ فلم کی ترتیب میں اس بات کا خاص خیال رکھا گیا کہ اس میں وہ پہلو نہ آنے پائیں جو اس ملک میں اقبال سے محبت و عقیدت کی اصل بنیاد ہیں۔ فلم میں 1940ء کی قراردادِ پاکستان سے لیکر قیام پاکستان تک کے مناظر شامل ہوتے کہ علامہ اقبالؒ کے تصورِ وطن کے حصول کی خاطر کتنی عظیم جان توڑ جدوجہد کی گئی تھی اگرچہ ”روزگار فقیر“ ایک اچھی کوشش تھی لیکن ترقی پسند ذہن کا شکار ہو گئی ایسا ذہن جس کے متعلق حکیم الامت ہی کا ارشادِ گرامی ہے: پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال سے اغوا بچہ نوشہرہ سے بازیاب، خاتون گرفتار بیاں میں نکتہ ئ توحید آ تو سکتا ہے! ترے دماغ میں بت خانہ ہو تو کیا کہئے ٭٭٭٭٭



