69.2 F
Pakistan
Wednesday, October 7, 2026
HomeBreaking Newsمشرق وسطیٰ کی جنگ انجام کیا ہوگا؟

مشرق وسطیٰ کی جنگ انجام کیا ہوگا؟

مشرق وسطیٰ کی کایا کلپ ہو رہی ہے۔ 1918 میں جنگ عظیم اول میں عثمانی اتحادی افواج کی شکست کے بعد عثمانی سلطنت کے ٹکڑے ہو گئے۔ برطانیہ اور فرانس نے ان پر قبضہ کر لیا اور مشرق وسطیٰ کو چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم کر کے اپنے حمایتیوں کو یہاں حکمران بنا دیا۔ عثمانی ریاست کو ٹکڑوں میں تقسیم کر کے جو حکمران بنائے گئے، وہ سارے مسلمان تھے۔ ان میں ایسے بھی تھے جنہوں نے عثمانیوں کے خلاف اقوام مغرب کی مدد کی۔ وہ بھی تھے جنہوں نے ففتھ کالمسٹوں کا کردار ادا کر کے عثمانیوں کے زیر انتظام علاقوں میں دشمنوں کو قدم جمانے کے مواقع دئیے۔ اس وقت مشرق وسطیٰ آگ وخون میں نہلایا جا رہا ہے۔ صہیونی ریاست کے حکمران گریٹر اسرائیل کے قیام کے لیے اس کے راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کو نیست و نابود کرتے چلے جا رہے ہیں۔ عظیم ریاست اسرائیل کے قیام کی ابتدا 1909 میں تل ابیب شہر بسانے سے ہوئی۔ یہ شہر عثمانی حکمرانوں کی اجازت سے بسایا گیا۔ ویسے ارض مقدس میں گریٹر اسرائیل کو قائم کرنے کی منظم کاوشوں کی ابتدا ورلڈ زائنسٹ آرگنائزیشن کے 1897 میں قیام کے ساتھ ہو گئی تھی۔ تھیوڈور ہرزل نے اس تنظیم کی بنیاد سوئزر لینڈ کے شہر باسل میں رکھی۔ تھیوڈور ہرزل کی کاوشوں کے نتیجے میں برطانوی وزیر خارجہ آرتھر بالفور نے برطانوی یہودی کمیونٹی لیڈر لارڈ روتھ چائلڈ کو ایک خط لکھا۔ جس میں برطانوی حکومت کی یہودی ریاست کے قیام کے لیے حمایت کا اعادہ کیا۔ یہی خط 1948 میں یہودی ریاست اسرائیل کے قیام کا باعث بنا۔ صہیونی اس سے پہلے 1909 میں ارض مقدس میں تل ابیب شہر قائم کر کے ریاست اسرائیل کی بنیادیں قائم کر چکے تھے۔ یورپی عیسائی قوتوں کا مل کر عثمانی ریاست کا خاتمہ، اس سے پہلے تل ابیب شہر کا قیام، ارض مقدس میں عظیم ریاست کے قیام کی طرف پیش قدمی تھا۔1933 میں جب ایڈولف ہٹلر نے یہودیوں کی نسل کشی شروع کی تو بہت سے یہودی ہجرت کر کے ارض مقدس کی طرف جانا شروع ہو گئے۔ تل ابیب میں آبادکاری کے باعث یہ شہر پھیلنا شروع ہوا حتیٰ کہ 1948 میں ریاست اسرائیل کے قیام کے اعلان کے ساتھ یہ شہر اس ریاست کا مرکز قرار پایا۔ 78 سال سے اس ریاست کا جغرافیہ پھیل رہا ہے، صہیونی ریاست اپنے راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کو ملیا میٹ کرتی چلی جا رہی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں کوئی ایسی عسکری و نظری قوت باقی نہیں رہ گئی جو گریٹر اسرائیل کے قیام کی راہ میں مزاحم ہو سکے۔ خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے ساتھ ہی جو سیاست یہاں شروع کی گئی تھی، جو مقاصد طے کیے گئے تھے، جو منصوبہ بندی کی گئی تھی اس کے حتمی نتائج ہمارے سامنے آنے کا وقت آن پہنچا ہے۔بیت المقدس صہیونی ریاست کا دارالحکومت بنایا جا چکا ہے۔ ہم مانیں یا نہ مانیں، گریٹر اسرائیل کی تکمیل کے انتظامات حتمی مراحل میں ہیں۔ فلسطینیوں کا آخری بازوئے شمشیر زن حماس مکمل بربادی کا شکار ہو چکا ہے۔ مصر، عراق، شام وغیرہم کو تباہ و برباد کرنے کے بعد ایران پر حتمی یلغار جاری ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ ایران پر حتمی بربادی طاری کر دی جائے گی۔ عرب و عجم کی چپقلش کو قائم رکھ کر اہل حرم کو کمزور کیا گیا۔ مصر، عراق اور شام میں بعثی حکمران مسلط کیے گئے جنہوں نے اخوان المسلمون کو کچلنے اور عرب قومیت کو فروغ دینے کی منظم کاوشیں کیں پھر انہی حکمرانوں کو یا تو منظر سے ہٹا دیا گیا یا انہیں اسرائیل کا باجگزار بنا دیا گیا۔ حافظ الاسد و بشار الاسد ہو یا صدام حسین، مصری انوار السادات سب نے کیا کیا۔ اپنے ہی ہم مذہبوں پر قیامت ڈھائی، پھر ان کا کیا بنا۔ مصر مشرق وسطیٰ کی بڑی عسکری قوت تھی، کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے تحت اسے اسرائیل کا ساتھی بنا دیا گیا۔ غزہ میں جس قدر ظلم اسرائیل کرتا ہے اسی قسم کا سلوک مصری حکومت فلسطینیوں کے ساتھ روا رکھتی ہے۔ شامی حکمران شامی عوام پر قہر ڈھاتے رہے ہیں۔ اب شام کہاں ہے، اسرائیلی فوج شام کے ان علاقوں پر قابض ہو رہی ہے جو گریٹر اسرائیل کا حصہ ہیں، عراق تقسیم ہو چکا ہے، ایرانی پراکسیز کا دھڑن تختہ کیا جا چکا ہے۔ ایران کی بربادی ہمارے سامنے ہے۔ حوثیوں کو سعودی عرب کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے، حوثی کہہ چکے ہیں کہ باب المندب سے اسرائیلی و امریکی ٹینکروں کو بحفاظت گزرنے دیا جائے گا۔ حرم شریف یعنی بیت المقدس ہماری دسترس سے نکل چکا ہے۔ اسرائیل شہرِ مقدس کو گریٹر اسرائیل کا دارالحکومت قرار دے چکا ہے۔ بہت سے ممالک نے اپنے اپنے سفارت خانے وہاں منتقل بھی کر دئیے ہیں۔ دشمن اب حرمین شریفین کو نشانے پر لے چکے ہیں۔ مدینہ پاور سٹیشن پر حوثی حملے نے نازک صورتحال کی نشاندہی کر دی ہے۔ مسجد الحرام میں کسی دہشت گرد یا خودکش بمبار کی خبریں بھی سننے میں آ رہی ہیں۔ گو سعودی حکمران اس بات کی تردید کر رہے ہیں لیکن ایک بات طے ہے کہ حرمین شریفین اب دشمنوں کے نشانے پر ہیں، حوثی سعودی شہروں خمیس مشیط پر میزائل داغ چکے ہیں۔ ہم تھوڑی دیر کے لیے مان لیتے ہیں کہ کوئی حوثی یا ایرانی گروپ حرمین شریفین پر حملہ آور نہیں ہو گا لیکن حالیہ ڈرون و میزائل جنگ جس طرح جاری ہے اس میں ممکن ہے کہ اسرائیل ہی ایسی ناپاک جسارت کر گزرے اور ہمیں بتایا جائے کہ یہ حوثیوں یا کسی ایرانی پراکسی کی کارکردگی ہے، تو ہم کیا کر لیں گے۔ ہم کثیر تعداد میں ہونے کے باوجود کچھ بھی کرنے کی صلاحیت سے عاری ہیں۔ سعودی عرب اپنی حفاظت کے لیے امریکہ پر تکیہ کیے ہوئے تھا، محمد بن سلمان نے امریکہ کو حوثیوں پر حملہ کرنے کا کہا لیکن امریکیوں نے انکار کر دیا۔ اب مکہ معاہدے کے تحت پاکستان و ترکی کچھ کریں گے۔ لگ رہا ہے کہ پاکستان کو اس جنگ میں ملوث کر دیا جائے گا۔ پاکستان پہلے ہی چومکھی لڑائی لڑ رہا ہے، افغانستان خیبر پختونخوا کے ذریعے ہم پر حملہ آور ہے بلوچستان میں بی ایل اے مصروف جنگ ہے، ہندوستان درپردہ تمام پراکسیز کو اسلحہ بھی دے رہا ہے اور روپیہ پیسہ بھی۔ انڈیا خود بھی ہم پر حملہ آور ہونے کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ پاکستان معاشی طور پر بھی مشکلات کا شکار ہے اگر مکہ معاہدے کے تحت پاکستان ایک اور جنگ میں ملوث ہو گیا تو معاملات مزید بگاڑ کا شکار ہو جائیں گے۔ مشرق وسطیٰ میں معاملات حتمی انجام کی طرف بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ یہ جو کچھ بھی ہو رہا ہے، یہ سب اسرائیل کو فائدہ دے رہا ہے۔ بڑھتی ہوئی جنگ پھیلتی ہوئی تباہی اسرائیل کے مفاد میں ہے۔

Read full story on Nai Baat

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments