69.2 F
Pakistan
Wednesday, October 7, 2026
HomeBreaking Newsزکوٰۃ، ٹیکس اور ریاست!

زکوٰۃ، ٹیکس اور ریاست!

انسان کی جبلّتوں کا ارتقا صفر ہے۔ اِس لیے لازم ٹھہرا کہ اِس کی حیوانی جبلّتوں کو لگام ڈالنے کے لیے جو نصاب مرتب ہو، وہ بھی ناقابلِ تغیر ہو۔ نوعِ انسانی کو اِسلام کی صورت میں ایک ایسا حتمی نصاب میسر آ چکا ہے جس کے بعد اس میں تغیر و تبدل کی کوشش کا نتیجہ ایک سفرِ معکوس ہوگا۔ اَمرِ الٰہی میں اپنا عقلی اور نفسی تصرف فسق کہلاتا ہے۔ کتابِ ہدایت کے ساتھ ساتھ کتاب لانے والے ہادیٔ برحق کے ساتھ تمسک، ہدایت کا ایک جزوِ لاینفک ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ انسانی ذہن میں پے پناہ صلاحیت ہے۔ انسان جس فکر پر قائم ہو جائے، اس کے لیے ہزار ہا دلیل تراش لینا اس کا دل پسند مشغلہ بن جاتا ہے۔ قرآن کریم میں جہاں نماز کی تاکید ہے، وہاں ساتھ ہی زکوٰۃ کی تاکید بھی کی گئی ہے۔ ماسوائے ان جگہوں کے، جہاں نماز کے تقاضوں کو فراموش کرنے کی وعید کی گئی ہے، ہر جگہ نماز اور زکوٰۃ کا تذکرہ ساتھ ساتھ ہے۔ کسی اُمّتی کے لیے روا نہیں کہ وہ اَمر الٰہی میں اپنی رائے دے، اس میں تصرف کرے۔ کتابِ ہدایت کی تشریح کما حقہ ہادیٔ برحقؐ فرما چکے ہیں، دین مکمل ہو گیا ہے۔ اس کے بعد صحابہ اکرام، اہلِ بیت ، تابعین، تبع تابعین اور پھر اُن کے شاگردانِ عظیم شارعِ اعظمؐ کے تتبع میں اس کی تفاسیر کرتے رہتے ہیں … یہ ایک مسلسل عمل ہے ، جو پہلی تصریحات سے متصادم نہیں ہوتا۔ اگر آج کسی کی تشریح پہلے سے کی گئی تشریح سے متضاد رخ پر ہے تو اسے یک قلم ردّ کر دیا جاتا ہے ، تا آن کہ دین کے بنیادی نصوص میں کوئی ترمیم نہ کر سکے۔ زکوٰۃکی بنیادی ہیئت کو سمجھنا ضروری ہے۔ گزشتہ چودہ سو برس سے فقہائے اسلام نے زکوٰۃکو صدقات CHARITY میں شامل کیا ہے۔ صدقات دو قسم کے ہوتے ہیں، صدقاتِ نافلہ اور صدقاتِ واجبہ۔ زکوٰۃ صدقہِ واجبہ میں۔ اس کے لیے نصاب مقرر ہے، طے شدہ ہے۔ یہ سال بھر کے ذخیرہ شدہ مال اور سامانِ تجارت پر ہوتی ہے۔ کسی کے پاس ساڑھے سات تولے سونا یا اس کے مساوی رقم سال بھر موجود رہے یا ساڑھے سات سو تولے سونا موجود ہو، اس کی شرح وہی رہتی ہے۔ اگر ملکیت میں فصل کی پیداوار ہے تو بارانی زمین کی پیداوار پر عشر بھی لاگو ہوگا، جو دس فیصد ہے، اور نہری زمین پر یہ بیس فیصد ہے … خواہ کسی کے پاس ایک ایکڑ زمین ہو یا ایک ہزار ایکڑ، یہ شرح بھی یہی رہتی ہے۔ صدقاتِ نافلہ غیر مسلم پر بھی خرچ ہو سکتے ہیں، زکوٰۃ صرف مسلمان کا حق ہے۔ بلاتخصیصِ ملک و ملت اس کا اصول یہی ہے۔ زکوٰۃ کے مصارف میں سرِ فہرست نادار اقربا ہیں ، پھر نادار اڑوس پڑوس … اس میں قربتِ مکانی اور قربتِ خونی کی ترتیب بھی اس قدر مؤثر انداز سے بیان ہوئی ہے کہ انسان اَز خود اسے تبدیل نہیں کر سکتا۔ یعنی سب سے پہلے نزدیک ترین رشتہ دار … اور پھر اس کے بعد دور کے قرابت دار … سگے بہن بھائی پہلے، پھر چجا زاد، تایا زاد اور پھر بعد میں میسر آنے والے اقربا … اسی طرح محلے داروں میں بھی سب سے پہلے اس ہمسائے کا حق ہے جس کے گھر کا دروازہ قریب ترین ہے۔ یہ حسنِ ترتیب اسلام کے اُس ازلی اصولِ تبلیغ اور ذمہ داری کی نشان دہی کرتی ہے کہ ’’تم میں سے ہر شخص راعی ہے ، اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا‘‘۔ یہ سوال نگہداشت اور نگہداری دونوں حوالوں سے ہے … تبلیغ اور تعلیم و ترتیب کے حوالے سے بھی ترتیب یہی ہے اور خدمت گزاری اور پرورش سے متعلق بھی یہی ترتیب واجب العمل ہے۔ اوّل خویش، بعد درویش! زکوٰۃ کے حوالے سے فقہا نے یہ بات بھی لکھی کہ زکوٰۃ کا مال کسی فرد کی مِلک میں دینا ضروری ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فقہائے اُمت کسی ادارے کو زکوٰۃ دینے کے قائل نہیں … اور یہی وجہ ہے، زکوٰۃ کے پیسوں سے مسجد اور مدرسے کی خدمت جائز نہیں۔ کجا یہ کہ حکومتی اداروں کو زکوٰۃ دی جائے۔ یہ زکوٰۃ کی بنیادی روح کے خلاف ہے۔ فرد کی فرد سے انسیت، نگہداشت اور خبر گیری کے ایک الوہی اور عالمگیر پیغام میں زکوٰۃ کو ایک بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ زکوٰۃ کا حکم دے کر گویا ہر مالدار کو پابند کر دیا گیا کہ وہ اپنے متعلقین کی معاشی کفالت کرے۔ اللہ کے اُس حکم کو جو نماز کے بعد اسلام کی ایک بنیادی نص کی حیثیت رکھتا ہے، اداروں اور حکومتوں کو اس کے ساتھ کھلواڑ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ جس طرح نماز حکومت کی تحویل میں نہیں دی گئی، زکوٰۃ پر بھی حکومتی اداروں کی اجارہ داری نہیں رکھی گئی۔ نماز اگر ایک دن میں پانچ فرض ہیں تو ہر جگہ یہ پانچ ہی رہیں گی، خواہ یورپ ہو، امریکہ ہو یا افریقہ … اس میں یہ ’’اجتہاد‘‘ نہیں کیا جا سکتا کہ آج کل مصروفیت کی وجہ سے صبح و شام کی نماز کافی ہے۔ روزے اگر ایک ماہ کے فرض ہیں تو گرم اور سرد ہر علاقے کے لیے وہ نظام الاوقات ہوں گے، گرمیوں میں روزے کا دورانیہ کم نہیں ہو سکتا اور سردیوں میں اسے بڑھایا نہیں جا سکتا۔ قرآن کریم میں اگر روزے میں عارضی استثنا حاصل ہے تو اب اس میں کوئی فقیہ ایک مزید استثنا فراہم نہیں کر سکتا، کہ طالبعلم امتحان کے دنوں میں روزے مؤخر کر لیں، ایسا کرنا قرآن میں تصرف ہو گا۔ تحریف کسی اور بلا کا نام نہیں ، اسے ہی تحریفِ دین کہتے ہیں۔اَب ذرا ٹیکس کی ہیئت ترکیبی بھی دیکھ لیں۔ اِس کی مثال ہم ایک محلے سے شروع کرتے ہیں۔ فرض کریں ہم اپنی گلی میں اینٹوں کی گزرگاہ بنوانا چاہتے ہیں تو ہم سب گلی میں رہنے والے آپس میں طے کر لیتے ہیں کہ اس کا خرچہ اتنا ہے اور ہر مکین اس میں اتنا حصہ ڈالے گا، چھوٹے مکان کے حصے میں کم ٹیکس آئے گا، اور بڑے مکان والوں کے حصے میں لامحالہ زیادہ آئے گا۔ اگر عام اینٹیں ہیں تو کم خرچہ ، اور کم ٹیکس … اور باہمی رضا مندی سے اگر ٹف ٹائل لگوانا چاہتے ہیں توہمیں محلہ کمیٹی کو زیادہ ٹیکس ادا کرنا پڑے گا۔ اسی نقشے کو شہر اور پھر ریاست پر محمول کر لیں۔ ریاست کی پارلیمنٹ یا شہر کی میونسپل کمیٹی کے ممبران باہمی بحث مباحثے سے ٹیکس کی سلیب طے کرتے ہیں۔ زکوٰۃ کی شرح اور سلیب لوگوں کی باہمی رضا مندی سے طے نہیں ہوتی، بلکہ یہ اللہ کا حکم ، اللہ کے رسولﷺ کی زبانی صراحت سے جس طرح بیان کر دیا گیا ہے، اسی طرح تاقیامت عمل میں لایا جائے گا۔ ہم اپنی سڑکیں ، ہسپتال اور دیگر ادارے بنانے کے لیے زکوٰۃ پر شب خون کیوں مارتے ہیں؟ کیا غیر مسلم ممالک اپنے ہاں فلاحی کاموں کے لیے زکوٰۃ کے محتاج ہوتے ہیں؟ زکوٰۃ اللہ کا حق ہے۔ اللہ کو ماننے والے غربا و مساکین کا حق ہے۔ گلی محلے اور ریاستیں چلانے کے لیے فنڈز خود جنریٹ کریں۔ اہلِ ثروت کے نادار اَقربا کا حق، جو اللہ نے مقرر کر رکھا، اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کریں۔زکوٰۃ اور حکومتی ٹیکس کو یوں گڈمڈ کرنے کا یہ فلسفہ کل کلاں نماز پر بھی یوں لاگو کیا جا سکتا ہے، کہ اُس دَور میں تمام ریاستی فیصلے مسجدِ نبویؐ کے صحن میں ہوتے تھے اور جو لوگ نماز پڑھنے کے لیے آتے تھے، وہ اس اجلاس میں شامل ہوتے تھے، اس لیے آج جو لوگ پارلیمنٹ یا میونسپل کمیٹی کے اجلاسوں میں شریک ہوتے ہیں، اُن کی طرف سے گویا نماز اَدا ہو گئی۔اِدارہ جاتی اجارہ داری کے حامی بڑی ڈھٹائی سے رمضان کے مہینے میں اپنے ٹی وی چینلز کے لیے بھی زکوٰۃ طلب کرتے نظر آتے ہیں۔ اُن کے نفس نے اُن کے لیے یہ سہولت فراہم کر دی، کہ ہم اپنے چینل کے ذریعے ’’کیونکہ چنانچہ‘‘ تبلیغ دین کا کام کر رہے ہیں، اس لیے ’’چنانچہ کیونکہ‘‘ ہمارے چینل کو بھی زکوٰۃ دی جا سکتی ہے۔ نعوذُ بااللہ من ذالک۔ستاون اِسلامی ممالک میں سے آج تک کسی ایک ملک نے ٹیکس کو زکوٰۃ کا متبادل قرار دینے کی سہولت کا فایدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کی، لیکن ہمارے ہاں یہ سہولت کاری بڑی فراوانی سے فراہم کی جا رہی ہے۔ اقبالؒ نے اگرچہ کشمیر کے بارے میں کہا تھا، لیکن اِن کے ہاتھوں کشمیر کی طرح دین بھی لہولہان ہے۔ شعر میں ایک معمولی تصرف کے ساتھ کہا جا سکتا ہے: ’’دِینِ‘‘ فروختند ، چہ اَرزاں فروختند

Read full story on Nai Baat

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments