نئی عالمی تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ بچوں اور نوجوانوں کا حد سے زیادہ ڈیجیٹل میڈیا استعمال صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کو مکمل طور پر موبائل، سوشل میڈیا یا دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے دور رکھنا عملی طور پر مشکل ہے، اس لیے توجہ اس بات پر دینی چاہیے کہ وہ ٹیکنالوجی کو زیادہ صحت مند انداز میں کیسے استعمال کریں۔ طبی جریدے دی لانسیٹ میں شائع ہونے والی تحقیق میں دنیا بھر میں بچوں اور ڈیجیٹل میڈیا سے متعلق 121 مطالعات کا تجزیہ کیا گیا۔ تحقیق کے مطابق نوجوانوں میں ڈپریشن کے تقریباً 20 فیصد واقعات اور موٹاپے کے 15 فیصد کیسز کا تعلق ضرورت سے زیادہ اسکرین ٹائم سے پایا گیا۔ تاہم محققین نے واضح کیا کہ ان مطالعات میں سے بہت سے بچوں کی جانب سے خود بتائے گئے اسکرین ٹائم پر مبنی تھے، اس لیے یہ حتمی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ ڈیجیٹل میڈیا ہی ان صحت کے مسائل کی براہ راست وجہ ہے۔ تحقیق کی مرکزی مصنفہ لوئس ہولی کے مطابق بچوں کے ڈیجیٹل میڈیا استعمال کا معاملہ اب صرف والدین کی ذمہ داری نہیں رہا بلکہ اسے صحتِ عامہ کے مسئلے کے طور پر بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومتوں اور صحت کے اداروں کو بھی بچوں کے ڈیجیٹل ماحول کو محفوظ بنانے کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔ ماہرین کے مطابق ہر بچے پر ڈیجیٹل میڈیا کے اثرات یکساں نہیں ہوتے۔ وہ بچے جو پہلے ہی ذہنی صحت کے مسائل کا سامنا کر رہے ہوں، جنہیں حقیقی زندگی میں سماجی یا خاندانی مدد کم حاصل ہو یا جن میں ڈیجیٹل میڈیا کو سمجھ کر استعمال کرنے کی صلاحیت کم ہو، ان کے متاثر ہونے کا امکان زیادہ ہو سکتا ہے۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ نوجوانوں میں ڈیجیٹل میڈیا کے استعمال سے پیدا ہونے والے منفی صحت کے اثرات، اس کے مثبت اثرات کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق ڈیجیٹل دنیا مکمل طور پر نقصان دہ نہیں۔ مناسب طریقے سے استعمال کیا جائے تو یہ بچوں کو اپنی شناخت سمجھنے، نئی معلومات حاصل کرنے، تفریح، دوسروں سے رابطہ قائم کرنے اور خود مختاری کا احساس پیدا کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ کلینیکل سائیکالوجسٹ ڈاکٹر نکول اموئیال پینسک کہتی ہیں کہ والدین کو بچوں کو صرف یہ بتانے کے بجائے کہ موبائل یا سوشل میڈیا برا ہے، انہیں یہ سمجھانا چاہیے کہ نوجوانی میں ان کا دماغ تیزی سے نشوونما پا رہا ہوتا ہے۔ ان کے مطابق نوجوانوں کا دماغ اس عمر میں انتہائی لچکدار ہوتا ہے۔ جن چیزوں پر بچے بار بار توجہ دیتے اور عمل کرتے ہیں، دماغ ان کے لیے راستے مضبوط کرتا جاتا ہے، جبکہ جن عادات کو کم کیا جائے وہ وقت کے ساتھ کمزور پڑ سکتی ہیں۔ پینسک اس تحقیق کا حصہ نہیں تھیں، وہ اس عمل کو سڑک کی مثالوں سے سمجھاتی ہیں۔ ان کے مطابق والدین کا مقصد بچوں کو صرف ڈیوائس سے دور رکھنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ انہیں یہ سکھانا چاہیے کہ وہ اپنے لیے بہتر ذہنی اور جذباتی راستے کیسے منتخب کریں۔ وہ بچوں کو ایک دلچسپ مثال کے ذریعے یہ تصور سمجھاتی ہیں۔ ان کے کلینک میں بچوں کو کبھی کبھار آلو بخارے یا پرونز چکھائے جاتے ہیں۔ چونکہ بہت سے بچوں کو ان کا ذائقہ پسند نہیں آتا، وہ آئندہ انہیں کھانے سے گریز کرتے ہیں۔ پینسک کے مطابق دماغ میں بھی کچھ عادات کو اسی طرح کم کیا جا سکتا ہے۔ اگر کوئی ڈیجیٹل سرگرمی بچے کو مسلسل بے چینی، اداسی یا خود سے عدم اطمینان کا احساس دلاتی ہے تو اسے پہچان کر اس سرگرمی کو کم کرنا یا چھوڑنا سیکھنا چاہیے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی بچی سوشل میڈیا پر دوسروں کے جسم یا ظاہری شکل و صورت سے اپنا موازنہ کرنے لگے اور اس کے نتیجے میں وہ اپنے بارے میں منفی سوچنے لگے تو والدین کو صرف فون چھیننے کے بجائے اس سے بات کرنی چاہیے اور اسے ایسے مواد سے دور ہونے میں مدد دینی چاہیے۔ ماہرین، والدین کو یہ بھی مشورہ دیتے ہیں کہ وہ بچوں کے ڈیجیٹل استعمال پر صرف پابندی لگانے والے کردار کے بجائے رہنمائی کرنے والے کا کردار ادا کریں۔ والدین بچوں سے پوچھ سکتے ہیں کہ وہ سوشل میڈیا پر کیا دیکھتے ہیں، اس سے انہیں کیسا محسوس ہوتا ہے اور وہ کون سا مواد پسند کرتے ہیں۔ بعض اوقات بچوں کے ساتھ مل کر ڈیجیٹل مواد دیکھنا بھی انہیں بہتر انتخاب کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ڈیجیٹل میڈیا کو حقیقی زندگی کے میل جول کا متبادل نہیں بننا چاہیے، تاہم یہ بچوں کو سماجی سرگرمیوں میں مدد دے سکتا ہے۔ مثال کے طور پر بچے آن لائن رابطے کے ذریعے دوستوں کے ساتھ ملاقات کا منصوبہ بنا سکتے ہیں یا محفوظ انداز میں ایسے لوگوں سے رابطہ کر سکتے ہیں جن کی دلچسپیاں ان سے ملتی ہوں۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارم بچوں کو نئی مہارتیں سیکھنے کا موقع بھی دے سکتے ہیں۔ سلائی، کروشیا، موسیقی، رقص یا ہاتھ سے کیے جانے والے دیگر کاموں کی تربیتی ویڈیوز بچوں کو تخلیقی سرگرمیوں کی طرف متوجہ کر سکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایسی سرگرمیاں بچوں کی توجہ منفی خیالات سے ہٹا سکتی ہیں اور انہیں کچھ نیا کرنے کا اعتماد دے سکتی ہیں۔ ویڈیو گیمز بھی مکمل طور پر منفی نہیں سمجھے جا سکتے، خاص طور پر جب انہیں اعتدال میں استعمال کیا جائے۔ کسی مشکل مرحلے کو مکمل کرنا یا کسی چیلنج کو حل کرنا بچے میں کامیابی، خود اعتمادی اور مشکل کاموں سے نمٹنے کی صلاحیت پیدا کر سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل مقصد بچوں کو ڈیجیٹل دنیا سے مکمل طور پر نکالنا نہیں بلکہ انہیں یہ سکھانا ہے کہ وہ اس دنیا میں اپنے لیے نقصان دہ اور فائدہ مند راستوں میں فرق کیسے کریں۔ والدین کی نگرانی، کھلی گفتگو اور متوازن استعمال کے ذریعے ڈیجیٹل میڈیا کے خطرات کو کم کیا جا سکتا ہے اور اس کے مثبت پہلوؤں سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔
نقصان دہ ہونے کے باوجود بچوں میں ڈیجیٹل میڈیا کا استعمال: والدین حفاظت کیسے کریں؟
RELATED ARTICLES



