وہ دسمبر کی ایک ٹھٹھرتی اور برفیلی رات تھی ۔ میرے لڑکپن کی کربناک رات ، جب کولتار کی سڑک نے بھی تہہ در تہہ برف کی چادر اوڑھ رکھی تھی ۔ آسمان سے روئی کے گالوں کی طرح گرتی برف ، قیامت کی نشانیوں میں سے ایک کی نشاندہی کر رہی تھی ۔ سڑک کنارے کے درختوں کا تمام رنگ روپ بھی برف رنگ ہو چکا تھا ۔ تاحد نگاہ برف ہی برف دکھائی دے رہی تھی ۔ میری ٹانگیں گھٹنے گھٹنے برف میں دھنس چکی تھیں ۔ قدم اٹھانا بھی محال تھا ۔ ایک قدم اٹھانے کیلئے پاوں اٹھاتا تھا تو منوں بھاری لگتا تھا ۔ دو ہاتھ آگے دکھائی دینے والی سڑک بھی برف کی دبیز چادر میں لپٹ کر نظروں سے اوجھل ہو جاتی تھی ۔۔۔۔۔میں نے بڑی عجیب نظروں سے اس کی طرف دیکھا ، میری آنکھیں جیسے پوچھ رہی ہوں ، ایسا کیوں بھلا ؟ وہ اک لحظہ کیلئے رکا اور پھر دور خلاوں میں گھورنے لگا ۔ اب کے بولا تو اس کی آواز بہت دھیمی تھی ۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے خود کلامی کر رہا ہو ۔ کہنے لگا وطن سے کوسوں دور ، سات سمندر پار رہتے ابھی تین ماہ ہی گزرے تھے کہ ایک فقرے نے میرے پیروں کے نیچے سے زمین سرکا دی تھی ،، فقرہ تھا سوری بیٹا! ہم لوگ کرسمس کی چھٹیاں گزارنے کیلئے جا رہے ہیں ، آپ کل سے اپنا بندوبست کر لیجئے ۔۔۔۔۔دیارغیر میں یہ فقرہ کسی اجنبی کا نہیں تھا ؟ میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو سامنے کھڑے میرے سسر صاحب مجھ سے مخاطب تھے ۔ یہ لوگ مجھے کوئی لالچ دے کر یا بھگا کر نہیں لائے تھے ، اپنی بیٹی کے ساتھ باقاعدہ نکاح کر کے اس دور دیس میں لائے تھے ۔ سینکڑوں مہمانوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول ہوا تھا ۔ میری شادی شہر کی بڑی تقریبات میں سے ایک شمار کی جاتی تھی ۔ خوشبودار پھولوں بھرے باغ کے عین وسط میں چاندی کا اسٹیج سجایا گیا تھا جو امنگوں بھری رات میں برقی قمقموں سے نکلنے والی جگمگ جگمگ کرتی ست رنگی روشنیوں سے منور اپنی چھب دکھاتا رہا تھا ۔ معطر باغ کے طول و عرض میں میز کرسیاں بچھی تھیں ۔ مہمانوں کی آو بھگت اور خاطر تواضح میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تھی ۔ کھانے کی گول میزوں پر قسم قسم کے ذائقہ دار پکوان چنے گئے تھے ۔ تین رنگ کے میٹھے کا اہتمام الگ سے تھا ۔ ہر آنے والے مہمان کے قدموں میں مخملیں قالین بچھے تھے اور سروں پر گلاب کی پتیوں کی خوش رنگ چادر تنی ہوئی تھی ۔ سبھی خوش تھے ، اماں ، ابا سجدہ شکر بجا لا رہے تھے جنہوں نے مجھے عزیز از جان بیٹی کی طرح وداع کیا تھا ۔۔۔۔وہ اپنی سانس بحال کرنے کیلئے کچھ دیرکو رکا تو میں نے دیکھا اس کے چہرے پر گہرے کرب کے آثار نمایاں تھے ۔ وہ کہہ رہا تھاقیامت یہ کہ وہ دسمبر کی برفیلی ٹھٹھرتی رات تھی اور میں اکیلا نہیں تھا ۔ میرے پاس ایک جہازی سائز اٹیچی کیس تھا اور دوسرا کچھ مناسب سائز کا تھا ۔ ایک بڑا شولڈر بیگ بھی تھا ، جسے میں نے کاندھوں پر لٹکا رکھا تھا ۔ عام حالات میں دونوں بیگز بآسانی کھینچے جا سکتے تھے ، پہیوں والے جو تھے مگر ایسی حالت میں کہ برف میں دھنسا ایک جیتا جاگتا انسان اپنے قدموں نہیں چل سکتا تھا وہاں سٹیل کے گول پہئیے کیسے گھوم سکتے تھے ؟ سو نہیں گھومے ۔ میں زور لگاتا رہ گیا ، وہ ٹس سے مس نہ ہوئے ۔ برفباری مسلسل جاری تھی ۔ میں اگرچہ سر سے پاوں تک موٹے گرم کپڑوں ، بطخ اور ہنس کے نرم پروں سے بنی جیکٹ اور کن ٹوپ پہنے ہوئے تھا لیکن تیز یخ بستہ ہوائیں میری ہڈیوں تک سرایت کر رہی تھیں ۔۔۔۔۔ میں اماں ابا کی قدم بوسی کیلئے آیا تھا ۔ قبروں پر جھاڑو لگایا ، گھاس پھوس اور کانٹے دار بوٹیاں صاف کیں ، پانی کا چھڑکاو کیا ، نہایت ادب سے گلاب کی پتیاں پھیلائیں ، اگر بتی جلانے کی غرض سے جیب سے ماچس نکالنے کیلئے اوپر اٹھا تو نگاہ خود بخود ساتھ والی قبر کی پائنتی کھڑے ایک نوجوان پر جا ٹھہری ۔ نوجوان ننگے پاوں کھڑا ، ہاتھ پھیلائے دعا مانگ رہا تھا ۔ مجھے اس نوجوان اور خود میں ایک مماثلت دکھی ۔ ہم دونوں ننگے پاوں تھے ۔ میری شروع سے ہی عادت رہی کہ جب کبھی قبرستان گیا ، ننگے پاوں ہی گیا ۔ کسی آستانے پر جوتوں سمیت جانا بے ادبی خیال کرتا ہوں ۔ ماں باپ بھی پیر فقیر ہوتے ہیں ۔ اسی لئے ان کی توقیر لازم ہے ۔ برسوں سے یہی عادت ہے کہ فاتحہ درود کے بعد قبرستان کے بوڑھے برگد کے نیچے بنے چھوٹے سے چبوترے پر ضرور بیٹھتا ہوں ۔ کچھ دیر خود سے خود کی باتیں کرتا رہتا ہوں ۔ میں آنکھیں موندھے چبوترے پر بیٹھا تھا کہ آہٹ محسوس ہوئی ۔ ادھ کھلی آنکھوں سے دیکھا تو وہ جوان رعنا ، سرخ و سفید رنگت ، اونچا لمبا ، چوڑی کلائی ، مضبوط کاٹھی والا خوبرو نوجوان مجھ سے چبوترے پر بیٹھنے کی اجازت مانگ رہا تھا ۔ برا نہ منائیں تو میں بھی یہاں بیٹھ سکتا ہوں ؟ جی ، جی بیٹھئے ، ضرور بیٹھئے ، بیٹا ۔ میں نے نیم وا آنکھوں سے نوجوان کو دیکھا اور کچھ سمٹ کر بیٹھ گیا ۔ آنکھیں دوبارہ موند لیں اور پھر سے اپنی دنیا میں گم ہو گیا ۔ کچھ ہی دیر گزری ہو گی کہ دبی دبی سسکیوں نے میری توجہ ایک بار پھر اس نوجوان کی طرف کھینچ لی ۔ میں نے نوجوان کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور تشفی دیتے ہوئے کہا ، اللہ کی مرضی کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ہی پڑتا ہے بیٹا ۔ جانے والے اپنی ذمہ داریاں پوری کر گئے ، اب ہمیں قسمت کا لکھا پورا کرنا ہے ۔ نوجوان نے سراٹھایا ، بڑی گہری نظروں سے مجھے دیکھا اور کہنے لگا ۔ اللہ کا لکھا قبول ہو جاتا ہے لیکن جن دکھوں کا انتخاب خود سے کیا ہو ، وہ زندگی بھر کیلئے سوہان روح بن جاتے ہیں ۔ ان کی اندوہناکی قبر تک ساتھ جاتی ہے ۔ کتنا بھی چارہ کر لیا جائے کوئی مرہم مداوا نہیں بنتی ۔ میرے دکھ ، میرے خود کے منتخب کئے ہوئے ہیں ۔ میرے سسرال نے مجھے بیچ منجھدار چھوڑ دیا تھا ۔ میرے ماتھے پر لکھی ٹھکرائے جانے کی تحریر ، میرے لئے اذیت بن چکی تھی ۔ غیر ملک ، انجان لوگ ، رہنے کا کچھ ٹھکانہ نہیں تھا ، واپس جانے کا یارا نہیں تھا ۔ واپس اپنے ملک ، اپنے شہر ، اپنے گھر جا کر کیا کہتا ؟ ٹھکرا دیا گیا ہوں ؟ بھرے بازار رسوا کر دیا گیا ہوں ؟ نیک نام خاندان کا چشم چراغ ، بے نام و نشاں ہو چکا تھا ۔ نوجوان بولتا چلا جا رہا تھا اور میں اک ٹک اسے دیکھتا جا رہا تھا ۔ لیکن ۔۔۔۔۔۔ سوری بیٹا! ہم لوگ کرسمس کی چھٹیاں گزارنے کیلئے جا رہے ہیں ، آپ کل سے اپنا بندوبست کر لیجئے ۔۔۔۔ میرے سسر صاحب کا یہ وہ فقرہ تھا جسے سن کر مجھے محسوس ہوا ، جیسے آسمان کی بلندیوں سے دھڑام کر کے زمین کی پستیوں میں آن گرا ہوں ۔ کاٹو تو لہو نہیں ۔ دیکھتے ہی دیکھتے ، یہ کیا ہو گیا تھا ؟ ایسا کچھ تو میرے گمان میں بھی نہ تھا ۔ یہ تین ماہ کا عرصہ بظاہر بہ رضا و رغبت گزرا تھا ۔ ہم نوبیاہتا تھے ، دونوں کئی بار اکٹھے گھومنے بھی گئے ، سنیما اور تھیٹر ڈرامہ بھی دیکھا ، دو ایک بار کیفے بھی گئے ، سڑک ، سڑک مٹر گشت بھی کی تھی ۔ پھر یکدم یہ نا آشنائی کہاں سے آ گئی ؟ جنہوں نے اپنا بنایا تھا ، وہ دم بھر میں انجان کیسے ہو گئے ؟ گتھی سلجھائے نہیں سلجھتی تھی ؟ دیر بعد ، بہت دیر بعد ، جب نکاح نامے کی روشنائی بھی ماند پڑ گئی توعقدہ کھلا ۔ میرے سسر صاحب اور ساس صاحبہ نے اماں ابا کو بتایا کہ دونوں بچوں کے ذہن نہیں ملے ، ذہنی ہم آہنگی نہیں پائی گئی ۔ میں نے اپنے وطن ، اپنے معاشرے ، اپنے گھروں میں تو ایسا ہر گز نہیں دیکھا تھا کہ نکاح مسنون کے بعد ذہنی ہم آہنگی کی جانچ پڑتال کی جائے ۔ یہ تھرمامیٹر تو اسی انجانے دیس پہنچ کر ہی دیکھا ۔ غیر ملک کی تہذیب ، تمدن ، کلچر جدا سہی لیکن اخلاقی اقدار بھی کسی چڑیا کا نام ہے ؟ میرے سسرال والوں نے اماں ابا کو بتایا کہ دونوں بچوں کو باہم گھلنے ملنے ، گھومنے پھرنے کے کئی مواقع دیئے گئے لیکن میں اپنی ہی بیوی کے دل میں جگہ نہ بنا سکا ۔ اف میرے خدا! وہ دسمبر کی ٹھٹھرتی رات بھلائے نہیں بھولتی ۔ وہ برفانی رات سرطان کی طرح میری نس نس میں سرایت کر چکی ہے ۔ وطن واپسی میرے اختیار میں تھی کیونکہ میرا کوئی قصور تھوڑی تھا ؟ میں نے رشتہ ختم کیا تھا کیا ؟ بآسانی گھر واپس جاتا اور چین کی زندگی بسر کرتا ؟ لیکن نہیں ، مجھے خود پر ناکام و نامراد کا ٹھپہ لگوا کو واپس نہیں لوٹنا تھا ۔ مجھے عمر بھر کی شرمندگی سے بچنا تھا ، کچھ کر دکھانا تھا ، مجھے باورکروانا تھا کہ میں بھی جذبات کی نرگسیت اور احساسات کی نرمی کو جاننے والا ایک جیتا جاگتا انسان تھا ، گھر کے سٹور روم میں پڑا ٹوٹا پھوٹا فرنیچر نہیں تھا لیکن افسوس! آفاقی رشتوں کی آخری قدم بوسی نہ کر سکا اور اپنے ہاتھوں سب کچھ گنوا دیا ۔ کیا ہی اچھا ہوتا میں کچھ کر دکھانے کی فکر نہ کرتا ؟ افسوس! میں نے کچھ کر دکھانے کی سعی لاحاصل میں اپنا پچھلا تمام سفرکھوٹا کر دیا ۔ اماں ابا دنیا چھوڑ گئے اور میں ان کا چہرہ دیکھنے سے بھی محروم رہا ۔ ہائے زندگی! میں نے تجھے کتنا بدنصیب پایا ۔۔۔۔۔ نوجوان سر پیٹتا ، دہاڑیں مارتا بولتا چلا گیا اور میں سنتا چلا گیا ۔ نوجوان زمانہ موجود کی فکر سے بے پرواہ ہو کر بول رہا تھا ۔ کہنے لگا ، بدیسی کلچر اور تہذیب کا خاصہ یہ ہے کہ عہد و پیمان کی کوئی قدر و منزلت نہیں رہتی بلکہ رشتے ناطوں کو ماپنے کے پیمانے بھی احساس و جذبات سے عاری ہوتے ہیں ۔ ترازو میں تولے جانے والے تعلقات کبھی دیر پا ثابت نہیں ہوتے ۔ ذرا سا مزاج بدلنے پر تعلقات میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے ۔ ایشیائی ماں باپ اپنے بچوں کا گھر بار مشرقی رکھنے کے چکر میں شاید قدرت کا آفاقی قانون بھول جاتے ہیں کہ پرورش اور بودوباش رشتوں میں استقامت کی اولین شرط ہے ۔ غیر ممالک میں پرورش پانے والے بچوں کا لباس ، زبان ، لہجہ ، عادات و اطوار اپنے ماں باپ کی نسبت بہت حد تک بدل جاتے ہیں ۔ وہ کسی بھی طور مشرقی روایات اور زندگی گزارنے کا اپنا خاندانی اسلوب نہیں اپنا سکتے ۔ اس نے ایک سرد آہ بھری اور کچھ توقف کے بعد بولا ، قیامت سی قیامت یہ تھی کہ یہی ظلم میرے ساتھ بھی ہوا ۔ میرے سسر صاحب اور ساس صاحبہ نے اپنی بدیسی بیٹی کو دیسی لباس تو پہنا دیا لیکن اس کے ذہن پر نقش بچپن سے جوانی تک کی پرورش کے اثرات نہ مٹا سکے ۔ ہائے افسوس! روشن ماتھے کا ٹیکا اور جھومر ، کانوں کے جھمکے ، ستواں ناک کی نتھنی ، گلے کا رانی ہار اور موتیوں کی مالا ، نرم و نازک گوری کلائی کے کنگن اور کھنکتی چوڑیاں ، رنگ برنگے نگینوں جڑی انگوٹھیاں ، ہاتھ پھول ، شاہی بازو بند ، چاندی کی پازیب سب کچھ مغربی فیشن کے نت نئے رجحانات کے آگے بے وقعت ہو گیا تھا ۔ ایشیائی ماں باپ اپنی مرضی تھوپنے سے پہلے اپنے بچوں کی ذہنی پرواخت اور ان کی پسند نا پسند کا خیال رکھ لیں تو بہت سی معاشرتی برائیوں سے بچا جا سکتا ہے ۔ وہ بولتا چلا گیا اور میں سنتا ۔ کہنے لگا میرے ساتھ جو زیادتی ہوئی سو ہوئی ، خدا لگتی کہوں تو بدیس میں پلے بڑھے نوجوانوں کا معاشرتی بگاڑ میں کوئی زیادہ قصور نہیں ، اس کے اصل ذمہ دار وہ دیسی والدین ہیں جو خود تو بہتر معاش کے سلسلے میں پوری زندگی اپنے ملک ، اپنی تہذیب اور اپنی معاشرت سے دور رہتے ہیں لیکن جب بیٹے یا بیٹی کی شادی کا مسئلہ ہوتا ہے تو انہیں اپنا ملک ،اپنا خاندان اور اپنی برادری یاد آ جاتی ہے ۔ اپنی اس جھوٹی انا کی تسکین کیلئے والدین اپنے بچوں کی زندگیاں ایک ایسی آگ میں جھونک دیتے ہیں جو پورے خاندانی نظام کو لے ڈوبتی ہے ۔ بدیسی بچوں کی زندگی آدھا تیتر آدھا بٹیر بن کر رہ جاتی ہے ۔ تم کیا فلسفی ہو ؟ میں نے اس کے الفاظ کی نشست و برخاست دیکھ کر پوچھا ۔جگ بیتی نہیں آپ بیتی ہے میری ، سر ، اس میں فلسفہ یا تاریخ کا کیا لینا دینا ؟ اس نے میری طرف دیکھے بغیر کہا اور اپنی بات جاری رکھی ۔۔۔۔۔۔میرے خود کے معاملے میں بھی یہی ہوا تھا شاید ۔ میں نے شادی کی ضد تھوڑی کی تھی ؟ رشتے کی بات چلی تو دونوں خاندانوں کے درمیان تعلقات باپ دادا کی شناسائی تک جا پہنچی ۔ اماں نے تو لڑکی کی تصویر تک دیکھنے سے انکار کر دیا تھا ، کہنے لگیں ، بیٹیوں کو شو کیس میں نہیں سجایا کرتے انہیں تو شرم و حیا کے سات پردوں میں چھپا کر رکھتے ہیں ۔ بولیں ، پہلے آپ لوگ گھر تشریف لائیے ، گھر بار دیکھئے ، بیٹا ، دیکھئے اور گھر والے دیکھئے ، کچھ سمجھ میں آئے تو ہمیں بتائیے گا ، ہم بیٹی کیلئے شگن لے کر حاضر ہو جائیں گے ۔ ایسے میں من و تو کا کوئی فاصلہ رہ جاتا ہے بھلا ؟ یہ سب سن کر میں نے بھی چوں تک نہ کی تھی ۔ اماں کے آگے بولنے کی ویسے بھی ہمت کہاں تھی ، سو اقرار کرنے میں ہی سکھ جانا لیکن مجھے کیا معلوم تھا کہ مشرقی روایات کی پابندی میرے گلے پڑ جائے گی ، اپنا وطن چھوڑ کر مجھ پر مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹ جائیں گے اور مجھے یوں دربدر ہونا پڑے گا ۔ وہ بنا رکے بولتا چلا گیا ۔ اپنی نئی نویلی بیوی کے ہاتھوں گہری چوٹ کھانے کے بعد میری دنیا اندھیر ہو گئی تھی لیکن دل نے ٹھان لیا کہ بے نام و بے مراد واپس لوٹنے کی شرمندگی اٹھانے کے بجائے مجھے وہیں رہ کر حالات کا مقابلہ کرنا تھا ۔ گھر واپسی اسی وقت ہو گی جب میں خود کو منوا لوں گا ۔ میں نے سچی لگن ، انتھک محنت اور جہد مسلسل سے زندگی کے اس پرآشوب دور کا سامنا کیا اور بفضل خدا سرخرو ٹھہرا ۔ شومئی قسمت ، اس جنگ نے مجھے اماں ابا کے آخری دیدار سے محروم کر دیا اور آج میں اپنی کامیابی کا جشن منانے کے بجائے یہاں قبرستان میں بیٹھا آنسو بہا رہا ہوں ۔ میرے آنسو پونچھنے والا بھی کوئی نہیں رہا ۔ ہائے ری قسمت! میں ابا کے کندھے پر سر رکھ کر رو سکا نہ اماں کی گود میں سر رکھ کر سو سکا ۔ نوجوان سر نیہوڑائے کچھ دیر ساکت بیٹھا رہا ۔ یوں لگ رہا تھا جیسے اپنی یادوں کی کڑیاں ملا رہا ہو ۔ میں بھی چپکا بیٹھا رہا ۔ میں اس کے ماضی میں دخل اندازی نہیں کرنا چاہتا تھا ۔ اب کے وہ بولا تو اس کی آواز میں گھمبیرتا تھی ۔ کہنے لگا میں نے آسمان سے فرشتے اترتے دیکھے ہیں ۔ خدائے لم یزل ، وہ خدا جو ہمیشہ رہنے والا ہے ، جو کبھی فنا نہیں ہوتا ، اس کی قسم کہ میں نے فرشتوں کو زمین پر اترتے دیکھا ہے ۔ دسمبر کی اس ٹھنڈی ، ٹھٹھرتی ، برفیلی رات میں کائنات کے رب کی طرف سے اگر فرشتے زمین پر نہ اترتے تو میں آسمان سے بے تحاشا برسنے والی برف میں دب کر برف ہو چکا ہوتا ۔ میری گرم سانسیں ، برفیلی ہوائوں کی یخ بستگی کبھی برداشت نہ کر پاتیں اور جاڑے کا پالا میری سانسوں کومنجمد کر چکا ہوتا ۔ سسر صاحب کی طرف سے مجھے اپنا بندوبست کر لینے کا مشورہ دور بہت دور بیٹھے اماں ابا تک بھی پہنچ چکا تھا ۔ ابا کا ایک فون میری جان بچانے کا سبب بن گیا ۔ ابا کے دوست اور ان کی بیگم صاحبہ طوفانی رات میں میری جگہ سے دور ملک کے ایک دوسرے صوبے سے ریسکیو کیلئے پہنچ گئے تھے ۔ انکل اور آنٹی نے مجھے برف کے دریا سے باہر نکالا اور اپنے گھر لے گئے ۔ بحر اوقیانوس سے بحرالکاہل اور شمال کی طرف بحر منجمد شمالی تک پھیلا اپنے طویل ساحل کے ساتھ کل رقبہ کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک پریوں کا دیس بھی کہلاتا ہے ۔ دیس دیس کی سیر کرنے والے اس ملک کو شاندار قدرتی مناظر، بلند و بالا پہاڑوں، گہرے جنگلات ، خوبصورت جھیلوں ، کثیر الثقافتی آبادی ، اعلیٰ معیارِ زندگی اور محفوظ ترین شہروں پرمشتمل ہونے کے باعث جنت نظیر بھی کہتے ہیں ۔ قدرت کا حسین امتزاج دیکھئے کہ اس کے کئی صوبے سرد ، سرد ترین ہیں تو کئی صوبے گرم ، گرم ترین ۔ سردی ایسی کہ درجہ حرارت منفی 40 ڈگری تک گرنا عام بات ہے ۔ ملکی تاریخ کا کم سے کم درجہ حرارت منفی 63 ڈگری سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا جا چکا ہے ۔ گرمی ایسی کہ آئے تو جنگل کے جنگل جل اٹھیں ، آگ پھیلے تو اس کی تپش سے ملحقہ علاقوں کے مکین نقل مکانی پر مجبور ہو جائیں ۔ نوجوان ایک بار پھر سوچوں کی عمیق گہرائیوں میں ڈوب گیا تھا ۔ میں نے بھی دانستہ نہیں ٹوکا ۔ کہنے لگا ٹھکانہ چھوٹا تو میرے لئے گرمی ، گرمی رہی اور نہ سردی ، سردی رہی ۔ بس روٹی روزگار کی تلاش ہی اگلے کئی برسوں تک میرا اوڑھنا بچھونا رہا ۔ ابا کے دوست اور ان کی اہلیہ نے مجھے اپنے دو بیٹوں سے بھی بڑھ کر پیار دیا ۔ اماں ابا کی دعاوں کے بعد اگر میرا کوئی سہارا بنا تو انکل اور آنٹی کی کونسلنگ تھی ، جس نے مجھے دیار غیر میں بیروزگاری کا صدمہ برداشت کرنے ، ناآشنائی کی ناگہانی مصیبت سہنے اور زندگی کے سخت ترین حالات کے تھپیڑوں سے بچنے کا حوصلہ دیا ۔ فرشتہ صفت انکل آنٹی نے مجھ جیسے چھوئی موئی لڑکے کو ایک عالی حوصلہ اور باہمت نوجوان بنا دیا تھا ۔ اب میرے لئے کوئی جسمانی تکلیف ، تکلیف نہ تھی اور ذہنی اذیت ، اذیت نہ تھی اور پھر دنیا نے دیکھا کہ نازونعم میں جوان ہوئے لڑکے نے زندگی کا ہردکھ جھیل لیا لیکن اپنی آنکھوں میں انسو نہیں آنے دیئے لیکن آج ۔۔۔۔۔ نوجوان کی زبان سے یہ فقرہ ادا ہونے کی دیر تھی کہ ایک بار پھر اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے چھاجوں پانی برس رہا ہو ۔ اس کی ہچکی بندھ گئی ، میں نے دلاسہ دیا تو بولا ،،اماں اور ابا آج بے طرح یاد آ رہے ہیں ۔ مجھ جیسا بدنصیب بھی کوئی ہو گا ، جو اپنے ماں باپ کی قبر پر چار پھول نہ چڑھا سکا ۔ بچپن میں اماں ہمیں گلاب کی پتیوں ملے پانی سے نہلاتی تھیں ۔ جسم سے پاوڈر کی خوشبو تو کبھی ختم ہی نہیں ہوئی تھی نا ۔ اماں سردیوں میں رنگ برنگ اون لے کر ٹوپی ، دستانے ، موزے اور سوئیٹر اپنے ہاتھ سے بنتی تھیں ، سب کچھ خوش رنگ اور دیدہ زیب ہوتا ۔ اماں کی ہرسلائی میں ان کا پیار گندھا ہوتا تھا ۔ گرمیوں کے کپڑے ہلکے اور پھولدار ہوتے تھے ۔ اماں ہمارے زیادہ تر کپڑے خود ہی سیتی پروتی تھیں ۔ ان کی سلائی میں بہت صفائی تھی ۔ ہرکپڑا نت نئے ڈیزائن میں تیار کرتیں ۔ اماں کچن میں ہوتیں تو ہماری فرمائش پر آم ، سیب ، کیلا ، بلی اور چاند تارے کی شبیہہ والے پراٹھے بناتیں ۔ ابا چونکہ رات کی ڈیوٹی کرتے لہذا اسکول سے لانا ، لے جانا ، پڑھانا ، لکھانا بھی اماں ہی کی اضافی ذمہ داری تھی ۔ نائٹ ڈیوٹی کی وجہ سے ابا نے ہم بہن بھائیوں کو لمبائی میں ہی بڑھتا دیکھا ، اونچائی میں بڑھتا نہ دیکھ سکے ۔ اماں ہم بچوں کی تفریح کا موقع کبھی ضائع نہ کرتیں ۔ انہیں کار کی محتاجی رہی ، نہ رکشہ ٹیکسی کی ۔ ہمیں گھمانے پھرانے کیلئے وہ کوئی سی بھی دستیاب سواری کو استعمال میں لے آتیں ۔ ہمارے کھانے پینے کیلئے ہمیشہ گھر سے تیار شدہ کھانوں کی ٹوکری تیار کرتیں ۔ سکول ، کالج کی غیر نصابی سرگرمیوں میں ہماری لازمی شرکت کا خاص خیال رکھتیں ۔ ٹیبلوز کی تیاری کروانا ، ضرورت کے مطابق ملبوسات سلوانا ، اماں کا مشغلہ تھا ۔ اماں تو کالج ، یونیورسٹی میں داخلوں سے لے کر امتحانی فارم جمع کروانے تک بھی ہمارے ساتھ ساتھ ہی رہیں ۔ دوسری طرف ابا تو ہم بچوں کو دیکھ کر بس مسکراتے ہی رہتے ۔ البتہ ان کے ہونٹ ہلتے رہتے تھے ، بعد میں معلوم ہوا درود پاک پڑھتے رہنا ابا کی عادت تھی ۔ ان کا ماننا تھا کہ کلام اللہ اور ذکر مصطفی ہی ہم بچوں کی امان کا ضامن ہے ۔ اپنے اماں ابا کو یاد کر کے نوجوان کی آنکھوں سے جیسے آنسووں کا سیلاب امڈتا چلا آ رہا تھا ۔ میں نے اس کی یہ حالت زار دیکھ کر لمحہ بھر کیلئے سوچا ، منوں مٹی کے نیچے سوئے اس نوجوان کے ماں باپ یقینا اپنے بیٹے کی آو و زاری سن تو ضرور رہے ہوں گے ۔ میں نے ایک مرتبہ پھر تسلی دینے کیلئے اس کا کندھا تھپتھپایا اور حوصلہ رکھنے کا کہا تو وہ بولا میری بدنصیبی کا ماتم ، میری زندگی کے ساتھ ہی ختم ہو گا شاید ؟ کہنے لگا ۔۔۔خدمت کا تو موقع ہی نہیں ملا ، ابا کووڈ میں جان ہار گئے ۔ اماں ان کی یاد میں چل بسیں ۔ غم روزگار نے میرے پاوں میں کچھ ایسے چکر باندھ رکھے تھے کہ واپسی کی کچھ خبر ہی نہ رہی ۔ سچی بات تو یہ ہے کہ بندہ خالی پیٹ ہو تو پھر بھی کچھ دیر کیلئے چلنے پھرنے کے قابل رہتا ہے لیکن خالی جیب تو گھر کی دہلیز پار کرنے سے بھی ڈر لگتا ہے ۔ کھانے کو روٹی تو بہت دور کی بات ہے ، پینے کے پانی کا ایک گھونٹ بھی پیسوں کے بغیر نہیں ملتا ۔ اپنے ملک میں تو آج بھی ایک کمائے ، سب کھائیں کا مقولہ چلتا ہے ۔ اپنے وطن سے باہر اپنی جیب ، اپنا پیٹ کا کلیہ چلتا ہے ۔ ابا گئے تو کووڈ نے پوری دنیا کی معشت کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا ۔ اماں گئیں تو گھنٹہ ، گھنٹہ کام کرنے کا معاوضہ چند سکوں میں ہی ملتا تھا اور سکوں سے سمندر پار سفر کرنے کا ٹکٹ خریدنے کی سکت نہ تھی ۔ دونوں دفعہ چپکا بیٹھا رہا اور اپنے آنسو پی لئے ۔ نوجوان نے گہری نظروں سے میری طرف دیکھا جیسے مجھے ٹٹول رہا ہو لیکن میں اسی کی جانب متوجہ تھا ۔ وہ کچھ مطمئن ہو گیا ۔ وہ نجانے کب سے کسی تحمل مزاج سامع کو تلاش کر رہا تھا یا پھر اس کے غم کی شدت اس قدر تھی کہ اس کے سامنے اگر کوئی بت بھی کھڑا ہوتا تو وہ اپنے دل کا غبار نکال لیتا ۔ مجھے ہمہ تن گوش دیکھ کر وہ جیسے دوبارہ سے جی اٹھا کہ کوئی تو ہے جو اس کی تلخیوں کو سننے کا حوصلہ رکھتا ہے ۔ کہنے لگا اماں ابا بچھڑ گئے تو جانئے جیسی میری رہی سہی شناخت بھی ختم ہو گئی ۔ اب وطن واپسی کے تمام دروازے بھی بند ہو گئے تھے ۔ جاتا بھی تو کس کے پاس ؟ کوئی راہ دیکھنے والا رہا نہ کوئی سینے سے لگانے والا رہا ۔ سو پرائے دیس میں اپنی نئی شناخت بنانے اور کچھ کر گزرنے کے جذبے کو مہمیز ملی اور میں نے دن کو رات ، رات کو دن کر دیا ۔ ابا کے دوست کی رہائش شہر سے دور مضافات میں تھی ، کام کاج ملنا محال تھا ۔ شکریہ کے ساتھ انہیں خدا حافظ کہا اور اگلے پڑاو کیلئے نکل کھڑا ہوا ۔ پیٹ کی آگ بجھانے کیلئے کئی کئی پاپڑ بیلنے پڑے ۔ رات کو صرف چند گھنٹوں کی نیند نصیب ہوتی ۔ دن بھر کام کی تلاش میں سڑکیں ناپتا ۔ کبھی ، کسی روز دو چار گھنٹے کی دیہاڑی مل جاتی تو دو وقت کی روٹی کا حیلہ ہو جاتا ۔ کئی کئی دن تو فاقہ مستی میں بھی گزر جاتے ، ایسے میں اپنا گھر یاد آتا تو کچھ وقت کیلئے دسترخوان کی خوشبو مسحور کر دیتی ۔ کیا دن تھے ؟ دستر خوان سجتا تو جب تک سب بہن بھائی بیٹھ نہ لیتے ہم میں سے کوئی بھی اپنی کٹوری میں سالن ڈالتا نہ چنگیر میں روٹی رکھتا ۔ دسترخوان پر ایک ساتھ بسم اللہ ہوتی ، ایک ساتھ الحمدللہ ۔ ذہن کی پردہ سکرین پر گھر والوں کے ساتھ گزرے دنوں کی فلم چلتی تو آنکھیں ضرور بھر آتیں ۔ جذبے صادق ہوں اور کچھ کر گزرنے کا شوق تو پھر آنسو پینا پڑتے ہیں ۔ اپنا آپ منوانے کی جستجو بڑھتی ہی گئی ۔ اب موسم کی سردی اور موسم کی گرمی میرے اندر کے جوار بھاٹا سے کم شدت کی تھی ۔ اب میری تمام حسیات مجھے زندہ رکھنے میں مصروف عمل تھیں ۔ غریب الوطنی نے ثابت کیا کہ اللہ کریم کی نصرت اگرچہ ہر وقت شامل حال رہتی ہے لیکن جہد مسلسل شرط ہے ۔ ہر پڑاو پر کوئی نہ کوئی فرشتہ اگرچہ میرا ہاتھ پکڑنے کیلئے تیار ملا لیکن قدم جمانے کیلئے مجھے خود ثابت قدمی دکھانی پڑی ۔ کسی سٹور ، کسی فیول اسٹیشن یا پھر کسی فوڈ پوائنٹ پر دیہاڑی ملی تو دس دس ، بارہ بارہ گھنٹے سیدھا اپنے پاوں پر کھڑا رہنا پڑتا ۔ دیہاڑی کی ڈیوٹی کے دوران کرسی ، سٹول یا بنچ نام کی کوئی چیزنہیں ملتی ۔ سیدھا ، بالکل سیدھا بت کی طرح کھڑا رہنا پڑتا ہے ۔ پیٹ کے دوزخ میں ایندھن بھرنے کیلئے اپنی ٹانگیں شل کرنا پڑتی ہیں ۔ یوں سمجھ لیں کہ چند سکے کمانے کیلئے گوشت پوست کا آدمی روبوٹ بن جاتا ہے ۔ دوسرا یہ کہ ٹیکس چوری کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ، آپ کو جو کچھ بھی ملتا ہے ، ٹیکس کی کٹوتی پہلے ہی ہو جاتی ہے ۔ پھر آپ کی جیب میں اتنے ڈالر ہی جاتے ہیں جن سے بمشکل روٹی کھا لی جائے ۔ اپنے ملک میں اچھا خاصا ڈگری ہولڈر کہلاتا تھا ۔ یہاں آ کر پتہ چلا کہ ڈگری اپنی اپنی ۔۔۔ اپنی پیشہ ورانہ تعلیم کے بل بوتے نوکری لینے کیلئے ضروری تھا کہ وہاں کی مساوی ڈگری لی جائے ۔ سو دیہاڑی کی نوکری کے ساتھ ساتھ آن لائن کلاسز لینے کا سوچا ۔ آن لائن کلاسز کی فیس کیلئے مشقت دو گنا کرنا پڑی تو ایک سے آدھی روٹی پر آ گیا ۔ دو دو جگہوں پر چند ایک گھنٹوں کی دیہاڑی کرنے لگا ۔ اللہ کریم نے کچھ اس طرح کا خمیر دیا ہے کہ شکایت کبھی زبان تک نہ لایا ۔ یہی وجہ بنی کہ اماں ابا سے بات کرتے ہمیشہ ، اللہ کا شکر ہے ، کہا ۔ سچ تو یہ ہے کہ ماں باپ کے پاس کوئی جادوئی قوت ہوتی ہے جس سے وہ اپنے جگر گوشوں پر گزرنے والی ہر قیامت بھانپ لیتے ہیں ۔ میری ہر مشکل میں بھی اماں ابا کی دعا اور دوا ، دونوں ہمیشہ میرے ساتھ ساتھ رہیں ۔ میں اس کی بلند ہمتی کی داد دیئے بغیر نہ رہ سکا اور میری تحسین آمیز نظروں سے اس کو داد دی ۔ نوجوان کے چہرے پر پہلی بار ہلکی سی مسکراہٹ آئی اور وہ بولا ۔ اسی مشقت خیزی میں دن ، مہینوں میں اور مہینے سالوں میں بدل گئے ۔ اللہ ، اللہ ، منزلوں پر منزلیں مارتا آج دنیا والوں کی نظر میں کامیاب ٹھہرا ہوں ۔ آج میرے پاس گھر ، گاڑی ، بینک بیلنس ، اور باہر کی دنیا کی ہر آسائش موجود ہے ، زندگی آہستہ آہستہ میری رگوں میں واپس لوٹ آئی ہے ۔ مجھے شہریت مل گئی ، نیا پاسپورٹ مل گیا اور کیا چاہئیے ؟ اب مجھے کسی بھی وقت ، کہیں بھی جانے میں کوئی دشواری نہیں لیکن اس سب کی جتنی بھاری قیمت مجھے ادا کرنا پڑی وہ میں جانتا ہوں یا میرا خدا ۔ اللہ کریم کا خاص کرم یہ رہا کہ کسی بھی ناگفتہ بہ حالت میں نماز ، روزے اور تلاوت قرآن پاک کے حوالے سے میرے بچپن کا معمول برقرار رہا ۔ کلمہ قرآن کی طاقت نے مجھے زندہ رکھا اور میرے اندر کی قوت ایمانی نے خود کشی سے دور کئے رکھا ۔ اب میں پھر سے ایک جیتا جاگتا انسان بن گیا تھا جو اپنے فیصلے خود کر سکتا تھا اور میں نے فیصلے کئے ۔ خوبصورت اور ہر آسائش سے مزین اپنا گھر بنا لیا ۔ گھر والی آئی تو ننھے منے بچے بھی آ گئے ۔ بہت خوب! میں نے بہت دیر بعد اس کی کسی بات کے جواب میں دو لفظ بولے تھے ۔ اس کے چہرے پر چمک آئی اور کہنے لگا ۔ برسہا برس کی بھوک کا مارا میرا جسم اب کچھ کچھ فربہ ہو گیا ہے ۔ 24 گھنٹے کی مشقت اب آسودگی میں بدل گئی ہے ۔ کئی سال پہلے دو بیگ لے کر گیا تھا اب بڑے بڑے پانچ بیگ لے کر وطن لوٹا ۔ کسی سے کوئی غرض یا مطلب لے کر نہیں آیا تھا ۔ بس اماں ابا کی قبر کنارے کھڑا ہو کر شکریہ اور ندامت کے دو آنسو بہانے آیا تھا ۔ ارادہ مصمم تھا کہ اب دو قبروں کی مٹھی بھر مٹی لے کر پھر کبھی نہ آنے کیلئے واپس چلا جاوں گا لیکن قدموں میں ایک زنجیر سی بندھی محسوس کرتا ہوں ۔ سوچتا ہوں کہ بوڑھا ہو جاوں گا ، بچے جوان ہو جائیں گے تو کیا ان کے بیاہ کیلئے مجھے بھی وہی کچھ کرنا پڑے گا ؟ جو مجھ پر گزری ، میرے بچوں پر بھی گزرے گی ؟ کیا میرے بچے بھی میری جھوٹی انا کی بھینٹ چڑھ جائیں گے ؟ کیا میرے بچے بھی میری ضد کے باعث اپنی آفاقی شناخت کھو دیں گے ؟ نہیں! ہر گز نہیں! میں اپنے ہاتھوں اپنے بچوں کی شناخت نہیں مٹاوں گا ۔ میں پاکستانی ہوں میرے بچے بھی پاکستانی ہوں گے ۔ مجھے میرے ماں باپ کی قبریں اور میرے وطن کی مٹی زیادہ عزیز ہے اور ، اور ۔۔۔ وہ ہچکیاں لیتا ہوا بولا ۔۔۔۔ مجھے نیلا ، پیلا ، لال ، گلابی پاسپورٹ نہیں چاہئیے ۔ مجھے گرین پاسپورٹ زیادہ عزیز ہے ۔ اب ایک نہیں دو بندے رو رہے تھے اور ہماری چیخیں قبرستان کی خموشی کا سینہ چیرتی دور فضا میں بلند ہو رہی تھیں ۔حضرت سلطان باہو کیا خوب فرما گئے “شالا مسافر کوئی نہ تھیوے ککھ جنہاں تھیں بھارے ہُو”( خدا کرے کوئی مسافر یا پردیسی نہ ہو ، جن کے اعصاب پر اتنی مایوسی اور غم کا بوجھ ہو کہ ہلکے پھلکے تنکے بھی جنہیں پہاڑ جیسے وزنی محسوس ہوں ) رہے نام اللہ کا



