71.9 F
Pakistan
Sunday, October 4, 2026
HomeEntertainmentبھارتی ہم جنس پرست سوشل میڈیا انفلوئنسرکو گولی مار دی گئی

بھارتی ہم جنس پرست سوشل میڈیا انفلوئنسرکو گولی مار دی گئی

بھارت کے شہر امرتسر میں ہفتے کے روز معروف سوشل میڈیا انفلوئنسر اور میک اپ آرٹسٹ میڈ سندھو پر کو فائرنگ کرکے شدید زخمی کر دیا گیا۔ واقعے کے بعد انہیں تشویشناک حالت میں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی حالت کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، جبکہ پولیس نے اس معاملے کی باقاعدہ تفتیش شروع کر دی ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق فائرنگ کے بعد میڈ سندھو سڑک پر زخمی حالت میں پائے گئے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں انہیں خون میں لت پت زمین پر دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ کچھ لوگ ان کے اردگرد موجود ہیں۔ ابتدائی معلومات کے مطابق ان کی حالت انتہائی تشویشناک تھی اور انہیں فوری طور پر اسپتال لے جایا گیا۔ بعض سوشل میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ اسپتال منتقل کیے جانے کے دوران دم توڑ گئے، تاہم حتمی تصدیق نہیں ہوسکی۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور آس پاس کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ پڑتال شروع کر دی ہے تاکہ حملہ آوروں کی شناخت کی جا سکے اور ان کے عزائم کا پتہ لگایا جا سکے۔ میڈ سندھو میک اپ آرٹسٹ اور سوشل میڈیا انفلوئنسر کے طور پر معروف تھے۔ وہ اپنی شناخت کے بارے میں کھل کر بات کرتے تھے اور میک اپ، فیشن، خود اظہار اور صنفی معاملات سے متعلق مواد سوشل میڈیا اور مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر شیئر کرتے تھے۔ رپورٹ کے مطابق انہیں اپنی شناخت اور سوشل میڈیا مواد کی وجہ سے بعض صارفین کی جانب سے ہوموفوبک تنقید کا بھی سامنا رہا، تاہم وہ مسلسل آن لائن متحرک رہے۔ انسٹاگرام پر ان کے 2 لاکھ 26 ہزار سے زیادہ فالوورز تھے۔ وہ پنجابی فلم ’اوئے بھولے اوئے‘ میں بھی اداکاری کر چکے تھے۔ دوسری جانب بھارتی میڈیا کے مطابق سوشل میڈیا پر گولڈی ڈھلوں اور جگگا تارانترن کے نام سے منسوب ایک پوسٹ سامنے آئی ہے جس میں اس حملے کی ذمہ داری لینے کا دعویٰ کیا گیا ہے، تاہم پولیس اور اداروں کی طرف سے اس دعوے کی آزادانہ تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔ پنجاب پولیس کے ذرائع کے مطابق گولڈی برار کا قریبی ساتھی گورپریت سنگھ عرف گولڈی ڈھلون تاحال مفرور ہے اور کئی ماہ جرمنی میں رہنے کے بعد مبینہ طور پر برطانیہ میں چھپا ہوا ہے۔ پولیس کے مطابق اس حملے کے محرکات اور اصل حقائق جاننے کے لیے مختلف زاویوں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

Read full story on Aaj

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments