ٹھٹھہ میں تاریخی مکلی قبرستان کے قریب ایک ایسا قدرتی راز چھپا ہے جو گوگل میپ پر تو نظر آتا ہے، لیکن زمین پر اس کا وجود تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ یہ نایاب گلابی جھیل کبھی اپنے منفرد رنگ کے باعث علاقے کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی تھی، مگر اب پانی کے قدرتی ذرائع ختم ہونے اور عدم توجہی کے باعث جھیل بتدریج خشک ہوتی جا رہی ہے۔ سندھ کا تاریخی شہر ٹھٹھہ میں دنیا کا بڑا تاریخی قبرستان مکلی صدیوں سے خاموشی کی چادر اوڑھے کھڑا ہے۔ اسی شہر خموشاں کی آغوش میں نیشنل ہائی وے کے کنارے، پہاڑوں کے درمیان ایک ایسا رنگ چھپا ہے جو پاکستان میں کہیں اور نہیں ملتا۔ گوگل میپ پر مکلی قبرستان کے سامنے دیکھیں تو ایک نام ابھرتا ہے۔ ”گلابی جھیل“۔ مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ جب اسے زمین پر تلاش کیا جائے تو وہاں گلابی پانی سے بھری وہ جھیل نظر نہیں آتی جس کا نقشے پر ذکر موجود ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جھیل کے پانی کا گلابی رنگ کسی پراسرار یا جادوئی وجہ سے نہیں بلکہ پانی میں موجود مخصوص اقسام کے بیکٹیریا، الجی اور نمک کی زیادہ مقدار کے باعث پیدا ہوتا ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں بھی گلابی رنگ کی جھیلیں موجود ہیں، جن میں آسٹریلیا اور سینیگال کی جھیلیں خاص طور پر مشہور ہیں۔ اسی وجہ سے ٹھٹھہ کی یہ جھیل بھی منفرد قدرتی منظر کے طور پر فطرت کا ایک نایاب شاہکار ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ قدرتی آبی ذرائع میں کمی اور مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے یہ نایاب جھیل آہستہ آہستہ دم توڑ رہی ہے۔ جو مقام کبھی قدرت کے خوبصورت نظارے کے باعث سیاحوں کی جنت بن سکتی تھی آج ویرانی کا منظر پیش کررہی ہے۔ اگر اس علاقے پر توجہ دی جائے اور جھیل کے قدرتی آبی ذرائع کو بحال کرنے کی کوشش کی جائے تو یہ مقام ٹھٹھہ میں سیاحت کے لیے ایک منفرد مرکز بن سکتا ہے۔ مکلی قبرستان اور ٹھٹھہ پہلے ہی تاریخی اور ثقافتی اعتبار سے اہم مقامات ہیں۔ ایسے میں مکلی کے قریب موجود اس نایاب قدرتی مقام کو محفوظ کرنا علاقے کی سیاحتی اہمیت میں مزید اضافہ کر سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ محکمہ سیاحت اور ضلعی انتظامیہ گلابی جھیل کے مقام کا جائزہ لے، اس کے خشک ہونے کی وجوہات معلوم کرے اور ممکنہ بحالی کے لیے اقدامات کرے، تاکہ گوگل میپ پر نظر آنے والا یہ گلابی خواب صرف نقشے تک محدود نہ رہے بلکہ زمین پر بھی ہمیشہ کے لیے محفوظ رہ سکے۔



