72.4 F
Pakistan
Saturday, October 3, 2026
HomeHealthذیابیطس کے مریضوں کو کون سی روٹی کھانی چاہیے؟

ذیابیطس کے مریضوں کو کون سی روٹی کھانی چاہیے؟

شوگر کے مرض میں مبتلا افراد کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ وہ صحت مند رہنے کے لیے کیا کھائیں اور کیا نہ کھائیں۔ روٹی کے بغیر روایتی کھانوں کا تصور کرنا مشکل ہوتا ہے، اس لیے ذیابیطس کی تشخیص کے بعد بہت سے لوگوں کو یہ فکر لاحق ہو جاتی ہے کہ اب انہیں روٹی مکمل طور پر چھوڑنا پڑے گی۔ لیکن ماہرین کے مطابق ایسا کرنا ہمیشہ ضروری نہیں ہوتا۔ روزمرہ خوراک میں روٹی شامل رہ سکتی ہے، تاہم روٹی بنانے کے لیے استعمال ہونے والا آٹا بہت بڑا فرق پیدا کر سکتا ہے کیونکہ کچھ آٹوں میں فائبر اور پروٹین کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جو خون میں شوگر کی سطح کو قابو میں رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ ماہرین غذائیت کے مطابق ذیابیطس کے مریضوں کو اپنی خوراک سے روٹی کو مکمل طور پر نکالنے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے۔ اس کے بجائے ایسے آٹے کا انتخاب کرنا چاہیے جس کا گلائسیمک انڈیکس کم ہو، جس میں فائبر کی مقدار اچھی ہو اور جو خون میں شوگر تیزی سے بڑھانے کے بجائے نسبتاً آہستہ اثر ڈالے۔ طبی ماہرین ذیابیطس کے مریضوں کے لیے چار طرح کی روٹیوں کو بہترین سمجھتے ہیں۔ جو کی روٹی ماہرین صحت کے مطابق جو کی روٹی ذیابیطس کے مریضوں کے لیے ایک مناسب انتخاب ہو سکتی ہے۔ جو میں بیٹا گلوکان نامی ایک خاص حل پذیر فائبر پایا جاتا ہے۔ یہ فائبر ہاضمے کے عمل کو سست کرتا ہے اور جسم میں گلوکوز کے جذب ہونے کی رفتار کو دھیما کرتا ہے، جس سے کھانے کے فوراً بعد شوگر کی سطح تیزی سے نہیں بڑھتی۔ چھلکے والے گندم کے آٹے کی روٹی دوسری قسم عام گندم کی روٹی ہے جس میں چوکر شامل ہو۔ گندم کے دانے سے چوکر کو الگ کیے بغیر آٹا تیار کرنے سے قدرتی فائبر برقرار رہتا ہے، جو ذیابیطس کے مریضوں کے لیے خالی معدے کے بلڈ شوگر کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ تحقیق میں زیادہ فائبر والی خوراک کو ذیابیطس کے مریضوں میں فاسٹنگ بلڈ شوگر سمیت شوگر کنٹرول کے بعض پیمانوں میں بہتری سے جوڑا گیا ہے۔ باجرے اور دیگر ملٹس کی روٹی تیسری قسم باجرہ، جوار اور راگی کی روٹیاں ہیں۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ ان اجناس کا گلائسیمک انڈیکس عام سفید آٹے اور چاول کے مقابلے میں کم ہوتا ہے، اور یہ ٹائپ ٹو ذیابیطس کے مریضوں میں شوگر کے ردعمل کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ کچھ حالیہ جائزوں میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ملٹس سے تیار کردہ غذائیں ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں میں کھانے کے بعد خون میں شوگر کے ردعمل کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہیں۔ بیسن کی روٹی چنے سے تیار ہونے والا بیسن بھی روٹی کے لیے ایک آپشن ہے۔ بیسن میں پروٹین اور فائبر دونوں پائے جاتے ہیں۔ چنے سے بنی اشیاء کھانے کے بعد جسم میں گلوکوز کا تناسب معتدل رہتا ہے، جو کہ صحت کے لیے مفید ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غذا میں فائبر کی اہمیت اس لیے زیادہ ہے کہ یہ کاربوہائیڈریٹس کو ہضم ہونے اور جسم میں جذب ہونے میں وقت لیتا ہے، جس سے خون میں شوگر اچانک تیزی سے اوپر نہیں جاتی۔ اس کے علاوہ کم گلائسیمک انڈیکس والی غذائیں شوگر کے مریضوں کے لیے فائدہ مند ہوتی ہیں، تاہم روٹی کی مقدار، اسے پکانے کے طریقے اور ساتھ کھائی جانے والی دیگر چیزوں کا خیال رکھنا بھی بہت ضروری ہے۔ ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ روٹی کو مکمل طور پر ترک کرنے کے بجائے صرف اس کے درست اور صحت بخش انتخاب پر توجہ دینی چاہیے۔

Read full story on Aaj

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments