80.4 F
Pakistan
Saturday, October 3, 2026
HomeBreaking Newsڈگری اصلی ہے تو دکھاؤ، گالیاں کیوں۔۔۔

ڈگری اصلی ہے تو دکھاؤ، گالیاں کیوں۔۔۔

مان لیا کیپٹن صفدر نے غلط الزام لگایا ہے۔ مان لیا کہ احسن بھون کی ڈگری جعلی نہیں ہے مگر یہ کیسے مان لیا جائے کہ غلط الزام تراشی کے جواب میں رد عمل ایسی ننگی گالیاں جو ضبط تحریر میں نہ لائی جا سکیں، تہذیب و شائستگی کا لائق تحسین رویہ سمجھا جائے وہ بھی اس شخص کی طرف سے جس پر الزام لگایا ہی نہیں گیا حالانکہ اس الزام تراشی پر اچھا یا برا ردعمل احسن بھون کی جانب سے آنا چاہیے تھا۔میں نے کیپٹن صفدر کی گفتگو ایک سے زائد مرتبہ سنی ہے اس ساری گفتگو میں کیپٹن صفدر نے ایک مرتبہ بھی میاں داؤد کا نام نہیں لیا۔ کیا اس کے باوجود یہ بات تعجب خیز اور ناقابل فہم نہیں ہے کہ قانون کی اصلی ڈگری رکھنے والے میاں داؤد نے تہذیب و شائستگی کی تمام حدیں پار کر دیں ، دوسرا شخص امجد حسین شاہ ہے۔احسن بھون کا نام تو سنا ہے مگر یہ امجد حسین شاہ کون ہے اس نام سے نا آشنا ہوں۔ البتہ میاں داؤد کو اچھی طرح جانتا ہوں کیونکہ یہ وکیل بننے سے پہلے صحافی تھا تب اس نے لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری پر کرپشن کے الزامات لگائے تھے جس پر اس کا پریس کلب میں داخلہ بند کر دیا گیا تھا حالانکہ اس وقت میرا میاں داؤد سے کوئی خاص تعلق نہیں تھا لیکن میں پریس کلب کے ان پانچ ارکان میں شامل تھا جنہوں نے اس اقدام کی اس بنیاد پر مخالفت کی تھی کہ صفائی کا موقع دیئے بغیر داخلہ پر پابندی درست فیصلہ نہیں ہے۔ بعد ازاں میاں داؤد نے بعض ججوں کی کرپشن کے خلاف عملی جدوجہد کی تو اس پر برادرم سعید چوہدری سے اس کے لیے ستائشی انداز میں گفتگو ہوتی رہی۔برادرم رضوان رضی نے بھی اس کی تائید و حمایت کی۔یہ ساری کتھا بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جس شخص کے حوالے سے اچھے خیالات سنے اور خوبصورت تصویر تراشی ہو جب اس کی زبان سے انتہائی نازیبا ،غیر شائستہ اور ناقابل بیان الفاظ سننے کو ملے تو ذہن کو دھچکا ضرور لگا ہے۔ارے چھوٹے بھائی! تم احسن بھون اور امجد حسین شاہ تینوں وکیل ہو کیپٹن صفدر کے خلاف کذب بیانی کا کیس کر سکتے تھے اس کے بجائے ننگی گالیوں کا رویہ اختیار کرنا یہ شکوک پیدا کرتا ہے کہ جعلی ڈگری کے الزام میں کچھ ایسا تو ہے جس نے پٹڑی سے اتار دیا ہے۔ بھائی سیدھی سی بات ہے احسن بھون اور امجد حسین شاہ میاں داؤد کے ساتھ ایک پریس کانفرنس کریں جس یونیورسٹی سے ڈگری لی ہے وہاں سے تصدیقی سرٹیفکیٹ حاصل کریں اور سب کے سامنے رکھ دیں، دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ ساری دنیا کے سامنے یہ سرخرو اور کیپٹن صفدر کی سبکی ہو جائے گی بلکہ یہ معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل میں لے جا کر کیپٹن صفدر نے خود ان کے لیے آسانی پیدا کر دی ہے۔تینوں وکلائ ہیں وہاں جا کر خود کو سچا ثابت کردیں۔ تاہم میاں داؤد نے جس انداز سے احسن بھون اور امجد حسین شاہ کی حمایت کی ہے یہ نادان دوست کا کردار ہے۔ کیونکہ جعلی ڈگری کا الزام کیپٹن صفدر کا انفرادی قدم ہے اس کا (نون )لیگ سے مجھے کوئی تعلق نظر نہیں آیا اس کے باوجود میاں داؤد کا احسن بھون اور امجد حسین شاہ کے حامیوں کو یہ ہدایت نامہ جاری کرنا کہ (نون) لیگ کا جو شخص نظر آئے اسے “جوتے مارو “اس پر” تھوک دو”۔ کیا اس سے (ن) لیگ کے تمام وابستگان بالخصوص وکلائ اپنی بے توقیری محسوس نہیں کریں گے۔ اعظم نذیر تارڑ جو احسن بھون کا بڑا حامی ہے اس کا تعلق بھی (نون) لیگ سے ہے تو کیا جب اعظم نذیر تارڑ احسن بھون کے امیدوار کو ووٹ دینے آئے گا تو اس کے حامی اسے جوتے ماریں گے اور اس پر تھوکیں گے۔اس انتہائی درجہ ناشائستگی پر میں میاں داؤود کی مذمت ہرگز نہیں کرتا بلکہ یہ خواہش ضرور رکھتا ہوں کہ جو پہلے صحافت میں مجھ سے جونیئر تھا اور اب ماہ و سال میں جونیئر ہے اس نے کرپشن کے خلاف مہم جوئی سے جو عزت کمائی اسے برقرار رہنے دے۔لمحہ موجود میں عالی ظرفی کا منیارہ نور قصہ یاد آگیا۔ خلیفہ وقت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تہجد کی نماز کے لیے مسجد میں گئے۔ اس لمحے ہوا کے جھونکے سے مسجد کا چراغ گل ہو گیا۔ اچانک اندھیرے کے باعث خلیفہ وقت کی ٹھوکر صحن میں لیٹے شخص کو لگی جس پر اس کے منہ سے نکلا “کیا تو اندھا ہے “خلیفہ نے نہایت نرمی سے جواب دیا “نہیں بھائی میں اندھا نہیں ہوں “محافظ نے تلوار نکالی تو اسے سختی سے روک دیا محافظ نے کہا یا امیر المومنین اس شخص نے گستاخی کی ہے۔اپنی ذات میں تمام حکومتی اختیارات رکھنے والے حاکم نے محافظ کو جواب دیا اس نے سوال کیا تھا ’’کیا تو اندھا ہے‘‘میں چونکہ اندھا نہیں ہوں اس لیے جواب دے دیا بھئی ،میں اندھا نہیں ہوں۔ اس میں گستاخی کہاں سے آگئی۔ یہ تو حقیقی طور پر بڑے لوگوں کی باتیں ہیں۔ ہم کہاں وہ کہاں۔ بہرحال کیپٹن صفدر نے الزام لگایا ڈگری جعلی ہے وہ فوری طور پر اصلی ڈگری سامنے لے آتے بات کا بتنگڑ ہی نہ بنتا۔

Read full story on Nai Baat

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments