73 F
Pakistan
Friday, October 2, 2026
HomeHealthہارٹ اٹیک کے بعد جِم جانا کب شروع کریں؟

ہارٹ اٹیک کے بعد جِم جانا کب شروع کریں؟

دل کا دورہ پڑنے کے بعد اکثر لوگوں کے ذہن میں سب سے بڑا سوال یہ ہوتا ہے کہ وہ دوبارہ اپنی معمول کی زندگی کب شروع کر سکتے ہیں اور ورزش یا جم میں کب واپس جا سکتے ہیں۔ ماہرین امراض قلب کے مطابق دل کے مریضوں کے لیے جلد بازی نقصان دہ ہو سکتی ہے، لیکن مناسب نگرانی اور مرحلہ وار بحالی کے ذریعے دوبارہ فعال زندگی کی طرف لوٹنا ممکن ہے۔ دل کا دورہ پڑنے کے بعد سب سے پہلے ڈاکٹرز کی کوشش ہوتی ہے کہ مریض کو فوری علاج فراہم کیا جائے تاکہ اس کی جان بچائی جا سکے۔ اس میں دوائیں، انجیوگرافی، انجیوپلاسٹی یا ضرورت پڑنے پر بائی پاس سرجری شامل ہو سکتی ہے تاکہ دل کی متاثرہ شریان میں خون کی روانی بحال کی جا سکے۔ علاج کے بعد مریض کو کچھ وقت آئی سی یو میں رکھا جاتا ہے اور پھر وارڈ منتقل کیا جاتا ہے، جہاں سے دل کی بحالی یعنی کارڈیک ری ہیبلیٹیشن کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق دل کے دورے کے بعد مریض کو مکمل آرام پر رکھنے کے بجائے مناسب وقت پر ہلکی حرکت شروع کروائی جاتی ہے۔ کارڈیک ری ہیبلیٹیشن ٹیم مریض کو بتاتی ہے کہ کن کاموں سے بچنا ہے اور کون سی سرگرمیاں محفوظ ہیں۔ مریض عام طور پر سب سے پہلے یہی سوال کرتے ہیں کہ ”میں اپنی عام زندگی میں کب واپس آ سکتا ہوں؟“ اس لیے بحالی کے عمل میں اس سوال کا جواب دینا بہت اہم ہوتا ہے۔ این ڈی ٹی وی کے مطابق اس بارے میں ماہر امراض قلب ڈاکٹر کے پی سری ہری داس کہتے ہیں کہ دل کے دورے کے بعد مریض کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لیے علاج کا سلسلہ فوراً شروع کر دیا جاتا ہے۔ مریض کو عام طور پر دل کے دورے کے 24 سے 48 گھنٹے کے اندر ہلکی چہل قدمی شروع کروانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پہلے کمرے میں چلایا جاتا ہے، تاکہ اس کا جسم دوبارہ حرکت میں آ سکے۔ پھر فزیوتھراپسٹ کی نگرانی میں ہسپتال کے کوریڈور میں آہستہ چلنے کی مشق کروائی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ سانس کی ہلکی ورزشیں اور آسان جسمانی حرکات بھی سکھائی جاتی ہیں۔ گھر جانے سے پہلے کن باتوں کا خیال رکھا جاتا ہے؟ مریض کو ہسپتال سے ڈسچارج کرنے سے پہلے دیکھا جاتا ہے کہ وہ بغیر سینے کے درد یا سانس پھولنے کے تقریباً 100 میٹر چل سکتا ہے یا نہیں۔ اس کے علاوہ اسے آہستہ رفتار سے ایک یا دو منزل سیڑھیاں چڑھنے کا بھی کہا جا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق گھر جانے کے بعد مریض کو خاص طور پر بھاری وزن اٹھانے اور سخت ورزش سے بچنے کا مشورہ دیا جاتا ہے، کیونکہ اس سے دل پر غیر ضروری دباؤ پڑ سکتا ہے۔ گھر پہنچنے کے بعد واک سب سے بہتر ورزش دل کے دورے کے بعد ابتدائی دنوں میں واک کو سب سے محفوظ ورزش قرار دیا جاتا ہے۔ مریض کو عام طور پر پہلے ہفتے میں آہستہ رفتار سے تقریباً آدھا کلومیٹر سے ایک کلومیٹر تک چلنے کا مشورہ دیا جاتا ہے کیونکہ اس سے دل کی صحت بہتر ہوتی ہے۔ فاصلے اور رفتار میں اضافہ مریض کی حالت کے مطابق آہستہ آہستہ کیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ہلکے نوعیت کے دل کے دورے کے بعد کچھ افراد ایک سے دو ہفتوں میں اپنی معمول کی سرگرمیوں کی طرف واپس آ سکتے ہیں، لیکن ہر مریض کی حالت مختلف ہوتی ہے۔ دو سے تین ہفتوں بعد ہلکی یوگا جیسی سرگرمیاں شروع کی جا سکتی ہیں، تاہم ایسی ورزشوں سے احتیاط کرنی چاہیے جن میں زیادہ جھکنا یا گردن کی بار بار حرکت شامل ہو۔ جم جانے میں کتنے ہفتے انتظار کرنا چاہیے؟ جب بات جم جانے یا زیادہ محنت والی ورزش کی آتی ہے تو ماہرین کے مطابق دل کے دورے کے فوراً بعد جم جانا مناسب نہیں۔ عام طور پر چھ سے آٹھ ہفتوں تک جم سے پرہیز کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد بھی پہلے صرف ہلکی پھلکی چہل قدمی یا ٹریڈمل پر ہلکی واک کی اجازت دی جاتی ہے۔ وزنی چیزیں اٹھانے یا زیادہ محنت والی ایکسرسائز کے لیے آٹھ سے دس ہفتے کا انتظار کرنا ضروری ہے۔ جو لوگ دل کے دورے سے پہلے سخت ورزش یا کھیلوں میں حصہ لیتے تھے، وہ بھی ڈاکٹر کے مشورے اور مکمل جانچ کے بعد آہستہ آہستہ اپنی پرانی روٹین میں واپس آ سکتے ہیں۔ان کے لیے ڈاکٹرز بعض اوقات ٹریٹمل ٹیسٹ کرتے ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ دل دوبارہ زیادہ محنت برداشت کرنے کے قابل ہے یا نہیں۔ ماہرین امراض قلب کے مطابق اگر مریض ٹیسٹ کے دوران سینے کے درد، تکلیف یا سانس کی شدید کمی کے بغیر ورزش مکمل کر لیتا ہے تو وہ آہستہ آہستہ اپنی سرگرمیاں بڑھا سکتا ہے، لیکن بھاری وزن اٹھانے میں احتیاط ضروری ہے۔ زیادہ سخت کھیلوں کے لیے زیادہ وقت درکار ماہرین کا کہنا ہے کہ عام جم ورزش چھ سے آٹھ ہفتوں کے بعد شروع کی جا سکتی ہے، جبکہ زیادہ سخت کھیلوں یا ہائی انٹینسٹی سرگرمیوں میں واپسی کے لیے عموماً دو سے تین ماہ لگ سکتے ہیں۔ کچھ ایسے افراد بھی ہیں جو دل کا دورہ پڑنے کے بعد دوبارہ دوڑنے جیسے کھیلوں میں واپس آئے، لیکن یہ واپسی آہستہ آہستہ تربیت اور طبی نگرانی کے ذریعے ممکن ہوتی ہے۔ واک، یوگا اور مراقبہ دل کے لیے فائدہ مند ماہرین کے مطابق دل کی صحت کے لیے واک ایک بہترین ورزش ہے۔ وقت کے ساتھ اس کی رفتار بڑھائی جا سکتی ہے۔ پارک میں چہل قدمی نہ صرف جسم بلکہ ذہنی سکون کے لیے بھی فائدہ مند ہو سکتی ہے۔ کارڈیک ری ہیبلیٹیشن کا مقصد صرف مریض کو ورزش کے قابل بنانا نہیں بلکہ اس کا اعتماد بحال کرنا بھی ہے تاکہ وہ محفوظ طریقے سے اپنی معمول کی زندگی گزار سکے۔ دل کے دورے کے بعد دوبارہ فٹنس کی طرف واپسی ممکن ہے، لیکن اس کے لیے صبر، ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل اور مرحلہ وار ورزش ضروری ہے۔ ہر مریض کے لیے واپسی کا وقت مختلف ہو سکتا ہے، اس لیے اپنی جسمانی حالت کے مطابق فیصلہ کرنا ہی سب سے محفوظ راستہ ہے۔

Read full story on Aaj

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments