69.6 F
Pakistan
Thursday, October 1, 2026
HomeHealthبڑھاپا ایک بیماری ہے؟ سائنس دانوں نے علاج پر کام شروع کردیا

بڑھاپا ایک بیماری ہے؟ سائنس دانوں نے علاج پر کام شروع کردیا

سائنس دان اب اس سوال پر سنجیدگی سے تحقیق کر رہے ہیں کہ آیا بڑھاپے کو صرف عمر بڑھنے کا ایک قدرتی مرحلہ سمجھنے کے بجائے طب میں ایک ایسے عمل کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے جس کے حیاتیاتی اثرات کو سست یا تبدیل کیا جا سکے۔ اس تحقیق کا مقصد صرف انسان کی عمر بڑھانا نہیں بلکہ زندگی کے ایسے برسوں میں اضافہ کرنا ہے جن میں انسان صحت مند اور فعال رہ سکے۔ سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ جسم کے خلیوں اور مختلف حیاتیاتی نظاموں میں بتدریج تبدیلیاں آتی ہیں۔ یہی تبدیلیاں بعد میں ذیابیطس، دل کی بیماریوں، بعض اقسام کے کینسر اور دیگر دائمی بیماریوں کے خطرے میں اضافہ کر سکتی ہیں۔ اسی لیے سائنس دان یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اگر بڑھاپے کے اثرات کو بیماری شروع ہونے سے پہلے ہی کم کیا جائے تو کیا ان بیماریوں سے بچاؤ ممکن ہو سکتا ہے۔ نیویارک کے البرٹ آئن اسٹائن کالج آف میڈیسن کے انسٹی ٹیوٹ فار ایجنگ ریسرچ کے ڈائریکٹر نیر برزِلائی کے مطابق بڑھاپے کی اپنی حیاتیات ہے اور یہی حیاتیاتی عمل مختلف بیماریوں کو جنم دینے میں کردار ادا کرتا ہے۔ ان کے خیال میں مستقبل کی طب میں ہر بیماری کو الگ الگ علاج کرنے کے بجائے عمر بڑھنے سے وابستہ ان بنیادی حیاتیاتی عمل کو ہدف بنایا جا سکتا ہے جو کئی بیماریوں میں مشترک ہوتے ہیں۔ تاہم سائنس دان اس معاملے میں احتیاط بھی برت رہے ہیں۔ کولمبیا یونیورسٹی کے میل مین اسکول آف پبلک ہیلتھ اور رابرٹ این بٹلر کولمبیا ایجنگ سینٹر سے وابستہ ماہر وبائیات ڈینیئل بیلسکی کا کہنا ہے کہ ابھی تک انسانوں میں یہ ثابت نہیں ہوا کہ بڑھاپے کی حیاتیات میں مداخلت کرکے صحت مند زندگی کے دورانیے کو یقینی طور پر بڑھایا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق شواہد اس امکان کی طرف ضرور اشارہ کر رہے ہیں اور اب ایسے انسانی کلینیکل ٹرائلز کی جانب پیش رفت ہو رہی ہے جن سے اس خیال کو باقاعدہ طور پر جانچا جا سکے گا۔ جانوروں پر ہونے والی تحقیق نے اس شعبے میں امید پیدا کی ہے۔ تجربات میں راؤنڈ وارم اور چوہوں سمیت مختلف جانداروں میں عمر بڑھنے سے متعلق حیاتیاتی عمل کو تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ بعض تجربات میں ادویات، ورزش، کیلوریز کی مقدار محدود کرنے اور دیگر طریقوں کے ذریعے خلیوں میں عمر بڑھنے سے وابستہ تبدیلیوں کے جمع ہونے کی رفتار کم ہوئی اور بعض جانوروں کی عمر میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔ لیکن جانوروں میں کامیابی کو انسانوں پر براہ راست لاگو نہیں کیا جا سکتا۔ بیلسکی کے مطابق انسانوں میں ابھی ایسا کلینیکل ثبوت موجود نہیں جس سے یہ ثابت ہو کہ عمر بڑھنے کے حیاتیاتی عمل کو تبدیل کرکے انسان کے صحت مند زندگی گزارنے کے برس بڑھائے جا سکتے ہیں۔ اصل چیلنج اب یہی ہے کہ ان تجربات کے نتائج کو انسانوں میں قابلِ اعتماد طریقے سے جانچا جائے۔ جسم کی حیاتیاتی عمر کیسے معلوم کی جائے؟ سائنس دان اب صرف یہ نہیں دیکھ رہے کہ کسی شخص کی عمر کتنی ہے، بلکہ یہ جاننے کی کوشش بھی کر رہے ہیں کہ اس کا جسم حقیقت میں کس رفتار سے بوڑھا ہو رہا ہے۔ مثال کے طور پر دو افراد کی عمر 50 سال ہو سکتی ہے، لیکن ان کے جسموں میں عمر بڑھنے سے متعلق حیاتیاتی تبدیلیوں کی رفتار ایک جیسی نہیں ہوتی۔ اس مقصد کے لیے محققین عمر بڑھنے کی حیاتیاتی علامات تلاش کر رہے ہیں جو جسم میں عمر بڑھنے کے عمل کی پیمائش کر سکیں۔ ان میں ایک اہم شعبہ ایپی جینیٹکس ہے۔ اس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ جسم کے جینز کس طرح فعال یا غیر فعال ہوتے ہیں، جبکہ بنیادی ڈی این اے کی ترتیب تبدیل نہیں ہوتی۔ ڈی این اے سے جڑے مخصوص کیمیائی اجزا، جنہیں میتھائل گروپس کہا جاتا ہے، کا جائزہ لے کر سائنس دان یہ اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ انسانی جسم میں وقت گزرنے کے ساتھ کس قسم کی تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ اس طرح ممکنہ طور پر جسم کی حیاتیاتی عمر کے بارے میں زیادہ درست معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ بیلسکی کا ’فاسٹ‘ منصوبہ بھی اسی سمت میں کام کر رہا ہے۔ اس تحقیق میں جسم سے متعلق مختلف اقسام کے حیاتیاتی ڈیٹا کو ایک ساتھ دیکھا جا رہا ہے، جن میں پروٹین، میٹابولائٹس اور سفید خون کے خلیوں میں موجود ایپی جینیٹک تبدیلیاں شامل ہیں۔ مقصد ایسے حیاتیاتی اشاریے تلاش کرنا ہے جو یہ بتا سکیں کہ کسی خاص علاج، ورزش یا دوسری مداخلت سے عمر بڑھنے کے عمل پر کیا اثر پڑ رہا ہے۔ تاہم یہاں بھی ایک اہم سوال ابھی باقی ہے۔ اگر کسی علاج سے جسم میں کسی حیاتیاتی علامت میں بہتری آ جائے تو کیا اس کا لازمی مطلب یہ ہوگا کہ انسان زیادہ عرصے تک صحت مند بھی رہے گا؟ سائنس دان ابھی اس تعلق کو مکمل طور پر ثابت نہیں کر سکے۔ سب سے بڑا مسئلہ وقت کا ہے عمر بڑھنے سے متعلق تحقیق میں سب سے بڑی مشکلات میں سے ایک یہ ہے کہ حقیقی نتائج سامنے آنے میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں۔ اگر سائنس دان یہ جاننا چاہیں کہ 40 یا 50 سال کی عمر میں شروع کیا گیا کوئی علاج کسی شخص کو کئی دہائیوں بعد دل کی بیماری، ذیابیطس یا کسی اور دائمی بیماری سے محفوظ رکھتا ہے یا نہیں، تو اس کے لیے ممکنہ طور پر 20 یا 30 سال تک لوگوں کا جائزہ لینا پڑ سکتا ہے۔ اسی وجہ سے محققین ایسے حیاتیاتی اشاریوں کی تلاش کر رہے ہیں جو مستقبل میں صحت کے نتائج کی پیش گوئی کر سکیں۔ اگر کوئی مخصوص بایومارکر قابلِ اعتماد انداز میں یہ بتانے کے قابل ہو جائے کہ کسی علاج سے مستقبل میں بیماری کا خطرہ کم ہوگا یا صحت مند زندگی کے برس بڑھیں گے تو اسے کلینیکل ٹرائل میں ایک متبادل پیمانہ، یعنی سَرَگِٹ اینڈ پوائنٹ کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس سے کئی دہائیوں تک انتظار کیے بغیر بعض علاجوں کے اثرات کا جائزہ لینے میں مدد مل سکتی ہے، اگر یہ تعلق سائنسی طور پر مضبوط ثابت ہو جائے۔ بڑھاپے کے علاج کے لیے خصوصی کلینکس تحقیق کے ساتھ ساتھ دنیا کے مختلف حصوں میں ایسی طبی سہولتیں بھی سامنے آ رہی ہیں جو صحت مند لمبی زندگی پر توجہ دیتی ہیں۔ ان مراکز میں عام طبی معائنے کے ساتھ جسم اور صحت کا زیادہ تفصیلی جائزہ لیا جاتا ہے اور بعض اوقات مریض کے لیے مخصوص طرزِ زندگی یا طبی اقدامات تجویز کیے جاتے ہیں۔ امریکا میں میو کلینک نے 2023 میں ’ہیلتھی لانجیویٹی کلینک‘ شروع کیا، جبکہ سنگاپور کے نیشنل یونیورسٹی ہیلتھ سسٹم نے بھی اسی نوعیت کا پروگرام قائم کیا ہے۔ ان مراکز کا بنیادی تصور یہ ہے کہ صرف بیماری سامنے آنے کے بعد علاج کرنے کے بجائے صحت کے ان عوامل پر پہلے سے توجہ دی جائے جو عمر کے ساتھ بیماریوں کے خطرے کو بڑھا سکتے ہیں۔ تاہم اس شعبے کے پھیلاؤ کے ساتھ اس کی نگرانی اور ضابطہ بندی پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ لانجیویٹی میڈیسن میں پیش کی جانے والی تمام ٹیکنالوجیز اور علاج یکساں طور پر ثابت شدہ نہیں ہیں، اس لیے سائنسی شواہد اور طبی معیار کو واضح رکھنا ضروری ہے۔ ابوظہبی کے محکمہ صحت نے اکتوبر 2024 میں ہیلتھی لانجیویٹی میڈیسن سینٹرز کے لیے ایک باقاعدہ لائسنسنگ نظام متعارف کرایا۔ محکمہ صحت کے مطابق یہ اپنی نوعیت کا پہلا باقاعدہ فریم ورک تھا جس کے ذریعے اس شعبے کے لیے ایک مخصوص طبی زمرہ اور مراکز کے لیے عملی معیار مقرر کیے گئے۔ انسٹی ٹیوٹ فار ہیلتھئر لیونگ ابوظہبی کو ریاستی طور پر نامزد خصوصی ”ہیلتھی لانجیویٹی میڈیسن سینٹر“ کے طور پر لائسنس دیا گیا۔ اس ادارے کے چیف آپریٹنگ افسر ایلن بوسٹن کے مطابق خلیوں کی سطح پر عمر بڑھنے کے عمل کو سمجھنے سے مستقبل کی طب میں نمایاں تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔ ان کے مطابق اگر سائنس دان ان عملوں کو بہتر طور پر سمجھ لیں تو ایسی ادویات، امیونوتھراپیز اور ٹیکنالوجیز تیار کرنا ممکن ہو سکتا ہے جو عمر بڑھنے سے متعلق بعض حیاتیاتی راستوں کو سست یا ممکنہ طور پر تبدیل کر سکیں۔ لیکن اس شعبے کے ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ صحت مند زندگی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا انتظار ضروری نہیں۔ بیلسکی کے مطابق وہ اقدامات جن کے فائدے کے شواہد پہلے ہی موجود ہیں، عام لوگوں کی پہنچ میں ہیں۔ مناسب نیند، باقاعدہ جسمانی سرگرمی، متوازن غذا اور سماجی روابط صحت مند زندگی کے لیے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس تحقیق کا موجودہ مرحلہ اس لیے اہم ہے کہ سائنس دان پہلی مرتبہ بڑھاپے کو صرف کیلنڈر پر گزرنے والے برسوں کے طور پر نہیں بلکہ جسم میں ہونے والی قابلِ پیمائش حیاتیاتی تبدیلیوں کے مجموعے کے طور پر سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ بڑھاپا واقعی ایک بیماری کی طرح قابلِ علاج بن چکا ہے۔ فی الحال سائنس دان اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے مرحلے میں ہیں کہ کیا عمر بڑھنے کے بنیادی حیاتیاتی عمل کو محفوظ، مؤثر اور ثابت شدہ طریقے سے تبدیل کرکے انسانوں کی صحت مند زندگی کے برس واقعی بڑھائے جا سکتے ہیں۔

Read full story on Aaj

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments