66.8 F
Pakistan
Wednesday, September 30, 2026
HomeEnvironmentلاکھوں انسانوں کی بھوک مٹانے والا درخت صرف ایک ہی علاقے میں...

لاکھوں انسانوں کی بھوک مٹانے والا درخت صرف ایک ہی علاقے میں کیوں اگایا جاتا ہے؟

دنیا بھر میں خوراک کی کمی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے خطرات کے درمیان سائنس دانوں نے ایک ایسے حیرت انگیز پودے کی نشاندہی کی ہے جو کروڑوں لوگوں کا پیٹ بھرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق اس پودے کو ’انسیٹ‘ کہا جاتا ہے جو دیکھنے میں کیلے کے پودے جیسا بڑا ہوتا ہے اور اسے جھوٹا کیلا بھی کہا جاتا ہے۔ یہ پودا مشرقی افریقہ کے ملک اتھوپیا میں بڑی تعداد میں کاشت کیا جاتا ہے اور وہاں کے لاکھوں افراد کی بنیادی خوراک کا اہم حصہ ہے۔ یہ پودا خشک سالی اور بیماریوں کے خلاف زبردست قوت مدافعت رکھتا ہے اور اس کی پیداواری صلاحیت بھی بہت زیادہ ہے۔ انسیٹ کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ کم پانی میں بھی زندہ رہ سکتا ہے اور کئی بیماریوں کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس پودے کے صرف 60 پودے پانچ افراد پر مشتمل خاندان کو پورے ایک سال تک خوراک فراہم کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بار بار نئی فصل لگانے کے بجائے کئی سال تک زمین میں رہ سکتا ہے۔ یہی خصوصیت اسے ان فصلوں سے مختلف بناتی ہے جنہیں ہر سال دوبارہ کاشت کرنا پڑتا ہے۔ اس پودے کا تنا اور جڑ کا حصہ زمین کے اندر گڑھوں میں ابال کر روٹی اور دیگر پکوان بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس کا پھل کھانے کے قابل نہیں ہوتا کیونکہ اس میں گودے کے بجائے سخت سیاہ بیج ہوتے ہیں، اسی وجہ سے اسے عام طور پر خوراک کے لیے اس کے تنوں اور جڑوں کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ پھر دنیا بھر میں اس کی کاشت کیوں نہیں ہوتی؟ سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ اگر انسیٹ اتنا فائدہ مند ہے تو یہ صرف ایتھوپیا کے ایک محدود علاقے میں ہی کیوں کاشت کیا جاتا ہے؟ تحقیق سے وابستہ ماہرین کے مطابق اس کی کئی وجوہات ہیں۔ ایتھوپیا پودوں کے جینیاتی وسائل اور قدرتی تنوع کے تحفظ کے لیے پودوں کے مواد کو بیرون ملک منتقل کرنے پر سخت پابندیاں عائد کرتا ہے۔ اس کی ایک وجہ مقامی حیاتیاتی وسائل کے غلط استعمال یا ’بایو پائریسی‘ کا خدشہ بھی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایتھوپیا سے باہر موجود جنگلی انسیٹ کی اقسام بھی وہ غذائی خصوصیات نہیں رکھتیں جو ایتھوپیا میں صدیوں سے تیار کی جانے والی گھریلو اقسام میں موجود ہیں۔ کاشت اور تیاری بھی آسان نہیں انسیٹ کی مقبولیت میں ایک رکاوٹ اس کی کاشت اور خوراک تیار کرنے کا مشکل طریقہ بھی ہے۔ اس کی کٹائی خاصی محنت طلب ہے اور زیادہ تر کام خواتین کسان کرتی ہیں۔ ایتھوپیا کی کئی جامعات اس کام کو آسان بنانے کے لیے مشینیں تیار کر رہی ہیں، لیکن ان کا بڑے پیمانے پر استعمال ابھی شروع نہیں ہوا۔ اس کے علاوہ انسیٹ کو خوراک میں تبدیل کرنے کے لیے مقامی لوگوں کی صدیوں پرانی مہارت درکار ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کا ذائقہ بھی ہر شخص کو فوراً پسند نہیں آتا۔ موسمیاتی تبدیلی کے دور میں نئی امید ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کی خوراک کا زیادہ انحصار چند بڑی فصلوں پر ہے، جس سے کیڑوں، بیماریوں اور موسم کی تبدیلی جیسے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں انسیٹ جیسی کم استعمال ہونے والی فصلیں خوراک کے نظام کو مزید مضبوط بنانے میں مدد دے سکتی ہیں۔ تاہم ایتھوپیا میں بھی انسیٹ کی کاشت کم ہونے کے آثار سامنے آئے ہیں۔ 2025 میں کیے گئے ایک مطالعے میں جنوب مغربی ایتھوپیا کے 400 سے زیادہ کسانوں میں سے تقریباً 60 فیصد نے بتایا کہ حالیہ دہائیوں میں ان کی زمین کا وہ حصہ کم ہوا ہے جہاں انسیٹ اگایا جاتا تھا۔ کئی خاندانوں میں اس کے استعمال میں بھی کمی دیکھی گئی۔ ماہرین کے مطابق اگر دنیا مستقبل میں بڑھتی آبادی، غذائی قلت اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا مقابلہ کرنا چاہتی ہے تو صرف چند مشہور فصلوں پر انحصار کافی نہیں ہوگا۔ انسیٹ جیسی کم معروف فصلیں بھی اس مسئلے کا ایک ممکنہ حصہ بن سکتی ہیں، بشرطیکہ ان کی مقامی اہمیت، کسانوں کے مفادات اور حیاتیاتی تحفظ کو ساتھ لے کر آگے بڑھا جائے۔

Read full story on Aaj

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -
Google search engine

Most Popular

Recent Comments