کتے کا کاٹنا بظاہر معمولی زخم لگ سکتا ہے، لیکن اگر ریبیز کا خطرہ ہو تو ابتدائی چند منٹ انتہائی قیمتی ہوتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق دنیا بھر میں انسانوں میں ریبیز کی ننانوے فیصد بیماریاں کتوں کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ریبیز ایک خطرناک وائرس ہے جو دماغ اور اعصابی نظام پر حملہ کرتا ہے اور جب اس کی علامات ظاہر ہو جائیں تو اس کا بچاؤ تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ لیکن اچھی بات یہ ہے کہ اگر وقت پر علاج اور ویکسین لگوا لی جائے تو اس موذی بیماری سے بچا جا سکتا ہے۔ کتے کے کاٹنے کے فوراً بعد کیا کریں؟ سب سے پہلا کام زخم کو اچھی طرح دھونا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق متاثرہ جگہ کو صابن اور بہتے ہوئے پانی سے کم از کم 15 منٹ تک اچھی طرح دھونا چاہیے۔ صرف زخم پر پانی ڈال کر فوراً صاف کر دینا کافی نہیں۔ مسلسل دھونے سے جانور کے لعاب اور ممکنہ وائرس کو زخم کی جگہ سے کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ زخم دھونے کے بعد اگر دستیاب ہو تو آیوڈین والی یا وائرس کو ختم کرنے والی مناسب دوا استعمال کی جا سکتی ہے۔ مرچ یا کوئی تیز چیز زخم پر نہ لگائیں کتے کے کاٹنے یا خراش کے بعد بعض لوگ گھریلو ٹوٹکوں کے طور پر مرچ پاؤڈر، پودوں کا رس، تیزاب، الکلی یا دوسری جلن پیدا کرنے والی چیزیں زخم پر لگا دیتے ہیں۔ ایسا نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ روایتی ٹوٹکے بیماری کو نہیں روکتے بلکہ الٹا جلد اور زخم کے ٹشوز کو مزید نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ زخم دھونے کے بعد جلد از جلد ڈاکٹر یا اینٹی ریبیز مرکز سے رابطہ کرنا چاہیے تاکہ ماہر زخم کی نوعیت دیکھ کر فیصلہ کر سکے کہ ویکسین یا دوسری دوا کی ضرورت ہے یا نہیں۔ ہر کتے کے چھونے پر ویکسین ضروری نہیں ہر کتے کے کاٹنے پر ریبیز کا ٹیکہ لازمی نہیں ہوتا کیونکہ اس کی مختلف قسمیں ہیں۔ اگر جانور صرف پیار سے چھو لے یا چاٹ لے تو عام طور پر ویکسین کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر کتے نے کھلی جلد کو ہلکا سا کاٹا ہو یا ایسی معمولی خراش لگائی ہو جس سے خون نہ نکلا ہو تو زخم دھونے کے ساتھ فوری ریبیز ویکسین کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اس کے برعکس اگر کتے کے کاٹنے یا خراش سے جلد پھٹ جائے، خون نکلے، یا متاثرہ جانور کا لعاب پہلے سے موجود زخم یا آنکھ، ناک اور منہ جیسی جھلیوں تک پہنچے تو یہ زیادہ خطرناک ایکسپوژر سمجھا جاتا ہے۔ ایسے حالات میں زخم دھونے کے ساتھ فوری ویکسین اور بعض صورتوں میں ریبیز امیونوگلوبیولن بھی درکار ہوتا ہے۔ ریبیز امیونوگلوبیولن کیا ہے؟ ریبیز امیونوگلوبیولن ایسی فوری حفاظتی اینٹی باڈیز فراہم کرتا ہے جو اس وقت تک عارضی تحفظ دیتی ہیں جب تک ویکسین جسم میں اپنا مدافعتی ردعمل پیدا کرتی ہے۔ جن افراد کو پہلے ریبیز کی ویکسین نہیں لگی اور انہیں شدید نوعیت کا ایکسپوژر ہوا ہو، ان میں ڈاکٹر ریبیز امیونوگلوبیولن دینے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ اسے تربیت یافتہ طبی عملہ عموماً زخم کے اندر اور اردگرد مناسب طریقے سے لگاتا ہے۔ ہر مریض کو امیونوگلوبیولن کی ضرورت نہیں ہوتی۔ پہلے سے ریبیز ویکسین کا مکمل مناسب کورس لینے والے افراد میں بھی نئی صورت حال کے بعد اس کی ضرورت عموماً نہیں ہوتی۔ ویکسین کی خوراک اور دنوں کا شیڈول بھی ہر شخص کے لیے ایک جیسا نہیں ہوتا، اس لیے خود سے شیڈول بنانے کے بجائے ڈاکٹر یا اینٹی ریبیز کلینک کی ہدایات پر عمل کرنا چاہیے۔ حاملہ خواتین اور بچوں کے لیے بھی ویکسین دی جا سکتی ہے اگر ریبیز کا خطرہ موجود ہو تو حمل، دودھ پلانے، کم عمر ہونے یا زیادہ عمر ہونے کی وجہ سے علاج روکنا نہیں چاہیے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ضرورت پڑنے پر بچوں، حاملہ خواتین اور کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد کو بھی ریبیز سے بچاؤ کا علاج دیا جا سکتا ہے۔ البتہ بعض افراد میں ویکسین کا طریقہ کار اور طبی نگرانی مختلف ہو سکتی ہے۔ کتے کے کاٹنے سے صرف ریبیز کا خطرہ نہیں کتے کے کاٹنے سے ریبیز کے علاوہ زخم میں بیکٹیریا کی وجہ سے انفیکشن بھی ہو سکتا ہے۔ بعض شدید زخموں میں پٹھوں، اعصاب یا جسم کے دوسرے حصوں کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اسی لیے ڈاکٹر مریض کی حالت اور ویکسینیشن ہسٹری دیکھ کر ٹیٹنس سے بچاؤ کی ویکسین یا دیگر علاج تجویز کر سکتا ہے۔ کچھ زیادہ خطرے والے زخموں میں بیکٹیریا سے ہونے والے انفیکشن سے بچنے کے لیے اینٹی بایوٹک بھی دی جا سکتی ہے۔ زخم پر ٹانکے لگانے کا فیصلہ بھی ڈاکٹر کو کرنا چاہیے، خاص طور پر ایسے زخموں میں جہاں ریبیز کا خطرہ موجود ہو۔ کتا صحت مند نظر آئے تو بھی احتیاط ضروری ہے صرف یہ دیکھ کر مطمئن نہیں ہونا چاہیے کہ کتا بظاہر صحت مند ہے۔ اگر مناسب ہو تو کتے کو ماہرین کی نگرانی میں 10 دن تک رکھا اور مشاہدہ کیا جا سکتا ہے، لیکن اس دوران متاثرہ شخص کے علاج میں غیر ضروری تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ ڈاکٹر ریبیز کے خطرے کا فیصلہ کتے کی ویکسینیشن، اس کے رویے، کاٹنے کی نوعیت، مقامی حالات اور جانور کی قابلِ اعتماد نگرانی ممکن ہونے یا نہ ہونے سمیت مختلف عوامل کو دیکھ کر کرتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ انسان میں ریبیز کی علامات ظاہر ہونے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ اس مرحلے پر بیماری تقریباً ہمیشہ جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔ ریبیز سے بچاؤ کے لیے کتوں کی ویکسینیشن بھی ضروری ریبیز پر قابو پانے کے لیے صرف انسانوں کو کاٹنے کے بعد ویکسین دینا کافی نہیں۔ عالمی ادارہ صحت اور ماہرین کتوں کی بڑے پیمانے پر ویکسینیشن، بیماری کی نگرانی، عوامی آگاہی اور انسانوں کے لیے بروقت علاج کو بھی اہم قرار دیتے ہیں۔ اس لیے کتے کے کاٹنے یا ایسی خراش کی صورت میں جس سے جلد متاثر ہوئی ہو، زخم کو کم از کم 15 منٹ تک صابن اور بہتے پانی سے دھونا چاہیے، گھریلو نقصان دہ چیزیں لگانے سے گریز کرنا چاہیے اور فوری طور پر طبی مرکز سے رابطہ کرنا چاہیے۔ یہ فیصلہ کہ مریض کو ریبیز ویکسین، امیونوگلوبیولن، ٹیٹنس ویکسین یا اینٹی بایوٹک کی ضرورت ہے، زخم کی نوعیت اور مریض کی سابقہ ویکسینیشن سمیت طبی صورتحال دیکھ کر ڈاکٹر ہی کرے گا۔



